ایمانداری میں بڑا سکون ہے

ایمانداری میں بڑا سکون ہے
ایمانداری میں بڑا سکون ہے

  



تحریر: ذکاءاللہ محسن

سڑک کے کنارے کھڑا ٹیکسی کے انتظار کر رہا تھا کچھ دیر بعد ایک ٹیکسی روکی اس میں سوار ہوا تو پاکستانی ڈرائیور اپنے کسی دوست کے ساتھ فون پر بات چیت کر رہا تھا میں بھی اسے متعلقہ جگہ کا بتا کر چپ کرکے بیٹھ گیا اور اس کی گفتگو میں حائل نہیں ہوا ڈرائیور اپنے دوست کو بتا رہا تھا کل میری گاڑی میں ایک سعودی خاتون پرس بھول گئی جس میں ہزاروں ریال اور دو موبائل فون تھے میں سعودی خاتون کو چھوڑ کر کافی دور نکل آیا تھا اور گاڑی کھڑی کرکے دوپہر کا کھانا کھانے ہوٹل پہ روکا تھا واپس آیا تو مجھے پچھلی سیٹ پر بیگ نظر آیا اسے کھول کر دیکھا تو ہزاروں ریال دیکھ کر پریشان ہوگیا کچھ دیر بعد بیگ میں موجود موبائل پر کال آنا شروع ہوگئی .

اس دوران ذہین میں کئی سوچیں گردش کرنے لگیں دل ودماغ پر ہزاروں ریال کی رقم سوار تھی اور لالچ نے مجھے بری طرح جکڑ رکھا تھا کہ موبائل کال نا سنوں اور پیسے لوں اور آج ہی چھٹی لگواوں اور پاکستان روانہ ہو جاوں میں اسی بے چینی میں مسلسل موبائل پر آتی ہوئی کالز کو نظر انداز کر رہا تھا میرے اندر بے چینی تھی جس کو بیان نہیں کر سکتا پھر ایک لمحے کے لئے خیال آیا کہ اس بیگانی رقم کا تو وارث نہیں ہے اور یہ کسی صورت تجھ پہ حلال نہیں ہے یہ زیادہ دیر تمہارے پاس نہیں رہے گی مگر جہاں تیرا ملک تیری وجہ سے بدنام ہوگا وہیں پر ایمان کی دولت سے بھی جاتا رہے گا میں نے اپنے موبائل سے کال کی اور اپنا بتایا جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے بیگ کے متعلق پوچھا تو میں نے اس کا ایڈریس لیا اور اسے بیگ واپس کرنے چل پڑا سعودی عورت کو میں نے بیگ دیا تو اس نے جہاں مجھے بہت دعاہیں دیں وہیں پر یہ الفاظ میرے لئے قابل فخر تھے کہ پاکستانی " میاں میاں " یعنی پاکستانی بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں تو میرے اندر تمام قسم کی بے چینی ختم ہوچکی تھی میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا مگر کہانی یہیں نہیں روکی سعودی خاتون سکول ٹیچر تھی.

اس نے کہا مجھ سمیت دیگر تین خاتون ٹیچرز کو سکول چھوڑنے اور لانے کی ڈیوٹی تمہاری ہوگی اور ہم روزانہ تمہیں اسکا کرایہ ادا کر دیا کریں گی ڈرائیور اپنے دوست سے مسلسل اپنی کہانی سنائے جا رہا تھا اور میں اسکی گفتگو سے محظوظ ہو رہا تھا اتنے میں میری مطلوبہ جگہ آگئی تو میں نے ٹیکسی والے کو کرایہ دیا تو اس نے معذرت کرتے ہوے کہا سوری باو جی سارے رستے تواڈے کان کھاندا آیا واں " میں نے مسکراتے ہوئے اسے اللہ حافظ کہا اور اپنی صحافتی سرگرمیوں میں مشغول ہوگیا مگر سوچتا رہا کہ اس نے کیا خوبصورت بات کہی کہ ایمانداری میں بڑا سکون ہوتا ہے.

اسی طرح جب میں اپنے دیگر ایسے پاکستانیوں کو دیکھتا ہوں جو سیلابی صورتحال میں پانی میں بلاخوف چھلانگ لگا کر سعودی شہریوں کی جان بچا لیتے ہیں پانی سپلائی کرنے والا ٹرک ڈرائیور گاڑی کو لگی آگ کو فار بریگیڈ کی گاڑی آنے سے قبل آگ بجھا کر اس میں سوار افراد کو زندہ بچا لیتا ہے اور ناجانے دیار غیر میں ایسی درجنوں مثالیں جب سامنے آتی ہیں تو سر فخر سے بلند بھی ہوجاتا ہے مگر کبھی کبھار ایسی چیزیں بھی سامنے آتی ہیں جو باعث شرم بھی ہیں جن میں ہمارے کچھ لوگ دیار غیر میں آکر قوانین کا احترام نہیں کرتے جس کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں مگر اس کے حوالے سے میں ذاتی رائے رکھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں قوانین کی جس طرح دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور قوانین کے ہوتے ہوئے ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور جھنوں نے عمل درآمد کروانا ہوتا ہے یا تو وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں یا خود ہی قوانین کو توڑنے کے نسخے بتا رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے لوگ بیرون ممالک جا کر ڈسپلن کو برقرار نہیں رکھ پاتے اور دیار غیر میں بھی ایسے ہی زندگی بسر کرنا پسند کرتے ہیں جیسی وہ اپنے ملک میں گزار رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں دیار غیر میں قوانین کا احترام اور ان کی پاسداری کو ممکن بنانا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمارے ملک کی نیک نامی وابستہ ہے ویسے بھی کہتے ہیں کہ اپنے ملک سے باہر کسی بھی ملک میں لوگ سفیر ہوا کرتے ہیں جو اپنے عمدہ اخلاق اور اچھے برتاو سے اپنی اور اپنے ملکی وقار کا باعث بنتے ہیں۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