بچت،نجکاری اور سرمایہ کاری

بچت،نجکاری اور سرمایہ کاری
بچت،نجکاری اور سرمایہ کاری

  



وزیراعظم ہاﺅس کے گریڈ 6سے 13تک 25ملازمین کی برطرفی کو کسی صورت مستحسن قدم قرار نہیں دیا جا سکتا،ایسے اقدامات حکومت کی غیر مقبولیت میں اضافے کا موجب تو بن سکتے ہیں، ان کے ذریعے بچت نہیں کی جا سکتی۔دوسری جانب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل(اگر ایسا ہو پاتا ہے) اور دیگر حکومتی اداروں میں لاکھوں روپے ماہانہ وصول کرکے ڈائریکٹرز جن کا تعین سیاسی بنیادوں پر ہوا، کو برطرف کرنے کا فیصلہ یقینا خوش آئند ہے۔اگرچہ بہت سے سرکاری اداروں میں گزشتہ دور میں نان گریٹڈ عہدوں (گریڈ 1سے 15تک) پر بھی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرکے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ہوئیں، لیکن یہ اہلکار قومی خزانے پر اتنا بڑا بوجھ نہیں، جتنا چند اہم محکموں میں کلیدی عہدوں پر تعینات افسران ہیں۔گزشتہ دور میں اربوں روپے سالانہ خسارے میں جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کی تنخواہ 55لاکھ روپے ماہوار تھی۔پی آئی اے پر ہی کیا موقوف بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ہوں یا دیگر سیمی گورنمنٹ ادارے جن میں نیسپاک بھی شامل ہے میں لاکھوں روپے ماہوار تنخواہ پانے والے سینکڑوں افسران ہیں ،جن کا تقرر سیاسی بنیادوں پر ہوا اور ان کی ان محکموں کو قطعاً ضرورت نہ تھی کہ ان افسران کے بغیر بھی یہ ادارے چل رہے تھے۔ یوں یہ افسران قومی خزانے پر اربوں روپے ماہانہ کا بوجھ لادے ہوئے ہیں۔جیسے دور کرنا ازحد ضروری ہے۔حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے ملازمین سے صرف نظر کرتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ان افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کردے۔

مسلم لیگ(ن) کے دوسرے دور حکومت (1997-1999)کے دوران سرکاری تحویل میں کام کرنے والے کئی بینکوں کی نجکاری ہوئی، اس نجکاری کی بدولت ان بینکوں میں کام کرنے والے ہزاروں چھوٹے ملازمین بیروزگار ہوگئے،جبکہ دوسری جانب انہی بینکوں میں لاکھوں روپے ماہوار مشاہیرے پر نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لئے افراد کا چناﺅ کیا گیا، ایسی نجکاری کو مکمل اور شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا،کیونکہ حکومت نے تمام شیئرز فروخت نہیں کئے اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیوں کا اختیار اپنے پاس رکھا،جبکہ ان بینکوں میں کام کرنے والے چھوٹے ملازمین کو چند فیصد حصص خریدنے والے مالکان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔یوں ان بینکوں سے ریٹائرڈ ہونے والے چھوٹے ملازمین اپنے بقایا جات اور پنشن کے حصول کے لئے عدالتوں کے دھکے کھانے پر مجبور ہوگئے۔مسلم لیگ(ن) کی موجودہ حکومت ایک بار پھر ماضی کی طرح سرکاری اداروں کی نجکاری کی خواہش مند دکھائی دیتی ہے۔وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیلوپمنٹ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اگر پی آئی اے حکام نے ادارے کی کارکردگی کو بہتر نہ بنایا تو اس کی نجکاری کردی جائے گی۔اگرچہ حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ خسارے میں جانے والے اور قومی خزانے پر بوجھ اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرکے ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، لیکن بعض ادارے جیسے ریلوے اور قومی ایئر لائنز دنیا بھر میں حکومتی سرپرستی میں ہی چلتے ہیں اس لئے انہیں مکمل طور پر نجی شعبے کے حوالے نہیں کیا جا سکتا، البتہ ان اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے نجی شعبے کا اشتراک ضرور حاصل کیا جا سکتا ہے، پی آئی اے اور ریلوے دونوں اس وقت خسارے میں جا رہے ہیں اور ان کی بدولت قوم کے سینکڑوں ارب روپے سالانہ ضائع ہو رہے ہیں۔ریلوے اس وقت خالصتاً سرکاری ادارہ ہے، جس میں کام کرنے والے ملازمین دوسرے سرکاری اداروں کی مانند گریڈ (1-22)کے مطابق مشاہیرہ وصول کرتے ہیں۔اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ریلوے افسران ضرورت سے زیادہ تنخواہیں وصول کررہے ہیں، ریلوے کے خسارے میں جانے کی بڑی وجہ یہاں ہونے والی بدعنوانیاں ہیں۔اس ادارے کے سینکڑوں ارب کے اثاثے ہیں، جنہیں استعمال میں لا کر اس کے محاصل بڑھائے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب اربوں روپے سالانہ کی بدعنوانی کا سدباب بھی ادارے کے خسارے کو کم کرسکتا ہے۔ریلوے کے مقابلے میں پی آئی اے کی صورت حال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اسے ایک کارپوریشن کی مانند چلایا جارہا ہے اور اس کے اعلیٰ افسران کی تنخواہیں دیگر سرکاری افسران کی طرح نہیں، بلکہ یہ کارپوریٹ سیکٹر کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے خزانے پر اربوں روپے سالانہ کا بوجھ ہے۔

