سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کا اجلاس،گوادر میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کا اجلاس،گوادر میں جاری ترقیاتی ...
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کا اجلاس،گوادر میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کا گوادر میں چیئرپرسن نزہت صادق کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس دوران مطالبات سامنے رکھے گئے کہ پورٹ کو مکمل طور پر فنکشنل ہونا چاہیے تاکہ کاروبارو میں تیزی آ سکے ، بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے اور فیری سروس کی سہولت بھی فراہم کی جائے اور اس کیلئے این او سی بھی جاری کیا جائے ۔ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ کراچی ، گوادر ، چار بہار ،د بئی اور مقسط سروس شروع کی جائے ۔

اجلاس میں قائمہ کمیٹی کو گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین خان جمالدینی اور گوادر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سجاد حسین نے اپنے ترقیاتی کاموں کی بریفنگ دی۔اجلاس میں خوش بخت شجاعت، شازیہ رضوی، رانا محمود الحسن، اکرم دشتی بھی اجلاس میں موجود تھے۔

اجلاس میں نیشنل پارٹی کے سینیٹرکہدہ اکرم دشتی نے گوادر میں میٹھے پانی کے بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مکران میں دریائے دشت ، سوڈ ڈیم ، شادی کور ڈیم ، ہنگول اور دریائے بسول سمیت دیگر ڈیم بن جانے چاہئیں ، ان ڈیموں کی تعمیر کے باعث علاقہ سر سبز و آباد ہو گا ۔ انہوں نے بتایا کہ مکران میں کوئی کارخانہ نہیں ، ماہی گیر ی ہی آمدن کا بڑا وسیلہ ہے ۔کہدہ اکرم دشتی کا کہناتھا کہ ماہی گیروں کی گزر گاہ گودی اور ہاوسنگ سکیم پر کام نہیں ہو رہا ہے جس کے باعث وہ احتجاج پر مجبور ہیں ۔

چینی پورٹ ہینڈلنگ کمپنی کے چیئرمین Zhung Baozhong Chairman of COPHC بھی اجلاس میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام بھی تعاون کرنے والے ہیں، یہاں GPA اور GDA بھی ہماری مدد کر رہے ہیں لیکن سیکورٹی رسک کی وجہ سے ہم شہر میں نہیں جا سکتے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم اینڈ افیئرز نے پورٹ اور گوادر کے ترقیاتی کاموں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نزہت صادق نے کہا کہ گوادر پورٹ کے ترقیاتی کام دیگر میگا منصوبے سست رفتاری کے شکار ہیں،گوادر کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جن وجوہات کے باعث گوادر کے ترقیاتی کام سست روی کے شکار ہیں، ان اسباب کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ گوادر پورٹ ترقی کرے گا تو اس کا براہ راست فائدہ سی پیک اور اس پورے خطے کو ہوگا۔

ارکان قائمہ کمیٹی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ گوادر پانی اور بجلی سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور پانی کے بغیر گوادر کی ترقی ممکن نہیں، گوادر میں پالیسیاں اچھی بنی ہیں لیکن عملدرآمد کا عمل سست ہے۔اجلاس کے آخر میں ماہی گیروں کے نمائندے یونس انور نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ساحل پر 20 فٹ کی گزرگاہ ماہی گیروں کو قبول نہیں، اس میں ایک کشتی کا گزرنا مشکل ہے،200فٹ کی گزرگاہ گودی اور ماہی گیر کالونی ہماری ڈیمانڈ ہے۔قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن نزہت صادق نے وعدہ کیا کہ وہ ان علاقوں کا دورہ کریں گی اور ایک اچھے و مثبت حل کی جانب جانا ہوگا۔

مزید : قومی