سپریم کورٹ کا نعلین پاک کی بازیابی کیلئے میڈیا پر تشہیر کا حکم

سپریم کورٹ کا نعلین پاک کی بازیابی کیلئے میڈیا پر تشہیر کا حکم

اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ نے بادشاہی مسجد سے حضور اکرمؐ کے نعلین مبارک کی چوری سے متعلق کیس میں نعلین پاک کی بازیابی کیلئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تشہیر کا حکم د تے ہوئے کہا کہ پولیس ہر تین ماہ بعد تبرکات سے متعلق رپورٹ جمع کروائے، پنجاب حکومت باقی تبرکات کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے۔، تبرکات کو محفوظ بنانے کیلئے شیشوں کے باکس میں محفوظ کریں، معاملے میں جو بھی معاونت درکار ہوگی عدالت فراہم کرے گی، سارے پیسے اوقاف کے پاس چلے جاتے ہیں، پھر اوقاف والے پیسے کھا جاتے ہیں، لوگ وہاں پیسے عقیدت سے دیتے ہیں، ان پیسوں سے مزارات کے کام ہونے چاہیں،پنجاب حکومت آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لے اور بتائے کہ مزارات پر جمع شدہ رقم کس مد میں خرچ ہونی چاہیے۔ بدھ کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ نعلین مبارک جب سے چوری ہوئے درخواست گزار ننگے پا ؤ ں پھر رہا ہے، یہ تو ایسی نایاب چیز ہے جس کی قیمت ہی کوئی نہیں، اس معاملے کو ہم نے نہیں چھوڑنا، اپنے آرڈر میں لکھوادیں گے، پولیس بتادے کہ آئندہ کیا کرنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مذہبی فریضہ سمجھ کر اشتہارات چلانے چاہییں، ہمیں لگ رہا ہے کہ پولیس صحیح سمت میں کام کر رہی ہے، جو تبرکات ہمارے پاس موجود ہیں پنجاب حکومت ان کی حفاظت کرے اور تبرکات کو کیڑا لگنے سے محفوظ کیے جانے کے اقدامات کیے جائیں۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ پولیس ہر تین ماہ بعد تبرکات سے متعلق رپورٹ جمع کروائے اور پنجاب حکومت باقی تبرکات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔عدالت نے کہا کہ تبرکات کو محفوظ بنانے کے لیے شیشوں کے باکس میں محفوظ کریں اور اس معاملے میں جو بھی معاونت درکار ہوگی عدالت فراہم کرے گی۔

مزید : کراچی صفحہ اول