قائداعظم کا  ویژن؟

قائداعظم کا  ویژن؟
قائداعظم کا  ویژن؟

  

پچیس دسمبر کا دن برصغیر کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے وزیر مینشن کراچی میں جناح بھائی پونجا کے کے گھرمیں 1876ء کوایک بچے کا جنم ہوا، جس کے والدین کے وہم و گمان مین بھی نہ تھا کہ وہ بچہ مستقبل میں دنیا کے افق پر ایک روشن ستارہ بن کر ابھرے گا، اور اپنا نام تاریخ میں امر کر جائے گا۔ ایک کاروباری خاندان کی سوچ میں بھی یہ نہ تھا کہ اس خاندان کا چشم و چراغ ملکوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والا ہو گا۔ 

دانش مند کہتے ہیں کہ ہونھار بروا کے چکنے چکنے پات اور پوت کے پاؤں پالنے سے ہی  نظر آ جاتے ہیں۔وہ بچہ جو بچپن سے رکھ رکھاؤ اورسنجیدہ مزاج کا حامل تھا بچوں  کو مٹی میں گولیوں سے کھیلنے سے ہٹا کر ایک صاف ستھرے کھیل کی طرف لے گیا اور لیڈرشپ کوالٹی کا یہاں سے ہی آغاز ہو گیا۔ رفتہ رفتہ یہ طبیعت کی نفاست محمد علی جناح کو قانون کی تعلیم کی طرف لے گئی لنکنز ان لندن سے بیرسٹر کی ڈگری لی۔ طبیعت کی نفاست، وقاراور نپے تلے دلائل نے قانون کے حلقوں میں ان کا ڈنکا بجا دیا۔

رفتہ رفتہ انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور جلد ہی انہوں نے یہاں بھی اپنے آپ کو منوا لیا۔ بیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں نے ان کو انڈین نیشنل کانگریس میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام دلادیا۔اس دور میں وہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی اور وکیل تھے 1916ء میں انہوں نے انڈین نیشنل کانگرس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے درمیان لکھنؤ پیکٹ کو فائنل شکل دینے مین اہم کردار ادا کیا اور ہندوستان میں مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے 14 نکات پیش کئے، لیکن 1920ء میں محمد علی جناحؒ نے گاندھی کی  سول نافرمانی کی تحریک ستیہ گرہ میں شمولیت کی وجہ سے کانگرس سے استعفیٰ دے دیا،حالانکہ کئی مسلمان لیڈروں  نے بھی اس  میں شمولیت کی حمایت کی، لیکن محمد علی جناح ؒ کے خیال میں یہ ایک غلط فیصلہ تھا، جس کو وقت نے قائداعظم کے تجزیہ کے مطابق درست ثابت کر  دیا۔

قائداعظم کو مسلم لیگ کی رکنیت پیش کی گئی جو انہوں نے قبول کر لی،لیکن وہ ملکی حالات سے دلبرداشتہ ہو کر انگلینڈ چلے گئے اور وہاں وکالت شروع کر دی، کیونکہ اس وقت مسلمان لیڈروں کو ہندوستان مین کوئی ایسا لیڈر نظر نہ آ رہا تھا،جو مسلمانوں کے حقوق کے لئے ملک گیر قیادت کا اہل ہو اس لئے ان سے انگلینڈ میں رابطہ  کیا گیا اس وقت تک محترمہ فاطمہ جناح ؒ بھی ان کی دیکھ بھال کے لئے انگلینڈ جا چکی تھیں قائداعظمؒ کو پھیپھڑوں کی بیماری لاحق ہو چکی تھی۔ مخلص لوگوں کے مؤثر رابطے کام کر گئے اور لندن سے کی گئی سفارت کامیاب ہو گئی اور انہوں نے دوبارہ مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ قائد اعظم کی ہندوستان میں آمد نے ایک انقلاب برپا کر دیا۔ انہوں نے ملک گیر رابطے کر کے مسلمانوں کو دو قومی نظریہ کی تحریک میں شمولیت کا قائل کیا اور وہ مسلم لیگ جو1936ء کے الیکشن میں کانگرس سے ہار گئی تھی 1946ء میں بھاری اکثریت سے جیتی قائداعظم کی طلسماتی شخصیت نے عام مسلمانوں، گدی نشینوں اور جاگیرداروں نے خوش آمدید کہا۔ اگرچہ ایک طبقہ نے نے قائد اعظم کی سخت مخالفت کی اور طرح طرح کے الزام لگا کر ان کی کردار کشی کی کوشش کی، لیکن وہ دو قومی نظریہ کی تحریک کے سیلاب میں بہہ گئے۔ 23مارچ 1940ء کے جلسہ میں قرار داد پاکستان کی کامیابی نے مسلمانوں کے لئے آزادی کی ایک راہ متعین کر دی۔ انگریزی سے نابلد عوام نے قائداعظم کا طویل خطاب اس انہماک سے سنا جیسے وہ ایک ایک لفظ سمجھ رہے ہیں۔

یہاں الفاظ نہیں جذبہ کام کر رہا تھا جہاں الفاظ کا مطلب تو شاید ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، لیکن کچھ کر گزرنے کا جذبہ سب سمجھ میں لا رہا تھا۔ 

