پرویز مشرف کے خلاف بولنے پر گرفتار کیے گئے صحافی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو کیا ہوا؟

پرویز مشرف کے خلاف بولنے پر گرفتار کیے گئے صحافی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ...
پرویز مشرف کے خلاف بولنے پر گرفتار کیے گئے صحافی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو کیا ہوا؟

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کی حکومت اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سوشل میڈیا پر پر تنقید کے الزامات میں گرفتار نوجوان صحافی اظہار الحق واحد کو مزید تفتیش کیلئے 20 جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے سائبر کرائم کے حوالے کر دیا، عدالتی پیشی سے قبل صحافی اظہار الحق اور انکے وکلا کے آئین پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگائے جبکہ نوجوان صحافی اظہار الحق واحد  کا کہنا ہے کہ وہ آزادی اظہار رائے کا حق استعمال کرتے رہیں گے۔

ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر عرفات کےروبرو ایف آئی اےسائبرکرائم ونگ نےصحافی اظہارالحق کو پیش کیا اور جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئےموقف اختیارکیاکہ ملزم صحافی اظہار الحق سے مزید تفتیش کرنی ہے لہذا جسمانی ریمانڈ دیاجائے، صحافی اظہار الحق واحد کی طرف سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے اورموقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نےصحافی اظہار الحق سےموبائل،فیس بک اکاؤنٹ کا یوزر نیم اور پاسورڈ سمیت سب کچھ برآمد کر لیا ہےلہذا اب جسمانی ریمانڈ کا کوئی قانونی تقاضا نہیں ہے۔میاں داؤد ایڈووکیٹ نے مزید موقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں آزادی اظہار رائے کو دبایا جا رہا ہے،اگر حکومت اور مشرف پر تنقید جرم ہے تو آدھے پاکستان گرفتار کیا جانا چاہیے،ایڈووکیٹ میاں داؤد نے نشاندہی کی کہ ایف آئی اے نے حکومت کے دباؤ پر ریاست مخالف مواد پوسٹ کرنے کے جھوٹے الزام کا مقدمہ درج کیا ہے اور ایف آئی اے نے ریاست مخالف مواد کا ایک بھی جزو مقدمے میں نہیں لکھا، یہ مقدمہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار رائےکیخلاف ہےلہذا عدالت صحافی اظہار الحق کو جوڈیشل کرنے کے احکامات جاری کرئے تاکہ صحافی کا ضمانت کا آئینی حق پیدا ہو سکے، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے فیصلہ محفوظ کر لیا اور کچھ دیر بعد فیصلہ جاری کرتے ہوئے صحافی اظہار الحق کو مزید تفتیش کیلئے 20 جنوری تک ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے حوالے کر دیا۔

ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار کیے گئے صحافی اظہار الحق نے عدالت میں پیشی کے موقع پر دیگر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے حکومت اور مشرف غداری کیس کے فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار کیا جب کہ قومی ترانے میں تبدیلی بھی اداروں کی غیر آئینی مداخلت سے متعلق تھی، انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ وہ محب وطن پاکستانی ہیں اور آئین پاکستان کو دل سے تسلیم کرتے ہیں۔اظہار الحق نے بتایا کہ ایف آئی اے اہلکاروں نے انہیں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔ بدھ کو شاہدرہ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا، وہ گھر پر موجود نہیں تھے لیکن ان کے گھر والوں سے بدتمیزی کی گئی اور دھمکیاں دی گئیں۔ان کا موقف تھا کہ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہوتا تو وہ خود ایف آئی اے آفس میں پیش نہ ہوتے۔

دوسری طرف پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور لاہورپریس کلب سمیت دیگر صحافتی تنظیموں نےاظہار الحق واحد  کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئےاسے آزادی صحافت کو سلب کرنےکی کوشش قرار دیاہے،صحافتی تنظیموں کا کہنا تھا  کہ ملک میں صحافیوں کو دبانے کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے، اس سلسلہ میں کبھی صحافتی ادروں پر حملے کیے جاتے ہیں اور کبھی صحافیوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے،ایف آئی اے سائبر کرام ونگ کا اس طرح صحافی اظہار کو گرفتار کرنا بھی بنیادی طور پر آزادی صحافت پر حملے کے مترداف ہے۔صحافتی تنظیموں  نے فوری طور پر اظہار الحق کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئےخبردار کیا اگر اظہار الحق کو رہا نہ کیا گیا اور صحافیوں ہراساں کرنے کا سلسلہ نہ روکا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور