کسی وزیر باتدبیر کی خواہش پر زرداری مراد شاہ یا فریال کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا : نیب

کسی وزیر باتدبیر کی خواہش پر زرداری مراد شاہ یا فریال کو گرفتار نہیں کیا جا ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) کے ترجمان کا کہنا ہے کسی وزیر با تدبیر کی خواہش پر آصف ز ر د ا ر ی،وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ یا محترمہ فریال تالپور کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ترجمان کا کہنا ہے نیب کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقول تا حال نہیں ملی اور سپریم کورٹ کے مصدقہ فیصلے کی روشنی میں قانون راستہ خود بنائے گا لہٰذا سست روی کے تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہیں ۔ تر جما ن نیب کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات کے بیانات اور انٹرویو کے متن پیمرا سے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں دیکھا جائے گا یہ بیا نا ت نیب پر بلاواسطہ یا بالواسطہ اثر انداز ہونے کی کوشش تو نہیں۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے نیب کے اعلامیہ پر شاعرانہ انداز میں تنقید کی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر نیب اعلامیہ پوسٹ کرتے ہوئے معروف شاعر مرزا غالب کا شعر ’ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ۔ ۔۔ تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے‘ لکھا۔ یاد رہے گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کراچی آمد پر میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا آصف زرداری اور فریال تالپور کو گرفتار کرکے تفتیش آگے بڑھائی جانی چاہیے، پارلیمنٹ میں اجلاس تھا ورنہ نیب کیلئے اچھاموقع تھا چھاپہ ما ر کر سب کو پکڑ لیتے۔نیب آئین و قانون کے مطابق اپنا کام کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ قانونی موشگافیوں کو حل کرنے میں وقت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔نیب نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی وزیرکے متعلقہ کیس کے سلسلہ میں نیب کومعافی مانگنے ، کیس بند کرنے اور کیس واپس لینے کے میڈیا کو دئیے گئے تمام بیانا ت اور انٹرویوز کا قانون کے مطابق نہ صرف مکمل گہرائی سے جائزہ لیا جائے بلکہ اورنیب کے قانون کے مطابق کارروائی کرنے سے پہلے اس بات کو دیکھا جائے کہ نیب کومعافی مانگنے اور متعلقہ کیس بند کرنے اور واپس لینے کاکیو ں کہا جا رہا ہے؟ ۔ قانون کے مطابق یہ دیکھنا بھی مقصود ہے کہیں یہ بیانات اور انٹرویوز نیب پر بلاواسطہ یا بلواسطہ اثر انداز ہونے کی کوشش تو نہیں اور کہیں یہ بیانات قانون کے مطابق نیب کی شفاف تفتیش کی راہ میں حائل تو نہیں ہو رہے؟نیب ہر قسم کے دباؤ کو یکسر مستردکرتا ہے اوریہ یقین دلاتا ہے نیب کی تمام تحقیقات صرف اورصرف آئین و قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جاتی ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

نیب

مزید : صفحہ اول