جماعت اسلامی انتخابی دائرے تک محدود نہیں ، ایک نظریہ ہے : حافظ نعیم الرحمن

جماعت اسلامی انتخابی دائرے تک محدود نہیں ، ایک نظریہ ہے : حافظ نعیم الرحمن

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی صرف انتخابی دائرے تک محدود نہیں یہ ایک نظریہ اور تحریک ہے ، جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے ظلم و ناانصافی اوور بلنگ و لوڈ شیڈنگ، نادرا کے نارواسلوک ، پانی کی قلت اور بلدیاتی معاملات سمیت دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے مثالی جدوجہد اور کراچی کے عوام کی بھرپور ترجمانی کی ہے ،جماعت اسلامی عوام میں آج بھی موجود ہے اور عوامی مسائل کے حل کی جدوجہد میں مصروف ہے ۔ جماعت اسلامی کا مؤقف عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا نے مثبت کردار ادا کیا ہے ۔صدر مملکت اور گورنر سندھ سمیت موجودہ حکومت کے مشیر اور وزراء کا تعلق کراچی شہر سے ہے لیکن اس کے باوجود کراچی کو اس کا حق نہیں دیا جارہا ،70فیصد ریونیو دینے والے شہر کے ساتھ سوتیلے پن کاسلوک کیا جارہا ہے ۔ 5فروری کشمیر ڈے کے حوالے سے شہر بھر میں مہم چلائی جائے گی اور حکمرانوں کو جھنجھوڑنے اور عوام کے کشمیریوں کے ساتھ محبت کے رشتے کو اجاگر اور مزید مستحکم و مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ 5فروری کو حسن اسکوائر پر عظیم الشان ’’کشمیر کنونشن ‘‘ کا انعقاد کیا جائے گا جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق خصوصی خطاب کریں گے ۔ کنونشن میں بچے ، بوڑھے ، مرد ، خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کراچی کے شعبہ اطلاعات کے نئے دفتر میں منتقلی اور تزئین آرائش کے بعد افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پررکن صوبائی اسمبلی و امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی عبد الرشید ،نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، امراء اضلاع یونس بارائی اور عبد الجمیل ، سکریٹری کراچی زاہد عسکری ، ڈپٹی سکریٹریز اطلاعات کراچی نذیر الحسن اور صہیب احمد ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ، صحافی و کیمرہ مین بھی موجود تھے ۔تقریب کا افتتاح تلاوت کلام پاک سے ہوا ، تلاوت حمزہ عالم صدیقی نے کی جبکہ سینئر صحافی واجد انصاری نے نعت رسول مقبول ؐ کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔تقریب میں سکریٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری نے افتتاحی کلمات پیش کیے ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس پروقار تقریب میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افرادکی آمد پر شکر گزار ہیں ، جماعت اسلامی کی سیاسی و رفاعی سرگرمیاں اور شہری مسائل کو عوام تک پہنچانے کے لیے ابلاغ کا شعبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ، جماعت اسلامی کا مؤقف عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا نے مثبت کردار ادا کیا ہے ۔جماعت اسلامی نے کراچی میں ہر طرح کے عوامی مسائل کو اجاگرکیا اور ان کے حل کی ہر ممکن کوشش اور جدودجہد کی جس کے باعث عوام میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ۔جماعت اسلامی کی میڈیا سے تعلق جماعتی یا ذاتی غرض کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہے اوراخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی میڈیا سے رابطہ استوار کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ میڈیا انڈسٹریز کی بدترین صورتحال قابل تشویش ہے ،میڈیا مالکان کو جب لاکھوں ،کروڑوں روپے کے اشہتارات ملتے ہیں اس وقت یہ اپنے ورکروں کو مراعات نہیں دیتے لیکن جونہی منافع میں کمی واقع ہوتی ہے تو ورکروں کی تنخواہ تاخیر سے دی جاتی ہیں اور چھانٹی کے نام پر ورکروں کا اخراج کیا جاتا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی حکومت میڈیا کے بغیر عوام میں پذیرائی نہیں حاصل کرسکتی ، اسی میڈیا کے ذریعے سے ہی تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکا دیا گیا جونہی حکومت بنی تو موجودہ حکومت نے سب سے پہلا وار میڈیا پر کیا جس کے نتیجے میں میڈیا کے ورکرز کو بے روزگارکیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ صوبے میں اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور مرکز میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت ہیں ، صدر مملکت اور گورنر سندھ سمیت کئی وزراء کا تعلق کراچی سے ہی ہے لیکن اس کے باوجود کراچی جو ملک کا 70فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے اس کا حق نہیں دیا جارہا ، سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں ، میئر کراچی سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں سپریم کورٹ سے زیادہ مستعد ہو کر دکانیں اور مارکیٹیں مسمار کرنے میں لگے ہوئے تھے ہزاروں تاجروں اور شہریوں کو بے روزگار کردیا گیا ہے لیکن جب چائنا کٹنگ کی بات کی گئی تو فوراً سے آپریشن روک دیا گیا ۔ حکومتی پارٹیوں نے کراچی کو مال یتیم سمجھ کر لوٹنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے کسی کوکراچی کے شہریوں کا کوئی خیال نہیں ہے۔چائنا کٹنگ ، میدانوں اور پارکوں پر قبضے کے خلاف سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے پٹیشن دائر کرائی تھی اور آج بھی ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ چائنا کٹنگ سمیت قبضہ شدہ پلاٹوں ، میدانوں اور پارکوں کو واگزار کرایا جائے اور انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے K4منصوبہ پیش کیا اس وقت اس کی لاگت 16ارب روپے تھی لیکن آج 9سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی K4منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور اس کی لاگت ایک کھرب سے زائد مالیت تک پہنچ گئی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر