میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی بریفنگ!

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی بریفنگ!
 میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی بریفنگ!
کیپشن: pic

  


زیادہ دیر کی بات نہیں تقریباً تمام نجی ٹی وی چینلوں پر حالاتِ حاضرہ کے نام پر ہر شب 8بجے سے12بجے تک جو پروگرام نشر کئے جاتے تھے، ان کا ایک سکہ بند اور بندھا ٹکا طریقہۂ کار (سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر یا مختصراً SOP) ہوتا تھا۔ کسی قومی مسئلے کو موضوعِ سخن بنا کر طرفین کے ترجمانوں کو بلا لیا جاتا تھا۔ ان مقررین کی ایک فہرست ہر چینل کے پروگرام پروڈیوسر کے پاس ہوتی تھی۔ وہ ٹیلی فون کرکے ان کو دعوت دیا کرتا تھا کہ یا تو اصالتاً آج فلاں موضوع پر تیاری کر کے آئیں یا وڈیو لنک کے ذریعے ان لوگوں کو شامل ِ گفتگو کر لیا جاتا تھا جو ٹی وی سٹیشن کے آپریٹنگ روم سے دور کسی دوسرے بڑے شہر میں بیٹھے ہوتے تھے۔ ان بڑے شہروں میں عموماً صوبائی دارالحکومت ہی شامل کئے جاتے تھے۔ کبھی کبھی چند مبصر بھی ساتھ ہی مدعو کر لئے جاتے، ان مبصرین کی ہمدردیاں کس فریق کے ساتھ ہوتی تھیں، اس بارے میں ناظرین و سامعین کو کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا تھا۔ شرکائے مباحثہ میں خواتین بھی ہوتیں اور مرد حضرات بھی۔ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے ترجمانوں کی وساطت سے شریکِ مباحثہ ہوا کرتیں۔۔۔ البتہ ایک پارٹی جو شریک نہیں ہوتی تھی وہ پاکستان کی مسلح افواج تھیں!

گئے وقتوں میں جنرل شوکت سلطان ڈی جی آئی ایس پی آر، وردی سمیت سکرین پر جلوہ گر ہوتے اور فوج کا وہ موقف بیان فرماتے جو ان کو بتایا جاتا تھا۔ وہ اپنے دفتر میں ہی بیٹھ کر شریکِ گفتگو ہونا پسند کیا کرتے تھے۔ شاذ ہی کبھی ایسا موقع آیا ہو گا کہ وہ بہ نفسِ نفیس چل کر کسی نجی چینل پر گئے ہوں گے اور فوج کا موقف بیان کیا ہو گا۔

یہ وہ دور تھا جب میڈیا پر آ کر مسلح افواج پر بالعموم اور پاک آرمی پر بالخصوص تبرہ توّلیٰ کیا جانا، معمولات میں شامل تھا۔ ایک وردی پوش میجر جنرل ISPR ڈائریکٹوریٹ میں بیٹھا ایک طرف ہوتا تھا اور باقی سارے تجزیہ نگار اور سیاسی رہنما(حاضر سروس بھی اور ریٹائرڈ بھی) دوسری طرف۔۔۔۔ یہ دور جنرل مشرف کا دور تھا۔

جب مشرف رخصت ہوئے اور ان کی جگہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان آرمی کی کمانڈ سنبھالی تو ان کی پالیسی یہ رہی کہ ایک چپ اور سو سُکھ!۔۔۔

ان کے دورِ شش سالہ میں بھی پاک فوج دہشت گردوں سے مار کھاتی رہی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ جب خود اسلام آباد کو خطرہ لاحق ہوا تو کار پردازانِ حکومت کی آنکھ کھلی۔ خدا خدا کر کے سوات آپریشن کی منظوری دی گئی اور جنوبی وزیرستان میں بھی آپریشن کیا گیا۔ ان آپریشنوں کے دوران بھی وابستہ مفادات نے شور مچائے رکھا۔ ان مفادات کو ملک اور قوم کی کیا پرواہ تھی، ان کا ووٹ بینک چونکہ درہم برہم ہو رہا تھا اس لئے انہوں نے سعادت حسن منٹو کے مختصر افسانوں کو نسیم حجازی کے ضخیم ناول بنا دیا۔

یہی وہ ماہ سال تھے جب فوج کی ’’ینگ آفیسرز کلاس‘‘ دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتی رہی، کڑھتی رہی، اپنے ساتھیوں کی شہادت کا ماتم کرتی رہی لیکن آفرین ہے اس نو عمر اور نوجوان مسلح افسروں اور سولجروں کی کلاس پر کہ نظم و ضبط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ فوج کی نبض (Pulse) معلوم کرنے کے ادارے برابر ہائی کمانڈ کو خبردار کرتے رہے ہوں گے کہ یہ صورت حال فوج کے ڈسپلن کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں، لیکن یہ فوج نظم و ضبط کی جس لڑی میں پروئی ہوئی تھی، وہ اس خارجی سامانِ شکست و ریخت سے متاثر نہ ہوئی۔ ۔۔۔ اندرونی شکست و ریخت کا بیرو میٹر البتہ ابھی تک ایجاد نہیں ہو سکا!

