ڈاؤ یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام دوسرے فیملی میڈیسن کلینک کا افتتاح

ڈاؤ یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام دوسرے فیملی میڈیسن کلینک کا افتتاح

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ نیشنل انسٹیٹیو ٹ آف چائلڈ ہیلتھ جے پی ایم سی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈ یو ویسکولر ڈیزیز کو صوبے کے ماتحت واپس لانے کے لیے حکومتِ سندھ عدالت میں نظر ثانی درخواست دائر کرنے کے لیے ماہرینِ قانون سے مشاورت کر رہی ہے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکو لر ڈیزیز کا بل منظور کردیا ہے، اس کا ہیڈ کواٹرسکھر میں بنایا جائے گا، جبکہ رواں سال سندھ بھر میں 40میں سے 31ٹراما سینٹر فعال ہوجائیں گے، جو کراچی کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر کی طرز کے ہونگے، یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنز کے ہجرت کالونی میں قائم ہونے والے دوسرے فیملی میڈیسن کلینک کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہیں، ا س موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی، پرو وائس چانسلر ز پروفیسر ڈاکٹر محمد مسرور ، پروفیسر ڈاکٹر خاور سعید جمالی، ڈائریکڑ اسپورٹس ڈاؤ یونیوسٹی پروفیسر سید مکرم علی، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ فیملی میڈیسن اسسٹنٹ پروفیسرانعم ارشد بیگ، ڈائریکٹر فنانس مسٹر ندیم شکور جویری سمیت سینئر فیکلٹی ممبرز موجود تھے۔اس سے پہلے صوبائی وزیرِ صحت نے تختی کی نقاب کشائی کرکے کلینک کا باقاعدہ افتتاح کیا ، ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے پیشِ نظر یقیناًکوئی حکمتِ ہوگی، جبکہ سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ اسپتال چلانا وفاق کے بس کی بات نہیں، ساری دنیا کے سامنے مثال موجود ہے کہ جب امراض قلب اور امراض اطفال کے قومی ادارے اور جناح اسپتال صوبہ سندھ کے کنٹرول میں آئے ، ان کا انتظام بہترین ہوگیا، وفاقی حکومت کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے جتنے ہم خرچ کر سکتے ہیں، 8ارب روپے سالانہ خرچ کر رہے ہیں، ہم سندھ کے عوام کی صحت کے متعلق فکر مند ہیں، کہ وفاق اب کیسے ان اداروں کا انتظام چلائے گا، اب وفاق سے ہی کہیں گے جب تک کوئی نیا فیصلہ نہیں آتا رواں مہینے سے ہی ان اداروں کو سنبھالے ، ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سمیت دیگر امور کی انجام دہی کرے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پرائمری ہیلتھ کیئر کے انتظامات کی کوشش کر رہی ہے، جیسا کہ ڈاؤ فیملی میڈیسن کلینک سول اسپتال جیسے سیکنڈری اداروں کی حالت بھی بہتر بنائی جائے گی، مگر ان بڑے اداروں پر سے مریضوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط کہا جائے گا، لوگ نزلہ کھانسی علاج کے لیے بھی سول اسپتال جاتے ہیں، انہیں گھر کے دروازے پر یہ سہولت ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ اسپتالوں کی حالت بہتر بنائی جارہی ہے، ہمیں احساس ہے کہ مطلوبہ معیار کے مطابق سہولتیں نہیں دے پا رہے، مگر مسلسل بہتری کی کوششیں جاری ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں صحت بعض امور کے ایم سی کے پاس ہیں، اس لیے وہ بھی صحت و صفائی کے حوالے سے اقدامات کر یں، حکومتِ سندھ تعاون کر رہی ہے اور کریگی۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل سپرینڈیٹس کے تقرر کے حوالے سے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے، بہر حال انٹریو کے بعد ان کا تقرر کیا جائے گا، اورچارج دینے سے پہلے آغاخان اسپتال سے انہیں ہاسپٹل مینجمنٹ کی ٹریننگ دی جائے گی۔اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا کہ جدید دنیا میں پرائمری ہیلتھ کئیر کی سب سے پیلی چیک پوسٹ فیملی میڈیسن کا شعبہ ہے، پہلے ہی مرحلے پر بیماریوں کے حملے کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر