بنکاری نظام نے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو وسیع کر دیا،سراج الحق

بنکاری نظام نے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو وسیع کر دیا،سراج الحق

لاہور(این این آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کرپشن کی سیاست نے ملک میں نظریاتی سیاست کو کمزور کردیاہے، سیاست کے اصولوں کو پامال کیا جارہاہے ، پہلے پولیس والے چھاپے مارتے تھے تو سیاستدانوں کے گھر سے کتابیں ملتی تھیں اب ڈالر ملتے ہیں ، اب ملک میں منی لانڈرنگ سکھانے والے ادارے کھل گئے ہیں ، جعلی کمپنیاں ، فاؤنڈیشنز چوری کی دولت بیرون ملک منتقل کرنے کے آسان ذرائع پیش کررہی ہیں ، ایمنسٹی سکیم نے بھی کرپشن کے نت نئے طریقے ایجاد کیے ہیں ، کالادھن سفید کرنے کے باقاعدہ حکومت کی طرف سے اشتہار دیے جاتے ہیں ، بنکوں کے نظام نے ملک میں کرپشن کو فروغ دیاہے ، کوئی غریب مکان بنانے ، اپنے بچوں کو پڑھانے یا جائز کاروبار کرنے کے لیے درخواست دے تو اسے قرضہ نہیں ملتا جبکہ نامی گرامی قرض خوروں کو اربوں روپے قرضہ دے دیا جاتاہے جو کبھی واپس نہیں ملتا ، بنکاری نظام نے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو وسیع کر دیاہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت احتساب کے نعرے پر آئی تھی مگر احتساب کو متنازعہ بنانے اور مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کر سکی ۔ احتساب میں اب تک ایک روپیہ بھی ریکور نہیں ہوسکا ۔ حکومت بیرون ملک پڑی چوری کی دولت واپس لانے کے لیے کوئی میکنزم نہیں بناسکی ۔ ملک سے باہر پڑے 375 ارب ڈالر وپس آجاتے تو حکمرانوں کو کسی کے سامنے قرض کے لیے ہاتھ پھیلانے پڑتے نہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ذلت آمیز شرائط ماننا پڑتیں۔ انہوں نے کہاکہ احتساب کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تو یہ ملک و قوم کے ساتھ سنگین مذاق ہوگا۔ موجودہ حکومت بھی پرویز مشرف کی طرح احتساب کے نعرے لگا رہی ہے جس نے احتساب کا نعرہ لگایا مگر کیا کچھ نہیں ۔

مزید : صفحہ آخر