کویت :اپوزیشن کا شہریت منسوخی کے انتباہ پر احتجاج

کویت :اپوزیشن کا شہریت منسوخی کے انتباہ پر احتجاج
کویت :اپوزیشن کا شہریت منسوخی کے انتباہ پر احتجاج

  

کویت(نیٹ نیوز)کویت کی حزب اختلاف نے حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بننے والے شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔کویتی کابینہ نے سوموار کو وزارت داخلہ کو ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب بننے والے افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا اور پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مخالفین سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔حکومت نے سیاست میں ملوث ہونے والی غیر منافع بخش تنظیموں بہ شمول اسلامی خیراتی اداروں کو بھی انتباہ کیا تھا۔کویت کی بائیں بازو کی ترقی پسند تحریک نے ایک بیان میں حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ تو سکیورٹی ایجنسیوں کو حزب اختلاف کے پ±رامن مظاہروں کو کچلنے ، ان کی شہریت منسوخ کرنے اور غیر منافع بخش اداروں کے خلاف کارروائی کا کھلا دعوت نامہ ہے''۔لبرل نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس کے ایک لیڈر بشارالسیغ نے کہا ہے کہ ''کسی بھی کویتی شہری کی شہریت کی منسوخی انسانیت کے خلاف جارحانہ اقدام ہے۔خاص طور پر اگر یہ سیاسی اور مذہبی رائے کی بنیاد پر کیا جارہا ہے تو پھر یہ ایک جارحیت ہے''۔ترقی پسند تحریک اور حزب اختلاف کی شخصیات نے حکومت کو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمان کو تحلیل کرکے پرانے انتخابی قانون کی بنیاد پر نئے پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں۔تاہم حکومت نواز ایک رکن پارلیمان نبیل الفضل نے کابینہ کے فیصلے کو سراہا ہے اور اس پر فوری عمل درآمد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر لکھا:''ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر حکومت کی جانب سے سنجیدگی کے اظہار کے لیے اس حکم پر فوری طور پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو یہ رائیگاں چلا جائے گا''۔حکومت کی جانب سے نئے فیصلے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سابق سینیر عہدے داروں پر حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ انھوں نے قومی خزانے سے اربوں لوٹ لیے تھے۔حزب اختلاف نے اسی ماہ سرکردہ اپوزیشن لیڈر مسلم البراک کی عدلیہ کی توہین کے الزام میں گرفتاری کے خلاف مظاہرے کیے تھے اور مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

پولیس نے مظاہروں کے الزام میں پچاس افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔البتہ اب ان میں سے بیشتر ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -