آزاد کشمیر کی ساری قیادت کو مل بیٹھ کر خطے کی تعمیر و ترقی کے بارے میں سوچنا ہو گا: سردار تنویر الیاس

آزاد کشمیر کی ساری قیادت کو مل بیٹھ کر خطے کی تعمیر و ترقی کے بارے میں سوچنا ...
 آزاد کشمیر کی ساری قیادت کو مل بیٹھ کر خطے کی تعمیر و ترقی کے بارے میں سوچنا ہو گا: سردار تنویر الیاس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر کے سینئر وزیر و پی ٹی آئی کے صدر سردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی ساری قیادت کو مل بیٹھ کر خطے کی تعمیر و ترقی کے بارے میں سوچنا ہو گا،   صرف کشمیر کا نام بیچنے سے کام نہیں چلے گا لوگ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔

روزنامہ جموں و کشمیر کے مرکزی دفتر میں  اخبار کی 16ویں سالگرہ کی تقریب  کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئےسردارتنویر الیاس کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں سیاحت کو فروغ دے کر بہت بڑے پیمانے پر آمدن حاصل کرینگے، سیاحت کی ترقی کیلئے   ٹورازم اتھارٹی قائم کررہے ہیں۔ کابینہ کے اگلے اجلاس میں ٹورازم اتھارٹی کی منظوری لی جائے گی۔ آزاد کشمیر کی عوام کو ناقص خوراک سے بچانے کیلئے فوڈ اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی۔ آزاد کشمیر میں کمپنیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ بلڈنگ کوڈز بنائے جائیں،بغیر اجازت کنسٹرکشن پر پابندی لگنی چاہیے تاکہ دو نمبر تعمیرات کو روکا جا سکے اس سے وقتی طور پر عام لوگوں کو پریشانی ہو گی لیکن اسکے بغیر کام نہیں بنے گا۔ آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی حکومت ابھی آئی ہے جس سے لوگوں کی بڑی توقعات ہیں، لوگوں نے ہمیں ووٹ عمران خان کے نظریات کی وجہ سے د یے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ بھی روایتی سیاست سے تنگ ہیں۔ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں لہذا اب صرف کشمیر کا نام بیچنے سے بات نہیں بنے گی، مسئلہ کشمیر کوئی زمینی تنازعہ نہیں ہے بلکہ  دو کروڑ لوگوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے اور اسکے سارے راستے پاکستان سے جڑے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں گندگی سے تمام ندی نالے بند ہو رہے اس بارے لوگوں کو ایجوکیٹ کریں کہ قدرتی حسن کو بچائیں۔ اسکے لیے حکومتی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ یورپ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں ایسے ہی ہوتا ہے۔  المیہ ہے کہ آزاد کشمیر میں جنگلات کاٹ کر ہم تباہی کی جانب جا رہے ہیں۔ ہمیں مقامی طور پر قدرتی وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ جنگلات، دریا، جڑی بوٹیاں، فشریز سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کا موازنہ مقبوضہ کشمیر سے کریں تو وہاں جنگ و جدل ہے، وہاں مائیں اپنے بیٹوں کا نام برہان رکھنا چاہتی ہیں۔ لیکن حریت کبھی نہیں ختم ہوتی۔ آزاد کشمیر کے سارے قائدین ملکر اسکی تعمیر و ترقی کا سوچیں، تھوڑی محنت سے اسے تعمیر و ترقی کا حب بنایا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کو پانچ سو ارب کا پیکج محض ہوائی اعلان نہیں ہے، گلگت میں تین سو ستر ارب دیا جا سکتا ہے تو ہمیں اس سے بھی زیادہ دیا جائے گا۔ آزاد کشمیر میں بڑے ترقیاتی پراجیکٹ شروع ہونگے جن سے ہمیں خطیر وسائل حاصل ہوں گے۔ ہمیں بس کرپشن روکنا ہو گی جس سے بڑے پیمانے پر وسائل حاصل ہو جائیں گے۔ہ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں کو جعلی اور دو نمبر اشیا مہیا کی جا رہی ہیں۔ہمارے ہاں بڑے بڑے برینڈز کی جعلی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں، میں نے اس دونمبری کو روکنے کیلئے ہمیشہ فوڈ اتھارٹی پر زیادہ زور دیا۔ ایک وقت میں پنجاب فوڈ اتھارٹی میرے کنٹرول میں رہی میں نے وہاں بھی کردار ادا کیا اب میری کوشش ہے کہ آزاد کشمیر میں اپنے حصے کا رول دوں۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں بیانات کے ذریعہ  سب نے دودھ و شہد کی نہریں بہائیں ، بیرون ملک جاکر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ان لوگوں کو کوئی نامی گرامی نہیں ملتا، عام گوروں سے ملکر فوٹو کھنچوانے ہیں۔ ہمارے لوگ سالوں سے باہر ہیں۔ ہم انکے لیے یہاں مستقبل نہیں بنا سکے۔ انسانیت اور حیوانیت میں فرق ایک دوسرے کے کام آنے کا ہے۔ المیہ ہے کہ آزاد کشمیر میں کوئی ماڈل ہسپتال نہیں، وہاں سے لوگ اسلام آباد پمز اور ہولی فیملی آنے پر مجبور ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ عام لوگوں کیلئے جو کر سکے وہ کریں۔

انکا کہنا تھاکہ صحافت کے حوالہ سے بعض اوقات میرے بارے میں خواہ مخواہ غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے، صحافت سے میری ڈیمانڈ صرف اتنی ہے کہ خبر میں خبریت کا عنصر نمایاں طور پر شامل ہونا چاہیے، کسی کی پگڑی اچھالنا صحافت نہیں ہے۔ صحافت کے تمام ارتقا سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں۔ آزاد کشمیر میں صحافت مشکل ہے۔ البتہ جہاں میری چل سکے گی یا رول دے سکے وہاں کوشش ہو گی کہ اپنا کردار ادا کر کے ریاستی صحافت کو مضبوط بنایا جائے۔  صحافی کا کام حقائق سامنے لانا ہے۔ معاشرے میں صحافت کا زمہ دارانہ رول ہے۔ یہ بڑی بات ہے کہ آزاد کشمیر کے اخبارات ریگولر چھپ رہے البتہ ان میں استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ آپکا کالم، اداریہ، خبریں ان سب کا معیار برقرار رکھنا لازمی ہے۔ صحافیوں کو خبر بنانے کی باقاعدہ ٹریننگ کی سخت ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کی موجودگی میں اب اخبارات کو اپنی جگہ بنانے کیلئے زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر پہلے دینے کی دوڑ میں خبریں ہی غلط دی جاتی ہیں۔ صحافی کا کام مجاہدانہ ہے، یہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ جمہوریت اور سیاست میں کوئی بے بسی نہیں ہوتی۔ آزاد کشمیر حکومت کی پرفارمینس آئندہ انتخابات پر اثرانداز ہو گی اس لیے ہماری کوشش ہے کہ اسکی بہترین کارکردگی پیش کریں۔

مزید :

قومی -