پو لیس کی خرابیوں کا ذمہ دار کون ؟

پو لیس کی خرابیوں کا ذمہ دار کون ؟
پو لیس کی خرابیوں کا ذمہ دار کون ؟

  

پاکستان میں پولیس کا نظام کے بگاڑ کی وجہ ان کے داخلی اور خارجی دونوں سطحوں کے معاملات ہیں۔ یہ خرابیاں یا بربادی کا عمل چند برسوں کی کہانی نہیں بلکہ اس میں ماضی اور حال کی پالیسیوں، اقدامات اور ترجیحات پر مبنی بگاڑ کا کھیل شامل ہے۔ یقینی طور پر خرابیوں کی وجہ خود پولیس کا اپنا غیر شفافیت پر مبنی نظام بھی ہے۔لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پولیس کے نظام میں بگاڑ کا اہم فریق خود حکمران طبقات ہیں۔ مسئلہ کسی ایک خاص جماعت یا حکومت کانہیں بلکہ مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ آپ کو پورے سیاسی، انتظامی نظام اور بری حکمرانی کے کھیل سے جڑ ا نظر آتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ پولیس کے نظام میں بے پناہ اصلاحات کے باوجود یہ عوامی او رادارہ جاتی سطح پر اپنی ساکھ نہیں بناسکا۔پولیس اور عوام کے درمیان جو بداعتمادی کا پہلو موجود ہے وہ ایک اہم مسئلہ ہے۔

کیونکہ جب بھی کسی دو فریقین میں اعتماد کی کمی تو ادارے اپنی حیثیت اور ساکھ کو بہتر طور پر پیش نہیں کرسکتے۔ایسا نہیں کہ پورے پولیس کے نظام میں اچھے لوگ یا ایسے افراد نہیں جو قانون کی حکمرانی اور شفافیت پر مبنی پولیس نظام کے حامی نہیں۔ اصل مسئلہ پولیس کو غیر سیاسی بنیادوں پر استعمال کے عمل کو روکنا ہے۔ سیاسی مداخلتوں نے عملی طور پر ہمارے مجموعی اداروں کوبگاڑ دیا ہے۔ ایسا نظام جو خود حکمران طبقہ کے بگاڑ کی وجہ سے لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اتررہا اس میں وقفے وقفے سے ہونی والی مثبت پالیسیاں بھی نتائج دینے کے عمل سے قاصر ہیں۔حکمران طبقات خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے سب سے زیادہ مالی سرمایہ کاری پولیس کے نظام کو جدید اور شفاف بنانے سمیت عوام دوست پولیس پر کی ہے، مگر کامیابی پر مبنی نتائج نہیں مل سکے۔حکمران طبقہ ناکامی کی ذمہ داری پولیس نظام ا ور اس میں موجود پولیس کی قیادت پر ڈالتے ہیں۔ لیکن یہ مکمل سچ نہیں۔

مکمل سچ یہ بھی ہے کہ خود حکمران طبقہ بھی پولیس کے نظام کی بربادی میں برابر یا زیادہ ذمہ دا ر ہے۔ کیونکہ پولیس کے نظام میں جس ننگے پن کے ساتھ حکمران طبقات نے اپنے ذاتی، جماعتی اور خاندانی مفادات کو طاقت فراہم کرنے اور مخالفین کے خلاف اس پولیس کو ہتھیار بنانے کا جو کھیل کھیلا ہے یا کھیل رہے ہیں وہ بنیادی خرابی کی جڑ ہے۔یہ جو ہمیں روزانہ کی بنیاد پر مختلف جرائم اور سماجی و سیاسی بیماریوں میں مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ملتے ہیں ان میں یا تو ان کا پولیس سے باہمی گٹھ جوڑ ہوتا ہے یا وہ خود بھی ان مجرمانہ سرگرمیوں یا جرائم پیشہ افراد کا حصہ بن جاتے ہیں۔عام لوگوں کا عمومی تصور پولیس کے بارے میں یہ ہے کہ یہ عوام دشمن یا کمزور طبقات کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے طاقت ور اور بالادست یا ظالم طبقہ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔کئی جرائم میں ہمیں پولیس کے افسران یا اہلکار خود ملوث نظر آتے ہیں جو خود پولیس کے نظا م کی شفافیت پر سوال ہے۔اصل خرابی حکمران طبقات، ارکان اسمبلی سمیت وزیر اعظم، وزرائے اعلی اور وزرا نے پولیس کے تبادلوں، تقرریوں میں میرٹ کی دھجیاں اڑانے اور اپنے من پسند افراد کو سامنے لانے کی پالیسی نے پورے پولیس کے مجموعی نظام کو خراب کیا ہے۔بالخصوص پنجاب اور سندھ کی پولیس میں بگاڑ سب سے زیادہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس کو جدید نظام کی طرف بھی لایا گیا ہے اور پولیس کے تربیتی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن محض پالیسی یا قانون سازی کرنے یا تربیت کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

کیونکہ جب پولیس کے نظام کو عملی میدان میں سازگار ماحول، عدم مداخلت، خوداحتسابی کا نظام، جوابدہی یا احتساب کا عمل، نگرانی کا شفاف نظام، تربیتی عمل میں نئے نئے پہلووں کو متعارف کروانا، اچھے او رکام کرنے والے افسران اور اہلکار کی حوصلہ افزائی اور بہتر کام پر ستائش نہیں کی جائے گی، مسائل حل نہیں ہوسکیں گے،یہ بات ہمیں سمجھنی ہوگی کہ اصلاحات کا عمل اگر پائدار نہ ہو اور یہ محض پالیسی سازی تک ہو اور عملدرآمد اس کی ترجیحات کا حصہ نہ ہو تو کچھ بھی ممکن نہیں۔یہ فکری مغالطے سے ہمیں باہر نکلنا چاہیے کے اداروں کو مضبوط بنائے بغیر ہم ایک مہذہب معاشرے میں اپنے آپ کو ڈھال سکیں گے۔ دنیا میں بنیادی فرق ہی ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی، جوابدہی اور شفافیت سے جڑا ہوتا ہے۔پولیس کا نظام بھی اپنے اندر بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں چاہتا ہے۔ یہ تبدیلی کا عمل معمول کے فیصلوں سے ممکن نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہوگا کہ آج اگر ہم نے آئی جی پولیس راؤ سردار علی خان،سی سی پی او لاہور فیاض احمد دیو اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ”بی اے ناصر“جیسے نامور اور بے داغ پولیس آفیسرز کے ہوتے ہوئے غیر معمولی اقدامات نہ کیے تو پھر ادارے کی مضبوطی عمل میں لانامشکل ہوجائے گی۔ آخر میں ہم سی سی پی او لاہور فیاض احمد دیو اور ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد راجہ جو کہ پچھلے کئی دنوں سے کورونا کا شکارہونے کے باوجود گھر بیٹھے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اللہ تعالی سے ان کی صحت اور تندرست زندگی کے لیے دعا گو ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -