دہشت گردی کی نئی لہر، ایف سی پر تنقید

دہشت گردی کی نئی لہر، ایف سی پر تنقید
دہشت گردی کی نئی لہر، ایف سی پر تنقید

  

جولائی 2012ءکے دوسرے ہفتے میں بلوچستان میں جس طرح بے گناہ کان کنوں کو سفاکانہ طریقے سے قتل کیا گیا، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس صوبے میں امن و امان کی صورت حال کس قدر تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ یہ معاملہ صرف ایک واردات کی حد تک محدود نہیں، بلکہ آئے روز اس غیر انسانی دہشت گردی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس بات کو بھی ذہن نشیں رکھنا چاہئے کہ امن و امان کی بحالی خالصتاً صوبائی مسئلہ ہے، مگر حالات کا بگاڑ اتنا زیادہ ہے کہ بلوچستان میں صوبائی حکومت نے اپنی مدد کے لئے ایف سی کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں اور یہ فورس اس ضمن میں قابل قدر کام بھی کر رہی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مذکورہ ادارے سے کچھ غلطیاں بھی سر زد ہوئی ہوں گی، مگر حالیہ دنوں میں امن وامان نافذ کرنے والے یہ ادارے سخت دباو¿ میں ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ سمیت بالعموم سبھی حلقوں کی جانب سے ان کی ستائش کرنے کی بجائے ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے، جس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ یہ ادارے بددلی کا شکار ہو کر اپنے فرائض بخوبی انجام دینے میں پوری طرح مستعد نظر نہیں آتے، جس کی وجہ سے ملک و قوم کے مخالفین کی گویا بن آئی ہے، وہ اس دباو¿ کو برقرار رکھنے کے لئے نہ صرف بلوچستان، بلکہ دیگر صوبوں میں بھی اپنی دہشت گردی کی سرگرمیوں کو تیز کر رہے ہیں، جو بجا طور پر سبھی اہل وطن کے لئے تشویش کی بات ہے۔

بھارت، افغانستان اور امریکہ سمیت سبھی پاکستان مخالف اس صورت حال پر بغلیں بجا رہے ہیں۔ اس پس منظر میں اکثر مبصرین اس رائے سے متفق ہیں کہ بلوچستان، کراچی اور گلگت سمیت پاکستان میں جاری بدامنی کے پس پردہ بہت سے اندرونی اور غیر ملکی عوامل کار فرما ہیں، لہٰذا وطنِ عزیز کی سیاسی قیادت کو صورت حال میں مثبت اور ٹھوس تبدیلی کے لئے فعال کردار ادا کرنا چاہئے، کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے عوام گزشتہ کئی سال سے عالمی دہشت گردی کے نشانے پر ہیں۔ ایک جانب عام آدمی مہنگائی اور بدامنی کی دو دھاری تلوار کے وار سہہ رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے ازلی مخالفین نے اس مملکت خداداد اور سبھی حکومتی اور ریاستی اداروں کی بابت الزامات در الزامات کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کے گرد وغبار نے کسی حد تک ہر شے کو دھندلا کر رکھ دیا ہے۔

اسی پس منظر میں بلوچستان کے گمشدہ افراد کا مقدمہ بھی جاری ہے، اس کھلے راز سے ہر کوئی آگاہ ہے کہ 24 نومبر2007ءاور جنوری 2008ءمیں حمزہ کیمپ اور کامرہ میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئی تھیں، جن میں درجنوں بے گناہ اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے، مگر نا کافی شہادتوں کی بنا پر سبھی ملزمان بری ہوگئے۔ اس کے بعد ان افراد کو مختلف دفعات کے تحت نظر بند کر دیا گیا، جبکہ کچھ لوگ روپوش ہوگئے، جن میں چند مبینہ طور پر دوران حراست طبعی موت کا شکار ہوئے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس بابت مکمل حقائق سے آگاہی تو متعلقہ افراد کو ہی حاصل ہے، مگر مجموعی بے یقینی کی فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ضمن میں فطری طور پر کئی کہانیوں نے جنم لیا، حالانکہ متعلقہ ادارے اس بابت مکمل لا علمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے مو¿قف کو مکمل مستند نہیں سمجھا جا رہا۔ دوسری جانب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت میں چند ماہ قبل منظور شدہ احتساب قانون یعنی ”لوک پال بل“ میں بھارتی لوک سبھانے واضح طور پر اپنی فوج اور سلامتی کے اداروں کو اس نئے قانون سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے 15 اگست 2011ءکو دہلی کے ”لال قلعے“ سے ہندوستانی یوم آزادی کے حوالے سے تقریر کے دوران ایک سے زائد مرتبہ کہا کہ ”اندرونی اور بیرونی خطرات پر قابو پانے کے لئے بھارتی فوج اور خفیہ اداروں کو مزید وسائل فراہم کئے جائیں گے تاکہ بھارتی سلامتی کسی آزمائش سے دوچار نہ ہو“.... اور ایسا صرف بھارت ہی میں نہیں، بلکہ امریکہ سمیت دنیا کے تقریباً سبھی ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں ہوتا ہے، مگر اس کے مختلف پہلوو¿ں پر غالباً بحث ہو سکتی ہے۔

