فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پاکستان

فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پاکستان

  

اسلام اصولی طور پر اس بات کا خواہاں ہے کہ جب کوئی شخص کم زور اور ناتواں ہو تو اس کی خدمت کی جائے اور جب وہ توانا اور طاقت ور ہو تو دوسروں کی خدمت کرے ہوہ بے بس اور بے اختیار ہو تو اسے سہارا دیا جائے اور جب وہ مضبوط ہو تو دوسروں کا سہارا بن جائے ۔

صد افسوس ! کہ مسلمان آج اپنے اس آفاقی دین سنہری تعلیمات اور تابناک ماضی سے یکسر نا بلد و ناآشنا ہیں نتیجتاًآج امت مسلمہ عملی ،اخلاقی ،معاشرتی اور معاشی انحطاط اور پستی و تنزلی کا شکار ہے ۔اسلام کا خدمت خلق،حقوق العباد ،اخوت ومحبت ،اخلاق حسنہ ،ایثار و وفا اور فلاح انسانیت کا وہ چہرہ دھندلاگیا جس فلاحی و رفاہی معاشرے کے گواہ غیر بھی ہیں ۔مگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں اوراپنے درخشاںماضی کے متلاشی ہیں

فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاحی معاشرہ کی از سر نو تشکیل چاہتی ہے حقوق العباد کی ادائیگی احکامات الہی اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد پرہو جہاں ہر فرد دوسرے کے کام آنے والا ،ہمدرد اور غمخوار ہو ،مظلوموں ،مجبوروں اور محروموں کی داد رسی ہو ،کوئی مفلس اور بے کس بھوکا یا پیاسا نہ رہے ہر شخص کو تن ڈھا نپنے کے لئے مناسب لباس میسر آئے ،کوئی مصیبت زدہ ،پریشان حال ،بے سہارا نہ ہو ،لا چار مریض دوا کو نہ ترسے ،ان تمام تنگ دستوں ،محتاجوں ،مسکینوں ،بیماروں ،غریبوں اور دکھی انسانوں کی خدمت ومدد بغیر کسی رنگ و نسل ،مذہب اور علاقہ کے کی جائے اور اس کا مقصود رب العزت کی خوشنودی اور حصول خیر ہی ہو ۔مفاد ِباہمی اورخدمت عامہ کے اس کار عظیم کو سر انجام دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کی بے حساب مدد اور توفیق سے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن بہبود انسانی اور رفاہ و فلاح کے منصوبہ جات کا آغاز کر چکی ہے تاکہ عوام کے مسائل کم کئے جاسکیں ،معاشی آسودگی ،طبی سہولیات و تعلیمی امور کے ساتھ ساتھ دیگر اصلاحی و تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کو ایسی مثبت سوچ فراہم کی جائے جسے اختیار کر کے ہر فرد ملت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی میں ایک مضبوط کردار ادا کر سکے ۔

دنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسان کو جہاں ہر قسم کی معلومات فراہم کی ہیں وہاں اس کا یہ احسان بھی ہے کہ اس سے جسمانی صحت کا شعور اجاگر ہوا ہے جو بیماریا ں سابقہ ادوار میں عدم ترقی کی بنیاد پر نا معلوم تھیں آج ہر گھر میںا ن کا تذکرہ اور مسئلہ عام ہے اس آگہی نے ہر مریض کو علاج کی راہیںسجھائی ہیں اور پوری دنیا میں جدید تحقیق کی بنیاد پر ہسپتال اور طبی ادارے قائم ہوئے تشخیص کے لئے لیبارٹریزقائم ہوئیںاور عمل جراحی نے ناقابل یقین حد تک بنی نوع انسان کی تکالیف کو دور کرنے کاکام سرانجام دیا ۔ آج ان سہولیات صحت کو معاشرہ اور فرد کی بنیادی ضرورت تسلیم کیا گیا ہے اس کے پیش نظر فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن تحقیق ،تشخیص ،علاج معالجہ اور سرجری کی سہولیات سے آراستہ ہسپتال اور ڈے کئیر سنٹرز ملک بھر میں قائم کر رہی ہے گائنی اورامراض نسواں کے لئے خواتین عملہ کو تعینات کیا گیا ہے مختلف شہروں میں میٹرنٹی ہوم بھی کھولے گئے ہیں ۔ اس وقت فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام ملک بھر میں 155ہسپتال اور ڈسپنسریاں کا م کر رہی ہیں جہاں سالانہ 13لاکھ سے زائد مریض مستفید ہو رہے ہیں جن غریب اور پسماندہ علاقوں میں مستقل طبی سہولیات مہیا نہیں کی گئیںان مقامات پر فلاح ِ انسانیت فاﺅنڈیشن کی طرف سے فری موبائل میڈیکل اور سرجیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں کیمپ اور اس میں موجود شعبہ جات کی تشہیر پورے علاقے میں کی جاتی ہے جس میں ماہرین صحت،تجربہ کار ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور رضا کار فی سبیل اللہ خدمات انجام دیتے ہیں ان کیمپوں میں عموماً کلینیکل لیبارٹری اور فری بلڈ گروپنگ کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے ۔ سال 2012-13ءمیں مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد فری میڈیکل کیمپس لگائے گئے جن میں 33لاکھ 50ہزار مریضوں کو مفت طبی سہولیا ت مہیا کی گئیں اور لاکھوں روپے مالیت کی ادویات بھی فراہم کی گئیں پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مرض میں رو ز بروز اضافہ ہو رہا ہے یہاں تک کہ بعض علاقوں میں یہ 26فیصد تک پھیل چکا ہے اس کی تشخیص اور علاج کا مہنگا ہونا غرباءکےلئے بنیادی مسئلہ ہے حکومتوں اور اداروں کی عدم توجہی بھی اس کے پھیلاﺅ کی ایک وجہ ہے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن ہر شہر میں اس کے علاج،تدارک اور اس بیماری کے بارے میں آگاہی کے سیمینارز منعقد کررہی ہے۔ جبکہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کی سکریننگ اور بی کی ویکسی نیشن ملک گیر سطح پر کی جا رہی ہے۔اب تک ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں کو ویکسی نیشن کی جاچکی ہے ۔ حادثات ،بیماریوں اور عمل جراحی میں خون کی ضرورت بالعموم ہوتی ہے۔ فلاحِ انسانیت فاﺅنڈیشن نے دیہاتوں،محلوں اور وارڈز میں چھوٹی سطح پر سو سو افراد کی بلڈ گروپنگ اور سکریننگ کی ہے پھر ان تمام افراد کی فہرستیں مرتب کر کے انہیں خون دینے کی اہمیت کا احساس دلایا جاتا ہے ۔ رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کرنے والے احباب کو ڈونر سوسائٹی میں شامل کر کے کارڈز جاری کئے جاتے ہیں اور حسب ضرورت شیڈول کے مطابق ان سے خون حاصل کیا جاتا ہے ۔ ہر سال بلڈ ڈونر سوسائٹی کے فراہمی خون پروگرام سے ہزاروں مریض مستفید ہورہے ہیں۔ بلڈ کینسر ،تھلیسمیا اور ہیموفلیا کے بچوں کےلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ آج دنیا میں جتنی ترقی ہوئی ہے اس میں انسان مشین سی کی شکل اختیار کر چکا ہے اسی نسبت سے روز مرہ کے حادثات اور بیماریوں کا بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ان مواقع پر اکثر جانی نقصان یا معذوری کا پیدا ہوجانا بروقت طبی امداد کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہوتا ہے اس مسئلہ کے حل کی اہم ترین صورت ایمبولینس کی بروقت دستیابی ہے تاکہ مریض، زخمی یا حادثہ کے شکار افراد کو ہسپتال تک منتقل کیا جاسکے اس ضرورت کے پیش نظر فلاح ِانسانیت فاﺅنڈیشن نے طبی آلات اور سہولیات سے آراستہ ایمبولینس سروس کاآغاز کیا ہے۔ 87شہروں میں یہ سروس اپنی خدمات انجام دے رہی ہے اس مقصد کے لئے 145ایمبولینس گاڑیاں کام کر رہی ہیں ۔ آنکھیں قدرت کا حسین تحفہ ہیں ان کی حفاظت انسانی ذمہ داری ہے وسائل کی کمی کی وجہ سے جس طرح دیگر بیماریوں کا علاج معالجہ مشکل ہے اس طرح پاکستان کی نصف آبادی امراض چشم میں مبتلا ہے۔ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نے ایک چیلنج سمجھ کر اس کو قبول کیا اور مریضوں کو اپنے پاس بلانے کی بجائے خود ان کے دروازے پر جا کر خدمات سرانجام دیں اس پروگرام میں مریضوں کی آنکھوں کا معائنہ جدید کمپیوٹرائزڈ مشینوں کی مدد سے کیا جاتاہے اور جن مریضوں کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے انہیں آپریشن کے ذریعے لینز ڈالے جاتے ہیں۔اس پروگرام کے تحت آٹھ ہزار آنکھوں کے آپریشن کئے جا چکے ہیں ۔