پی آئی اے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں براجمان بورڈ آف ڈائریکٹرکے ممبران کوبرطرف کرکے نئے افراد کا میرٹ پر تقرر کیا جائے اور نہیں دیگر سرکاری افسران کے برابر مشاہیرہ اور مراعات دی جائیں، ایسا کرنے سے ان اداروں کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی اور سینکڑوں ارب سالانہ کی بجٹ بھی ہوگی۔بجلی کی تقسیم کار اور پیداواری کمپنیوں کے علاوہ دیگر اداروں جیسے اوگرا، او جی ڈی سی ایل ، پی ٹی سی ایل وغیرہ کے سربراہان اور ڈائریکٹرز دیگر سرکاری افسران کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیںاور مراعات حاصل کررہی ہیں جو نہ صرف دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ زیادتی ہے، بلکہ اس سے قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اس لئے ان اداروں کے سربراہوں کی تنخواہیں اور مراعات بھی دیگر سرکاری اداروں کے سربراہان کے برابر کی جائیں۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ وہ فارمولا ہے، جو دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔سرکاری اداروں کی کوڑیوں کے بھاﺅ نجکاری کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اصول کے تحت نجی شعبے کو اس بات کے لئے راضی کرے کہ وہ سرکاری اداروں میں سرمایہ کاری کرے ، اس سے نہ صرف سرکاری اداروں کے محاصل میں اضافہ ہوگا، بلکہ ان کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔اس سلسلے میں ریلوے کی مثال ہی لیجئے اگر ریلوے کی ہزاروں ایکڑ زمین جس پر لینڈ مافیا قابض ہے لیز پر پرائیویٹ لوگوں کو دے دی جائے اور ریلوے کی کمرشل اراضی(یہ بھی سینکڑوں ایکڑ ہے)کو تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے تو ریلوے کے محاصل میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ خسارے سے نکل کر منافع میں جانے والا ادارہ بن سکتا ہے۔حکومت نجکاری کمیشن کو فعال بنانے کی خواہشمند ہیں جو بہت اچھی بات ہے، لیکن یہ خیال رہے کہ ماضی کی طرح نجکاری کے نام پر قومی اداروں کی لوٹ سیل نہ لگائی جائے۔    ٭

مزید : کالم