کسے معلوم نہیں کہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں قومی سلامتی اورانسانی حقوق کے حوالے سے نئی قانون سازی کی گئی، جو مثبت روش نہ ہوتے ہوئے بھی ایک زمینی حقیقت ہے، مگر اس تمام صورت حال کا عجیب پہلو یہ ہے کہ عالمی میڈیا اور مو¿ثر عالمی قوتیں ان سبھی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنی ساری توانائیاں پاک فوج اور قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے خلاف الزام تراشیوں پر صرف کر رہی ہیں۔ آئے روز امریکی حکومت اور میڈیا کی جانب سے ان پاکستانی اداروں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ خود پاکستان کی بعض سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات بھی قومی اداروں کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم اپنی 15 اگست کی تقریر میں اپنی فوج اور خفیہ اداروں کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ہاں کی سول سوسائٹی کے بعض نا خدا جانے کس ایجنڈے کے تحت آرمی ، آئی ایس آئی اور ایف سی کے خلاف کمر کسے ہوئے ہیں۔ گویا ”اپنے بھی خفا مجھ سے، بیگانے بھی ناخوش“ والا معاملہ ہے۔

انسانی حقوق کے ان پاکستانی علمبرداروں نے اس بابت مکمل چپ سادھ رکھی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف آئے روز کسی طور منظم فسادات کا سلسلہ رکنے کا نام کیوں نہیں لیتا؟.... گجرات کے مسلمانوں کی نسل کشی کے دس برس مکمل ہونے کے حوالے سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ یہاں تک کہ اس امر کا کوئی تذکرہ بھی نہیں ہوتا کہ خالصتان تحریک کے دوران ہزاروں سکھوں کو لاپتہ اور گمشدہ قرار دے کر بے نام شمشان گھاٹوں میں جلا دیا گیا اور خود بھارتی سرکاری ادارہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اس المیے کا معترف ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محض چند ماہ پہلے، یعنی اگست 2011ءمیں بھارت سرکار نے پہلی بار حکومتی سطح پر اس ہولناک سچائی کا اعتراف کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں 38 مقامات پر گمنام قبروں میں 2156 نہتے کشمیری دفن ہیں۔ دہلی حکومت نے ان بدقسمت لوگوں کے لئے ”نامعلوم“ افراد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ہندوستان کے سرکاری ادارے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے صوبائی ونگ نے اپنی تحقیقات کے بعد جاری رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بارہ مولا میں 851، بانڈی پورہ اور ہندواڑہ میں 14 اور کپواڑہ میں 1277 گمنام قبریں موجود ہیں اور 170 قبروں میں ایک سے زائد افراد دفن ہیں اور ان سبھی لاشوں پر گولیوں کے نشانات ہیں۔

بہر کیف امید کی جانی چاہئے کہ قوم کے خواص و عوام اپنے سطحی مفادات سے اوپر اٹھ کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک دشمن سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور سول سوسائٹی اور میڈیا اس ضمن میں خصوصی کردارادا کرتے ہوئے اپنا قومی فریضہ سر انجام دے گا۔ یہ موہوم امید رکھنے میں کوئی حرج نہیں کہ امریکہ کے حکمران طبقات قدرے ہوش کا مظاہرہ کریں گے اور پاکستان کی بابت بھارتی ذہن سے سوچنے کے بجائے زمینی حقائق کا ادراک کریں گے اور پاکستانی عوام، حکومت اور افواج کے خلاف جاری الزام تراشیوں کا سلسلہ بند کر کے اعتدال کی راہ اپنائی جائے گی۔ وگرنہ سچ میں بہر حال اتنی قوت ضرور ہوتی ہے کہ یہ اپنا ادراک خود کر الیتاہے، مگر وقت کے فیصلے خاصے سنگین بھی ہوتے ہیں اور ضروری نہیں ہوتا کہ بظاہر طاقتور فریق کی مرضی کے ہی نتائج حاصل ہوں۔  ٭

مزید :

کالم -