دنیا بھر میں پینے کا صاف پانی سنگین مسئلہ بن چکا ہے مگر پاکستان میں 85فیصد افراد کو یہ سہولت سر ے سے حاصل ہی نہیں ہے۔ تھرپارکر،بلوچستان میں آج بھی انسان اور جانور ایک جوہڑ کا پانی پینے پرمجبور ہےںحقوق انسانی کی تنظیمیں اور رفاہی ادارے ان غریب اور قحط زدہ لوگوں سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ بالخصوص حقوق نسواں کے ادارے جو دن رات عورتوں کے حقوق پر بیانات دیتے اور مظاہرے کرتے ہیں مگر تھر پارکر کی مجبور خاتون جو آگ اُگلتے سورج کی شدیدگرم دوپہرمیں میلوں پیدل سفر کرکے پانی کی بار بردار ی کا کام انجام دیتی ہے اس کے بارے میں خاموش ہیں اس سنگین مسئلہ کے حل کے لئے فلاحِ انسانیت فاﺅنڈیشن فراہمی آب کے منصوبہ جات کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ سندھ ،تھرپارکر ،بلوچستان ،خیبر اور آزاد کشمیر 1685کنویں ،ہینڈ پمپ اور دیگر واٹر سکیمیں مکمل ہوچکی ہیں جن سے ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیںفلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام جس طرح ملک بھر میں معاشرے کی فلاح واصلاح اور تشکیل نو کی کوششیں جاری ہیں۔اسی طرح معاشرے کے ناپسندیدہ اور ٹھکرائے ہوئے افراد خواتین وبچے جو مختلف کردہ وناکردہ جرائم کی پاداش میں ملک کی مختلف جیلوں میں پس زندان ایک علیحدہ ہی معاشرے کی بنیاد رکھ کر ایام زیست گزار رہے ہیں۔ ان کی فلاح وبہبود کےلئے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی طر ف سے شعبہ مقررہے۔ جو اسیران کو اخلاقی تربیت،بنیادی تعلیم،تکنیکی مہارت،طبی امداد اور قانونی معاونت مہیا کر رہا ہے۔ افطار الصائم پروگرام کے تحت ہر سال رمضان المبارک مےںروزانہ ہزاروں افراد کے سحر و افطار کا بندوبست کیا جاتاہے۔جس میں مہاجرین ،ورثاءشہداءاور قحط زدہ افراد وسیلاب زدگان ،دینی مدارس کے طلباء،غرباء،قیدی اور یتامیٰ شامل ہیں ۔

انسان نے موجود ہ دور میںجو ترقی کی ہے اس کے فوائد و ثمرات سے کسی کو بھی انکار نہیں مگر اس کا ایک منفی اور نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ ان ایجادات ،تعمیرات ،فیکٹریوں ،کارخانوں حتیٰ کہ آبادیوں اور محلوں میں آئے دن آگ لگنے ،ڈوب جانے ،دب جانے ،پھنس جانے کے واقعات بڑی تیزی سے رونما ہورہے ہیں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نے ان حالات میں کام کرنے کے لئے ریسکیو اور ایمرجنسی کا شعبہ قائم کیا ہے اور کارکنان کو ان حالات میں کام کرنے کی مکمل تربیت فراہم کی گئی ہے واٹر ریسکیو کی مکمل کٹس ،بوٹس اور غوطہ خوری کا سامان ملک کے اکثر علاقوں میں فراہم کیا جا چکا ہے ۔آگ بجھانے کی تربیت اور افراد کو نکالنے کی مہارت بھی حا صل کی گئی ہے

فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ بیرون ملک اور اندرون ملک آنے والی قدرتی آفات اور سانحات میں فاﺅنڈیشن کا کردار مثالی رہا ہے 2005ءمیں کشمیر میں آنےوالا خوفناک زلزلہ اور 2010ءکے سیلاب میں اس کے امدادی رضا کاروں کو عا لمی اداروں اور نیشنل و انٹرنیشنل میڈیا نے بھی خوب سراہا تھا ۔

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پورے ملک کا 43فیصد مگر آبادی صرف 5فیصد ہے ۔غربت ،بے روز گاری ،تعلیمی اداروں کا فقدان ،سہولیات صحت کی عدم دستیابی ،مواصلات اور بجلی کی شدیدکمی ،سب سے بڑھ کر پینے کے پانی کی ناکافی سہولیات فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نے اپنے اہداف میں سر فہرست بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کو رکھا ہے تاکہ یہاں کے بسنے والے پسماندہ اور غریب لوگ بھی زندگی کی ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں جو ملک کے دیگر عوام کو حاصل ہیں پورے صوبے کا سروے کر کے ضروریات کے اعتبار سے درجہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن بلوچستان میں آنے والی قدرتی آفات کے موقع پر کروڑوں روپے کی ہنگامی مدد،180واٹر پروجیکٹس کی تکمیل کے ساتھ ساتھ2015ءتک اہم شہروں میں ایمبولینس سروس کا اجرائ،صوبہ بھر میں دینی و فلاحی مراکز کا قیام جبکہ ژوب ،زیارت ،جعفرآباد،چمن ،پشین ،خاران ،پنجگور ،تربت ،پسنی ،گوادر،قلات،خضدار،اورسبی میں اسلامک فلاحی کمپلیکس کی تعمیرکے منصوبہ جات پر کام کررہی ہے۔علاوہ ازیں سال 2012-13ءمیں صوبے بھر میں میڈیکل کیمپنگ کر کے 60ہزار سے زائد مریضوں کو مفت طبی سہولیات مہیا کی گئیں ۔

دکھی انسانیت کی خدمت کا یہ سفر جاری و ساری ہے آپ بھی اس با برکت مہینے میں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے ساتھ مل کر انفاق فی سبیل اللہ کہ اس عظیم عمل میں شریک ہو جائیں ۔    ٭

مزید :

کالم -