’’ چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ پر نرم ترین الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ۔۔۔ ‘‘

’’ چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ پر نرم ترین الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے ...
’’ چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ پر نرم ترین الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ۔۔۔ ‘‘

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ناقدین نے بھی ان پر تنقید کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کی بنیادی انسانی حقوق پر کام کرنے پر جہاں تحسین کی جارہی ہے وہیں انہیں ریٹائرمنٹ پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ ٹوئٹر پر ان کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے مختلف ٹرینڈز چلتے رہے ہیں جن میں سے بعض ٹرینڈز انتہائی سخت الفاظ پر مشتمل تھے۔ ان ٹرینڈز کے تحت لوگوں نے جسٹس ثاقب نثار کے دور کے حوالے سے تبصرے کیے۔

سینئر قانون دان بابر ستار کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ملک کو جو نقصان پہنچایا اور اپنے اقدامات سے سیاسی، معاشی اور قانونی بے یقینی کی جو فضا قائم کی ہے ، یہ ایک عرصے تک ہمارے لیے ڈراﺅنا خواب بنی رہے گی۔ افتخار چوہدری نے بھی جوڈیشل سسٹم کو عوام کی نظروں میں بے وقعت کیا تھا لیکن ان کا پہنچایا گیا نقصان حالیہ دور کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ پر نرم ترین الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اچھا ہوا جان چھوٹی۔

سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے جسٹس ثاقب نثار کو سیاسی قرار دے دیا اور کہا ’ پاکستان کی سیاست کا ایک باب چوہدری نثار سے شروع ہو کر ثاقب نثار پر بند ہوگیا‘۔

پاناما پیپرز اور عمران خان کی تیسری شادی کی سٹوری بریک کرنے والے صحافی عمر چیمہ نے کہا ’ جناب ثاقب نثار نے بحیثیت چیف جسٹس ہر محکمے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی ہے ، سوائے محکمہ انصاف کے‘۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سابق سینئر نائب صدر آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ فل کورٹ تقریب میں ہی ثاقب نثار اکیلے رہ گئے۔ نئے چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ زیر التواء مقدمات کے خلاف ڈیم بناؤں گا۔ انہوں نے ملٹری کورٹس کی مخالفت اور سوموٹو نوٹس نہ لینے کا بھی اعلان کیا۔ فل کورٹ تقریب میں سپریم کورٹ اور پاکستان بار کونسل کے قائدین نے بھی سخت تقاریر کیں۔

مزید : قومی