بلوچستان کے حالات سے نہ نمٹا گیاتو دوسرے علاقے بھی متاثرہونگے:وزیراعظم

بلوچستان کے حالات سے نہ نمٹا گیاتو دوسرے علاقے بھی متاثرہونگے:وزیراعظم
بلوچستان کے حالات سے نہ نمٹا گیاتو دوسرے علاقے بھی متاثرہونگے:وزیراعظم

  

اسلا م آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ دراصل صوبے کے چند علاقوں میں امن وامان کی خراب صورتحال ہے، ان چھوٹے مقامات پر بے چینی کوبڑے پیمانے پر گڑ بڑ سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی لیکن اگر اس سے فوری طور پر نہ نمٹا گیا تو اس کے دوسرے علاقوں پربھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اس اہم قومی ورکشاپ میں دانشوروں اورسکالرز سے خطاب کررہے تھے۔ مسئلہ بلوچستان کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سٹیک ہولڈرز قوم کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھیں یہ صرف بلوچستان نہیں بلکہ درحقیقت پورے پاکستان کے عوام کا مستقبل ہے جو اس وقت داو¿ پر لگا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں بلوچستان کے حوالے سے غیرملکی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہونا چاہئے جو بلوچستان کی صورتحال کوبڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔ بلوچستان کے عوام بھی اتنے ہی پرامن اور محب وطن ہیں جتنے دوسرے صوبوں کے لوگ ہیں۔ بلوچستان کامسئلہ ہماری ریاست کا اندرونی معاملہ ہے اوراسے پاکستان کے عوام نے ہی حل کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں بلوچستان میں فرقہ واریت کے نام پر ہلاکتوں کے مسئلے کوجغرافیائی اور سٹرٹیجک تناظرمیں دیکھنا چاہئے، بلوچستان میں فرقہ واریت کا مسئلہ ایک حقیقت ہوسکتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ فرقہ واریت کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر اور غیرملکی امداد سے کام کرنے والے گروپ بھی سرگرم ہیں، ہمیں حکومتی اور سماجی سطح پران کی سر گرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں