چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ ،وائس چیئرمین پاکستان بارتنقیدی تقریر کرینگے

چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ ،وائس چیئرمین پاکستان بارتنقیدی تقریر کرینگے

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر آج 17جنوری کوہونیوالے فل کورٹ ریفرنس میں پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ تعریفی الفاظ میں لپٹی تنقیدی تقریر کریں گے ۔اس سلسلے میں پاکستان بارکونسل کے رکن بیرسٹر راحیل کامران شیخ کی طرف سے اپنے وائس چیئرمین کو بھجوایا گیانوٹ انکی تقریر کا حصہ ہوگا،جس میں چیف جسٹس کو مخاطب کرکے کہا گیاہے کہ جناب کی بھرپور قیادت میں عدلیہ کا ادارہ اتنا مضبوط ہوگیاہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ، عدلیہ کی طاقت کے سوتے بنیادی طور پر انصاف اورغیر شفافیت کے چشموں سے پھوٹے ہیں،جیسا کہ آپ نے عدالتی اختیارات کے ذریعے ریاست کے کسی بھی دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کی ،آپ کے پورے دور ،خاص طور پر2018ء میں آپ کی عدالت میں جو سائل اور وکلاء پیش ہوئے ،ان کے ساتھ عزت واحترام کا سلوک کیا گیا،آپ نے ان کی عزت نفس کے تحفظ کے لئے خصوصی اہتمام فرمایا،شہریوں کی عزت کے تحفظ کے بنیادی آئینی حق کے بارے میں آپ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا،جیسا کہ آپ کی تقریروں سے ظاہرہے ،آپ نے اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کیاکہ سپریم کورٹ انصاف کی فراہمی کا آخری ادارہ ہے ،اس لئے تمام فریقین کو شنوائی کا برابر موقع دیاگیا،ہمیں یقین ہے کہ اس بابت رائے شماری کے لئے اگر وکلاء اور سائلین سے رجوع کرلیا جائے تو آپ ناراض نہیں ہوں گے ،ہم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ممنون ہیں کہ وہ عدلیہ میں ججوں کی تقرریوں کے عمل میں تبدیلی لائے ، اس سے قبل یہ عمل شفاف نہیں تھا،اب بہت تبدیلی آگئی ہے ۔جوڈیشل کمشن کے ترمیمی رولز سے وکلاء حتیٰ کہ سول ججوں اور جوڈیشل مجسٹریٹوں میں امید کی کرن جاگی ہے کہ انہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا جج بننے کا موقع مل سکتاہے ۔ضلعی عدلیہ بہت فعال ہوگئی ہے ، اب سنیارٹی اور تعلقات کام نہیں آئیں گے بلکہ پرفارمنس کی بنیاد پر تقرریاں ہوں گی ۔آپ نے عدلیہ کا بے لاگ احتساب کرکے ایک اور خواب پوراکیا،آپ پاکستان بار کونسل کے مسلسل مطالبے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی تمام تفصیلات سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے ذریعے منظر عام پر لائے اور عوام کو بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف کس نوعیت کی شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں آئیں،کتنی تعداد میں فیصلے ہوئے اورکتنی شکایات متعلقہ ججوں کے ریٹائر ہونے کی بنا پر غیر موثر ہوئیں۔ویب سائٹ پر یہ بھی بتایا گیا کہ ججوں کے خلاف تمام شکایات کے فیصلے کردیئے گئے ہیں اور کوئی شکایت زیرالتواء نہیں ،اب ججوں کے سر پر کوئی تلوار لٹکتی نہیں رہ گئی ۔آپ کی قیاد ت میں عدلیہ ریاست کا سب سے طاقتور ادارہ بن گیا، اب یہ کتناطاقتور ادارہ ہے ،اس کا اظہاربرطانیہ میں ڈیمز کی فنڈریزنگ کی تقریب میں ظفر اقبال کلانوری کرچکے ہیں اوریہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوچکاہے ۔

مزید : صفحہ اول