ڈی چوک

ڈی چوک
ڈی چوک
کیپشن: pic

  

حکومت کے لئے یہ ایک مشکل گھڑی ہے، کیونکہ جب جولائی گزرے گا اور اگست آئے گا تو ڈاکٹر طاہر القادری انقلابی مارچ، جبکہ عمران خان سونامی مارچ کی تیاریاں کر رہے ہوں گے۔ یہ دونوں حضرات حکومت کے لئے کیا مشکلات پیدا کریں گے، اس پر بہت سے تجزئیے کئے جا رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے مدافعتی طور پر ڈی چوک اسلام آباد میں 14اگست کو یوم پاکستان کے حوالے سے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا ہے ،جس میں فوج بھی ہوگی اور حکومتی عہدیدار بھی، لیکن پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 14اگست کے روز ضرور اسلام آباد کے ڈی چوک کی طرف مارچ کریں گے اور حکومت پر دباﺅ بڑھائیں گے۔

حکومت کو بھی اس صورت حال کا اچھی طرح ادراک ہے، وہ سمجھتی ہے کہ اسلام آباد میں ایک دو لاکھ افراد بھی داخل ہو گئے تو حالات کو کنٹرول کرنا اُن کے بس میں نہیں ہو گا۔ تاریخی ڈی چوک میں اگرچہ عملی طور پر حکومت قابض ہو گی اور 14اگست کے حوالے سے تقریب کا اہتمام ہو رہا ہو گا، اس لئے یہ تو مشکل نظر آتا ہے کہ کوئی سونامی مارچ یا انقلابی مارچ اس چوک تک پہنچ سکے گا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان یا ڈاکٹر طاہر القادری پہلے سے طے شدہ اپنے پروگراموں میں کوئی تبدیلی لائیں۔ ہاں، اس مسئلے میں اُن کے مابین مشاورت جاری ہے۔ ممکن ہے 14اگست کو سونامی مارچ ڈی چوک اسلام آباد کا رُخ نہ کرے اور فیض آباد یا لیاقت باغ میں ہی کہیں روک لیا جائے اور اگلے روز، یعنی 15اگست کو اُن کی پیش رفت ڈی چوک کی طرف ہو، مگر ابھی یہ قیافہ ہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ذرائع ابھی اس کی تصدیق نہیں کر رہے، مگر یہ ضرور ہے کہ حکومت اندر سے سخت تذبذب کا شکار ہے۔

مسلم لیگ(ن)کے اہم رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو تو یہاں تک کہنا پڑا ہے کہ ہم ڈی چوک کی تقریب میں عمران خان کو بھی شرکت کی دعوت دیں گے، مگر نہیں لگتا کہ عمران خان اس دعوت کو قبول کریں، کیونکہ وہ جن مطالبات کو پیش کر رہے ہیں ،اُن میں سے ایک اہم مطالبہ چار حلقوں کے ووٹوں کی تصدیق ہے، یعنی وہ چاہتے ہیں کہ جن حلقوں کی وہ نشاندہی کر رہے ہیں، اُن کے ووٹوں کے جعلی یا اصلی ہونے کی تصدیق نادرا کرے، مگر اس میں کئی قانونی پہلو رکاوٹ کا باعث ہیں۔ چونکہ ووٹوں کی تصدیق کرانے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن یا الیکشن ٹربیونل کے پاس ہے۔ اس لئے حکومت اس فرض یا ذمہ داری سے بالکل سبکدوش ہو جاتی ہے۔ اس کا اعتراف پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور معروف قانون دان حامد خاں اپنی ایک میڈیا ٹاک میں کر چکے ہیں۔ اُن کا مو¿قف ہے کہ ان چار حلقوں کے کامیاب امیدوار جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ الیکشن کمیشن کو ذاتی طور پر یہ درخواست کریں کہ انہیں ووٹوں کی تصدیق پر کوئی اعتراض نہیں، تو پھر ہی الیکشن کمیشن ووٹوں کی تصدیق کا حکم جاری کر سکتا ہے، مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ جیتنے والا کوئی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی ایسا فیصلہ یا درخواست کرے ،کیونکہ اس سے پنڈورا باکس کھل جائے گا اور ہر ناکام امیدوار اپنے حلقے کے ہر کامیاب امیدوار پر دباﺅ ڈال سکتا ہے کہ وہ بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایسا ہی فیصلہ کرنے پر مجبور کرے۔

پھر کیا ہوگا؟....پھر یہی ہو گا کہ ہر حلقے میں ایک نیا الیکشن ہو رہا ہو گا اور سیاسی صورت حال مخدوش ہی نہیں ،شدید عدم استحکام کا بھی باعث ہو گی۔ عمران خان جو بات کر رہے ہیں ، مسلم لیگ(ن)نے بھی اُن کی ہاں میں ہاں ملائی تھی اور کامیابی کے باوجود کئی حلقوں میں انتخابات کو دھاندلی زندہ قرار دیا تھا۔ ایسے ہی الزامات ایم کیو ایم اور اے این پی کے بھی تھے۔مسلم لیگ(ق)بھی الزامات کی اس بوچھاڑ میں پیچھے نہیں تھی۔ اُس کے رہنما اب تک یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا۔ عمران خان کے الزامات عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے علاوہ نگران حکومت پر بھی ابھی تک قائم ہیں، بلکہ ان میںروزبروز تیزی آتی جا رہی ہے، تاہم اس سارے معاملے کو کسی منطقی انجام تک تو پہنچنا ہی ہے۔

ہماری دعا ہے ، 14اگست آئے اور خیریت سے گزر جائے۔ قوم جب جشنِ آزادی منا رہی ہو، کوئی سانحہ، کوئی دلخراش واقعہ پیش نہ آئے۔ حکومت سہمی ہوئی ہے یا ڈری ہوئی ہے، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو اس کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ سیاسی معاملا ت کو سیاسی طریقوں سے حل کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ جب بھی کوئی چیز حد سے تجاوز کر جائے تو اس کے بُرے ہی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ملک اس وقت بُرے اور نہایت سنگین حالات سے گزر رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب بھی جاری ہے اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب نے بھی پورے ملک کو ہلایا ہوا ہے اور بھی کتنے ہی مسائل ہیں جو سر اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہمیں تحمل، برداشت، اور بردباری کے ساتھ آگے چلنا ہے۔ دوسروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی روش نہ چھوڑی تو اس کا بہت نقصان ہو گا۔ ہمیں اپنی سیاسی سوچ میں میچورٹی لانے کی ضرورت ہے۔ یہی میچورٹی ہمیں ایک باوقار قوم بنا سکتی ہے اور ہاں، حکومت کو اگر کسی محاذ پر پسپائی اختیار کرنی پڑے، تو کر لے۔ اپوزیشن جماعتوں کو بھی ہمارا یہی مشورہ ہے۔ اب ضد، ہٹ دھری اور میں نہ مانوں کی سیاست کا وقت نہیں، ہمیں بدلے ہوئے وقت کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے۔

مزید :

کالم -