دوسری عالمی جنگ میں جب ہندوستان کے وائسرائے نے ہندوستان کے سیاسی لیڈروں کی مشاورت کے بغیر انگلستان کی حمایت کا اعلان کر دیا تو انڈیا میں اس کے خلاف جلوس نکلنے شروع ہو گئے۔ کانگرس نے فوری آزادی کا مطالبہ کر دیا اور اسمبلی کوآئین بنانے کی ذمہ داری کا کہا۔ جب یہ مانگ پوری نہ ہوئی تو کانگرس نے صوبائی حکومتوں سے استعفیٰ دے دیا۔ البتہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ گورنمنٹ کی بات کو وزن دینے کے لئے تیار تھے اس سے برطانی حکومت کا رویہ قائد اعظم کے ساتھ دوستانہ ہو گیا اور وہ ان کو زیادہ اہمیت دینے لگے۔ قائداعظم کو اس بات کا اندازہ تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کو آزاد حیثیت سے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا تو انہوں نے چھ فروری کو وائسرائے کو مطلع کر دیا کہ مسلم لیگ ہندوستان کی تقسیم چاہتی ہے نہ کہ 1935ء کے ایکٹ کے مطابق فیڈریشن۔

قرارداد پاکستان کی منظوری نے اس میں ایک نئی روح پھونک دی۔ مہاتما گاندھی نے اس کو حیران کن جواہر لعل نہرو نے جناح کی زبردست حکمت عملی قرار دیا،جبکہ راجگوپال اچاریہ نے اس کو بیمارذہن کی عکاسی قرار دیا۔ قائد اعظم ؒاس مملکت کو صرف مسلمانوں کا ملک ہی نہیں بنانا چاہتے تھے،بلکہ  اس میں وہ سکھوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کو بھی ساتھ ملانے کی بات کر رہے تھے ان کی خداداد صلاحیت سکھوں کے ہندوؤں کے ساتھ الحاق کو ان کے لئے اچھا نہیں سمجھ رہے تھے اور ان کی زندگی مشکل ہونے کا امکان تھا، جس کو وقت نے درست ثابت کر دیا۔ لیکم ماسٹر تارا سنگھ اور دوسرے سکھ لیڈروں پر کانگرس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ سکھوں کے ایک ناسمجھی کے فیصلہ نے برصغیر میں خون کی ہولی کی بنیاد رکھ دی، جس میں لوگوں کی جانیں، عزتیں جائیدادیں  اور مال ضائع ہوئے جوابھی تک جاری ہے۔ مہاتما گاندھی کا سیکولر نظریہ ان کے قتل کے ساتھ ہی ہندوستان میں عملی طور پر دفن ہو گیا اور اب بھارتی جنتا پارٹی اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کا ہندوستان پر غلبہ ہے۔ 

قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی خداداد قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر  پاکستان کی بنیاد تو رکھ دی اور لوگوں نے بھی اس کو عملی شکل دینے میں ہر قسم کی قربانی دی۔ پاکستان بے سرو سامانی کے عالم میں معرض وجود میں آیا خزانہ خالی تھا لیکن اس لیڈر نے ایمان، اتحاد اور تنظیم  کا سبق دیا اور عملی طور پر خود کفایت شعاری سے ابتدا کی۔ دو قومی نظریہ کے خالق نے گیارہ اگست کے خطاب میں رواداری اور محبت کا درس دیا کہ تمام مذاہب کے لوگ اس ملک میں آزاد ہیں سب کو اپنے عقیدے اور مذہب کے مطابق اپنی عبادت کی آزادی ہے۔ مملکت سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں ہو گا انہیں اپنی مسجدوں، مندروں اور گرجا گھروں میں عبادت کی اجازت ہے۔ انہوں نے کاروبار مملکت کو مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود  مثبت انداز سے چلانا شروع کیا،لیکن ان کو جلد اندازہ ہو گیا کہ کتنی مشکلات حائل ہیں اور ان کی جیب میں اکثریت کھوٹے سکوں کی ہے اور یہاں ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے آگے رکھا جا رہا ہے۔شاید اس صدمہ نے ان کی قوت مدافعت کو کمزور کر دیا اور بیماری ان پر حاوی آ گئی۔اس بارے میں بہت سارے تجزیے اور آرا منظر عام پر آئیں اور پھر وقت نے بھی ثابت کیا کہ ان کے نظریات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اورحکمران اپنی مرضی کی تشریحات نکالتے رہے اوریہ سلسلہ جاری ہے پاکستان میں قائداعظم کے بعد آنے والے حکمران ان کی باتوں پر صحیح عمل کرتے تو آج ملک اتنے برے حالات کا شکار نہ ہوتا۔ ذاتی مفادات اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں فرقہ واریت کو پروموٹ کیا گیا جو آہستہ ایک لحاظ سے خانہ جنگی میں بدل گئی،برداشت کو ممبر سے خطابات کے زریعہ ختم کر کے دوسرے کے خلاف نفرت کو رواج دیا گیا اور دوسرے لفظوں میں اس کو کفر کے خلاف جہاد قرار دیا گیا۔ نوجوان نسل کی تربیت میں شدت پسندی اور نفرت کو پروان چڑھایا گیا۔

پاکستان میں اقتصادی اور انتظامی پالیسیوں کی غلطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان جو پاکستان کے اوپر ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا علیحدگی کے بعد کچھ عرصہ مغربی پاکستان کی پالیسی پر گامزن رہا تو تنزل کا  شکار رہا،لیکن جوں ہی انہوں نے قائداعظمؒ کے افکار کو عملی شکل دی اور پالیسی کو بدلا وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گئے۔ کیا کوئی ایسا دلیر شخص پاکستان میں اٹھے گا جو تعصب کی عینک اتار کر سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلے گا اور بلیک میلنگ چاہے سیاسی ہو، علاقائی ہو یا مذہبی سب کو ختم کر سکے گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -