چین کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے

چین کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے
چین کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے

  

 شنگھائی میں ہونے والی بارش ہر موسم گرما میں شہر کو لپیٹ میں لئے رکھتی ہے،ایسی بارش جس کے بارے میں سوچ کر انسان حیرانی کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ دھویں، کہر اور ژالہ باری کا ملغوبہ ہے، اس کو دیکھ کر چین کی موجودہ معاشی حالت کے بارے میں اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ چین کے معاشی حالات کے بارے میں حالیہ دنوں میں پیٹا جانے والا ڈھول تمام حقائق پر پردہ ڈال رہا ہے۔معاشی ہفت روزہ ”بیرن“ نے اپنی حالیہ مرکزی کہانی (Cover Story)میں اس بات سے متعلق دعویٰ کیا ہے :”لگتا ہے کہ چین کی عظیم الشان شرح نمورک چکی ہے اور جمعہ کے روز چین اپنے نئے معاشی اعدادوشمار کے بارے میں اعلان کرنے والا ہے“۔

لیکن ہم نسبتاً ایک کم توجہ حاصل کرنے والی حقیقت کی بات کرتے ہیں....معاشی پیش گوئی کے ادارے ”بلوم برگ“ کے سروے کے مطابق 2012ءمیں چین کی شرح نمواوسطاً 8.2فیصد رہے گی،اگرچہ یہ چین کی تاریخی دو ہندسوںکی شرح نمو کے قریب ترین ہے۔ہم سب دعا کرتے ہیں کہ امریکہ بھی ایسی ہی قسمت پائے ،کوئی اور بڑا ملک، حتیٰ کہ برازیل اور بھارت بھی شرح نمو کے اس معیار میں چین کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ایک چین پر یقین رکھنے والے انسان کے طور پر جو ملک میں آٹھ مہینے کے بیرونی دورے کے بعد واپس آیا ہو،مَیں اس بات سے متعلق متجسس تھا کہ میری غیر موجودگی کے دوران یہاں کیا کچھ ہوتا رہا؟مَیں بزنس کلاس سے تعلق رکھنے والوں اور سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں سے ملا،جن کی اکثریت چینی تھی،تقریباً ہر ملاقات میں ایک جیسی چیزیں جیسے برآمدات میں کمی، کمزور ہوتی مغربی معیشتیں، ہاﺅسنگ کے شعبے میں آنے والا بحران اور بہت زیادہ سرمایہ کاری کا رجحان جیسے موضوعات زیر بحث آئے، لیکن اگر ہم اس چیز کو توازن میں لانے کی بات کریں تو مَیں ایسے بہت سے لوگوں سے ملا،جو بہت مضبوط قوت ارادی کے مالک اور پُرامید تھے، اگر کوئی چیز، مثلاً چینی سٹاک مارکیٹ کی مداخلتی گراوٹ نے انہیں مزید پرجوش اور حوصلہ مند بنا دیا تھاکہ وہ سرمایہ کاری کریں۔

چین کی خواہش ہے کہ آپ اس کی معیشت کے بارے میں غلط اندازے لگاتے رہیں۔مجھے یہ بات تقریباً ہر کامیاب سرمایہ کار نے کہی۔ یہ ان کی جانب سے اس بات کا مشورہ تھا کہ امریکہ ان کو کمتر سمجھتا رہے اور یہی چین کے مفاد میں ہے۔ چین کی معیشت سے متعلق اعتراضات کی بنیاد اس کے سیاسی استحکام اور رہنماﺅں سے متعلق ان کی سیاسی اپروچ کو سامنے رکھ کر کئے جاتے ہیں، لیکن اگر آپ ان جذباتی باتوں اور تعصبات کو ایک طرف رکھ کر سوچیں تو چین کی معاشی صورت حال انتہائی خوشگوار نظر آئے گی، کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔مثال کے طور پر خام گھریلو اشیاءمیں سرمایہ کاری کی شرح چین میں غیر معمولی ہے اور 48فیصدکو جا پہنچی ہے۔سرمایہ کاری میں بڑھوتری ایک ابھرتی ہوئی معیشت کی نشانی ہوتی ہے۔ چین میں فی کس اوسط دولت اگرچہ آج بھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مقابلے میں 1/10ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہ وہ شعبہ ہے ،جس میں بہتری درکار ہے۔

ان تمام اخراجات سے پتہ چلتا ہے کہ چین آگے بڑھنے ،خاص طور پر21ویں صدی میں آگے بڑھنے میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔ پڈونگ جو کہ شنگھائی کا نیا مالیاتی ضلع ہے، اس کادورہ کرنے کے دوران مَیں نے اپنی یادوں کو تازہ کیا اور اس وقت کے بارے میں سوچا ،جب اس شہر کا قیام 90ءکی دہائی کے اواخر میں عمل میں لایا گیاتو شہر میں نئے منصوبوں پر کام کا آغاز ہونے سے قبل بیشتر منصوبوں کا مضحکہ خیز انداز میں مذاق اڑایا گیا اور تنقید کرنے والوں نے کہا کہ ان چیزوں کا کیامصرف ہوگا؟لیکن آج پڈونگ ایک بہت بڑا مالیاتی مرکز ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ غلط سمت میں چلا گیا،لیکن غلط سمت میں ہونے والی بہت بڑی سرمایہ کاری بھی کسی ملک کی معیشت کو زمین بوس نہیں کرسکتی۔ یہ سادہ طور پر چینی خاندانوں کے کم استعمال میں آ رہی ہے۔

کسی بھی موقع کے لئے مَیں یہ چاہوں گا کہ غلط سمت میں ہونے والی سرمایہ کاری امریکہ کے متبادل کے طور پر ہو،جو کم از کم 16فیصد کی شرح سرمایہ کاری کی بنیاد پر ہو، اگر ہم ہاﺅسنگ مارکیٹ سے متعلق اپنے اعتراضات کو سامنے لے کر آئیں ،یہاں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو چین کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں،کیونکہ گزشتہ 9ماہ کے دوران گھروں کی قیمتوں میں 212فیصدکمی دیکھی گئی ہے ، پھر جون کے مہینے میں تھوڑا اضافہ ہوا، اب اس کا موازنہ امریکہ سے ہو جائے،جہاں جولائی 2006ءسے جنوری 2012ءکے دوران اس سیکٹر میں 33فیصد کمی دیکھی گئی اور اب دیکھیں کہ مغرب میں کیا معاشی تنزلی ہوئی ہے؟اگرچہ اس کی بدولت چین کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچا ہے....(جو کہ اس وقت بھی بڑھوتری کررہی ہیں) .... چین اس وقت اپنی برآمدات پر بہت زیادہ انحصار نہیں کررہا۔برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ 2007ءمیں 40فیصدتھا، اب کم ہو کر 29فیصدرہ گیا ہے۔بینک سے قرضہ لینے میں کافی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔لگژری ٹیکس بھی کم ہوگیا ہے ۔

سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران میں ہر چیز سے متعلق ،چاہے وہ ٹیکنالوجی کا ٹرانسفر ہو یا تجارت میں آنے والی رکاوٹیں، چین خوب آگاہ ہے اور ان کے بہترین حل پیش کررہا ہے،جبکہ چین نے خریداروں کے اخراجات کو بڑھانے کے لئے معتدل قسم کے اداروں کے ذریعے ہی کام چلایا ہے،جن سرمایہ کاروں سے میری ملاقات ہوئی ، وہ نئے کاروبار خرید رہے ہیں، جن میں کاروں کی ڈیلرشپ سے لے کر ڈیری فارمز تک سب شامل ہیں اور اس بات پر شرط لگانے کے لئے تیار ہیں کہ چینی اپنے اخراجات کو بڑھانے والے ہیں۔وہ لوگ جو اس بات کے لئے دلائل دیتے ہیں کہ جس کی شرح نمو میں دوبارہ اضافہ نہ ہو پائے گا،شاید ٹھیک کہتے ہوں۔ کوئی بھی معیشت چین کے تاریخی ڈبل ڈیجٹ شرح نمو کے حساب سے نہیں بڑھ سکتی، لیکن میری رائے لی جائے تو مَیں یہی کہوں گا کہ چین کی معیشت ابھی بھی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے اندر ایک ایسا جوش ہے،جسے کسی قسم کے اعدادوشمار کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا....(بشکریہ:”انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبون“۔ )  ٭

مزید :

کالم -