پارلیمانی بالا دستی۔۔۔ پنجاب اسمبلی میں وضاحت کے بجائے قانونی امورعدالت میں چیلنج کرنے کا مشورہ

پارلیمانی بالا دستی۔۔۔ پنجاب اسمبلی میں وضاحت کے بجائے قانونی امورعدالت میں ...
پارلیمانی بالا دستی۔۔۔ پنجاب اسمبلی میں وضاحت کے بجائے قانونی امورعدالت میں چیلنج کرنے کا مشورہ

  

لاہور ( محمد نواز طاہر سے) پارلیمنٹ کو سپریم قراردینے والے سیاستدان خود ہی بھی عدلیہ کی جانب ریفر کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں جو فیصلے درحقیقت ان کی اپنی ذمہ داری اور اختیار ہے ۔ اس کا اظہار آج پنجاب اسمبلی میں اس وقت کیا گہا جب پیپلز پارٹی کے احسان الحق احسن نولاٹیا نے یہ قانونی نکتہ اٹھایا کہ وزیراعلیٰ نے ٹاسک فورسز کس قانون اور اختیار کے تحت قائم کیں جبکہ تمام اداروں کے نگران وزراء، پارلیمانی سیکرٹری ، قائمہ کمیٹیاں اور ڈائر یکٹوریٹ بھی موجود ہیں ؟ تو سپیکر نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کریں حالانکہ اس قانونی نکتے کی وضاحت قانونی طور پر حکومت سے حاصل کرنا غیر جانبدار سپیکر کے منصب کا تقاضا ہے جس کے تحت اگر حکومت جواب دینے سے گریزاں ہو تو سپیکر اس معاملے میں رولنگ دے سکتا ہے جس کی پارلیمانی نظام اور قانون کی نظرمیں ایک خاص اہمیت ہے۔ وزیر قانون نے بھی اس قانونی نکتے کا قانونی جواب نہیں دیا اور کہا کہ سیاسی حکومتیں منتخب نمائندوں کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنوں کو بھی آن بورڈ کرتی ہیں ، ٹاسک فورسز ایک خاص ٹاسک کے ساتھ بنائی جاتی ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے بھی ایک خاص ٹاسک کے تحت بنائی تھیں جو ٹاسک پورا ہونے پر ختم کردی گئیںجبکہ سیکرٹیریل سپورٹ کے سوا ان پر کوئی دوسرا خرچہ نہیں تھا۔جس پر احسان الحق احسن نولاٹیا نے کہا کہ جب رولز آف بزنس کے تحت ریاستی امور وزراءاور پارلیمانی سیکرٹریوں کے ذریعے چلانا ہیںجنہوں نے سرکاری امور کی نگرانی کرنی ہے جبکہ قائمہ کمیٹیاں اس کے علاوہ ہیں ٹاسک فورسز کیوں بنائی گئیں؟ان کا کہنا تھاکہ حکومت نے محکمہ صحت سمیت دوسرے ادروں میں ٹاسک فورسز بنائیں اور تمام ادارے مفلوج کردیے جس پر سپیکر نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ معاملہ وہ عدالت میں چیلنج کریں۔ اس سے پہلے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر سعید الٰہی نے کہا کہ محکمہ صھت میں کوئی ٹاسک فورس موجود نہیں ہے ۔

مزید : لاہور