رابطہ کمیٹی کے اراکین کی فائلیں تیار،سب گرفتار ہو جائیں گے،عامر خان نے خالد مقبول صدیقی کیساتھ ہاتھ کردیا: مصطفی کمال

رابطہ کمیٹی کے اراکین کی فائلیں تیار،سب گرفتار ہو جائیں گے،عامر خان نے خالد ...
رابطہ کمیٹی کے اراکین کی فائلیں تیار،سب گرفتار ہو جائیں گے،عامر خان نے خالد مقبول صدیقی کیساتھ ہاتھ کردیا: مصطفی کمال

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ عامر خان نے خالد مقبول صدیقی کیساتھ ہاتھ کردیا ہے، خالد مقبول صدیقی کو ہٹا کر عامر خان اپنے ساتھ حقیقی سے آئے ہوئے ایک ایسے شخص امین الحق کو وزیر بنوانا چاہتے ہیں جو ہر طاقتور کیلئے شاعری شروع کر دیتا ہے،فروغ نسیم پرزورنہیں چلتااس لیےاِنہیں نہیں چھیڑا گیا،مہاجروں کے نام پرایک دفعہ پھرایم کیو ایم نےاستعفوں کی سیاست کاڈرامہ شروع کررکھاہے،حکومت بالکل پریشان نہ ہو، ایم کیو ایم کسی صورت اقتدار اور حکومت سے علیحدہ نہیں ہو سکتی کیونکہ انکی سانسیں کرپشن کی سانسوں سے بندھی ہوئی ہیں، یوسی ناظم سے لیکر رابطہ کمیٹی کے اراکین تک سبکی فائلیں تیار ہیں اور علیحدہ ہوتے ہی میئر سمیت سب گرفتار ہوجائیں گے،خالد مقبول کا استعفیٰ اگر انکی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہوتا تو ہم کبھی بات نہیں کرتے لیکن یہ لوگ مہاجروں کا نام لے کر ڈرامے بازی کررہے ہیں،الطاف حسین نے عامر خان کی باتیں سن کر کردار والے لوگوں کو گنوا دیا، پھر خود بھی فارغ ہوگئے، آخری کڑی خالد مقبول تھے، انہیں بھی عامر خان نے فارغ کروا دیا،ایم کیو ایم اس وقت پوری ایم کیو ایم حقیقی بن چکی ہے۔

 نیب کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم جو دکھا رہی ہے حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عامر خان نے حقیقی بنانے کا جو اصل مقصد تھا وہ ایم کیو ایم میں آکر حاصل کرلیا ہے، پہلے انہوں نے انیس قائم خانی کے خلاف شکایات کا سلسلہ شروع کیا اور وہ خاندانی آدمی ہیں اس لیے اقتدار سے علیحدہ ہو کر پارٹی چھوڑ کر چلے گئے، پھر فاروق ستار کے ہاتھوں میں جب ایم کیو ایم تھی تو انکے خلاف سازشیں کی گئیں اور اب خالد مقبول صدیقی کے خلاف کی جا رہی ہیں،اگر کراچی کو اس کا حق نہ دینے پر استعفیٰ دیا جا رہا ہے تو سب سے پہلے تو میئر کراچی وسیم اختر سے استعفیٰ لیا جانا چاہیے تھا، جو چار سالوں سے کراچی کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہا لیکن انہیں اس لیے نہیں ہٹایا جا رہا کیونکہ اسکی کرپشن سے ایم کیو ایم اور رابطہ کمیٹی کا خرچہ چلتا ہے،مئیر کراچی کے پاس اب تک 36 ارب روپے ڈویلپمنٹ فنڈ میں آچکے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی شرط ہے کہ کوئی بھی پروجیکٹ 2 کروڑ سے زائد کا نہیں ہو سکتا۔ اس حساب سے کم از کم 1800 پروجیکٹس بنتے ہیں لیکن میئر کراچی 18 پروجیکٹ نہیں دکھا پائے گا،بہت عرصے سے سارے ڈرامے پر خاموش تھے لیکن اب خالد مقبول صدیقی کے خلاف سازش کی مزمت کرتے ہیں،ہم انکے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ انکے ہاتھ کسی مہاجر نوجوان کے خون سے نہیں رنگے ہوئے اور نا انہوں نے حقیقی جیسی کوئی جماعت بنائی، اگر مجبور کیا گیا تو ابھی صرف ٹریلر ہے،میری بات کے کے ایف کے 25 ہزار کے وظیفے سے شروع ہو کر بیرون ملک پھیلے ایکسپورٹ کے کاروبار تک جائے گی۔

سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اِن سب کو معلوم ہے کہ یہ انکی آخری باری ہے تو یہ لوگ کسی بھی طرح حکومت سے مزید پیسے نکلوانا چاہتے ہیں، یہ لوگ حکومت سے نکلنے والے نہیں جبکہ خالد مقبول صدیقی مخلص اور ایم کیو ایم کے آخری نمائندے ہیں تو انہیں سازشیں کر کے دبایا جا رہا ہے،اگر کراچی والوں کا رتی برابر احساس ہے تو یہ وزارتیں چھوڑیں اور 70 لاکھ لاپتہ لوگوں کا مسئلہ وزیراعظم سے حل کرائیں جو وزیراعظم کے ایک دستخط سے حل ہوسکتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ دوسرا مسئلہ مارٹن کوارٹرز، کلنٹن کوارٹرز اور پاکستان کوارٹرز کے رہائشیوں کو مستقل کرنے کے احکامات لیں، وزیراعظم سے مطالبہ کریں کہ جو بلدیاتی نظام پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نافذ ہوا ہے وہ سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ سے بات کر کے یہاں بھی نافذ کرائیں لیکن یہ لوگ ان مطالبات کے بجائے خورشید میموریل ہال کی چابیاں اور فنڈ مانگ رہے ہیں،کنور نوید جمیل اور ایم کیو ایم کے کارکنان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ خالد مقبول صدیقی کا ساتھ دیں سب سے بات چیت ہو سکتی ہے کیونکہ انہوں نے دس ہزار لڑکے نہیں مارے، آخر میں ہم جس راستے پر چلے ہیں سب نے اسی پر آنا ہے، مہاجر نام پر سیاست کرنے والے بند گلی میں کھڑے ہیں، یہ شہر کسی ایک زبان بولنے والوں کا نہیں، سندھی، پنجابی، پختون، ہزارہ یا سرائیکیوں کو مہاجروں کا دشمن نہیں بنا سکتا،جو بھی لسانی بنیاد پر سیاست کرے گا وہ سب سے زیادہ اپنے لوگوں کو نقصان پہنچائے گا۔

اُنہوں نےکہا کہ ہمیں سب کیلئےنوکری،تعلیم اورانفرااسٹرکچر چاہئے ورنہ لوگ برائی میں جائیںگےاور چور، ڈاکو، ٹارگٹ کلر بنیں گے،قبرستانوں کوآباد کریں گے،معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگا، پی ایس پی ہی کراچی سمیت سندھ اور پاکستان کے لوگوں کو مسائل سے نکال کر صحیح سمت میں گامزن کر سکتی ہے کیونکہ صرف ہمارے پاس ہی تجربہ اور صلاحیت ہے اور خلوص نیت کے ساتھ خلق خدا کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔پی ایس پی کراچی کی کسی جماعت سے مقابلہ کرنے کے لیے نہیں بنی، ہم پورے پاکستان کی جماعت ہیں،ہم انشاء اللہ ناصرف 24 جنوری کو لاڑکانہ میں جلسہ کریں گے بلکہ کشمور سے کشمیر تک جلسے کریں گے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی