”جسٹس ثاقب نثار کا جوڈیشل ایکٹوازم ،جوڈیشل ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل ہو گیا“آئینی ماہر عرفان قادر کا جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ پر حیران کن تبصرہ

”جسٹس ثاقب نثار کا جوڈیشل ایکٹوازم ،جوڈیشل ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل ہو گیا“آئینی ...
”جسٹس ثاقب نثار کا جوڈیشل ایکٹوازم ،جوڈیشل ڈکٹیٹرشپ میں تبدیل ہو گیا“آئینی ماہر عرفان قادر کا جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ پر حیران کن تبصرہ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ جوڈیشل ایکٹوازم کو ایک طرف رکھ کر جسٹس ثاقب نثار کو لیگل کیسز کے تناظر میں دیکھا جائے تو انہوں نے اچھے فیصلے بھی کیے اور وہ وکیل بھی اچھے تھے ۔

نجی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ “میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوڈیشل ایکٹوازم جسٹس افتخار چوہدری نے شروع کیا اور اس کو جسٹس ثاقب نثار نے انتہا پر پہنچا دیا ،وہ ”جوڈیشل اوور ریچ “سے بڑھ کر ”جوڈیشل ڈکٹیٹر شپ“تک چلے گئے ،جسٹس ثاقب نثار نے اپنی حدود سے بھی آگے جا کر کام کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ نئے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ جو ڈیشل فریم ورک پر توجہ دیں گے ،جس جوڈیشل ایکٹوازم کو جسٹس ثاقب نثار نے انتہا پر پہنچا یا ،جسٹس کھوسہ نے اس کو ایک تقریر سے ہی ختم کردیا ۔عرفان قادر نے مزید کہا کہ جسٹس ثاقب نثار عدالت کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکے کیونکہ وہ اپنے ساتھی ججز کا بھی اختلاف برداشت نہیں کر سکے۔

مزید : قومی