پھر گزشتہ برس سیاسی قیادت اور فوجی قیادت دونوں تبدیل ہو گئیں۔ گزشتہ پانچ سالہ سیاسی قیادت کو یہ کریڈٹ دیا جانا چاہئے کہ اس نے حزب اختلاف کے پے در پے وار برداشت کئے اور اپنے دو وزرائے اعظم کو پرو ایکٹو عدلیہ کے ہائر الیشلان کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا مگر اس انہونی سیاسی صورت حال کو ’’جمہوریت کا حسن‘‘ قرار دے کر پانچ برس پورے کئے۔ اور ساتھ ہی عسکری قیادت کو بھی کریڈٹ دیا جانا چاہئے کہ مُنہ پھٹ اور بے لگام میڈیا کے گھناؤنے وار برداشت کئے اور سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اُن میڈیا ہاؤسز اور اُن میڈیا شخصیات کی من مانیوں کے سامنے کوئی دیوار حائل نہ کی جو فوج کے خلاف زہر آلود پراپیگنڈہ کر رہی تھیں۔

پھر جب اواخر2013ء میں پاک آرمی کی قیادت تبدیل ہوئی تو اسے معلوم تھا کہ اس کی زیر کمانڈ آفیسرز کلاس کے جذبات کی طغیانی کتنی بلا خیر ہے اور اس کا رُخ کدھر ہے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ جنرل راحیل شریف ایک ایسے وقت میں فوج کی قائدانہ سٹیج پر نمودار ہوئے جب سارا ملک اور ساری قوم ایک تاریک مستقبل کی طرف جا رہی تھی۔ جنرل راحیل شریف نے اپنی سیاسی قیادت کو جو بریفنگ دی اور جس طرح پاکستان کی بقاء اور عدم بقا کا نقشہ کھینچا وہ گویا وقت کی پکار تھی اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی یہ کریڈٹ دینا از بس ضروری ہے کہ انہوں نے طوعاً و کرہاً ہی سہی اپنے دائیں بازو کے روائتی جھکاؤ کے علی الرغم ایک مختلف سٹینڈ لیا۔ ان کی کابینہ کے چند عقاب اور حکومت میں شامل چند سیاسی جماعتیں نہیں چاہتی تھیں کہ شمالی وزیرستان میں فوج بھیجی جائے۔ وہ مذاکرات کی رٹ لگا تی رہیں۔ لیکن دہشت گردوں کو یہ ’’کریڈٹ‘‘ دینا چاہئے کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے امن مذاکرات کو سبوتاژ کئے رکھا اور پھر کراچی ائر پورٹ پر حملہ کر کے اپنی بربادی کے تابوت میں آخری کھیل ٹھونک دی!

شمالی وزیرستان کا یہ آپریشن اب 15جون 2014ء سے جاری ہے اور قارئین اس کی پراگراس سے واقف ہیں۔ مَیں صرف یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آج فوج نے آخر کار اپنی میڈیا پالیسی کے روایتی حصار سے باہر آنے کا فیصلہ کر کے گویا پاکستانیوں کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔

اگلے روز ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے خود کئی نجی چینلوں پر آ کر ٹی وی اینکروں کو اس آپریشن کی تازہ ترین صورت حال پر جو آگاہی دی وہ فوج کی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم والی سابقہ روایتی پالیسی سے ہٹ کر تھی۔ ایکسپریس نیوز پر تو باقاعدہ ایک ’’قدِ آدم‘‘ زمینی نقشہ بنایا گیا تھا اور جنرل باجوہ نے اس نقشے کے ذریعے جو آپریشنل آگہی ناظرین کو بہم پہنچائی وہ ہزاروں ٹاک شوز اور بحث مباحثوں سے بڑھ کر تھی۔ پھر IDPs کے لئے امدادی کارروائیوں کو جس طرح ہائی لائٹ کیا گیا، وہ بھی ایک قابلِ صد ستائش کوشش تھی۔

میرن شاہ کو کلیئر قرار دینے کے بعد میر علی کی کلیئرنس کا جاری عمل،۔۔۔ انIDPs کی واپسی کہ جو پاک افغان سرحد عبور کر کے پکتیکا اور خوست جا چکے تھے،۔۔۔ ٹنوں Explosivesکو ٹھکانے لگانے اور خطرناک اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی اور اس کی تلفی،۔۔۔ بارودی سرنگوں کی کلیئرنس کے دوران پیش آنے والی مشکلات،۔۔۔ بنوں کے علاقے میں شدید گرمی کے موسم میں بھی صاف پانی کی فراہمی،۔۔۔ بیمارIDPs کے لئے ادویات اور فیلڈ میڈیکل یونٹوں میں طبی سہولیات کی بہم رسانی،۔۔۔ نقد رقوم کی تقسیم اور سب سے بڑھ کر IDPs کو یہ مژدۂ جانفرأ کہ وہ بہت جلد اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔۔۔ یہ سب اقدامات پاک فوج کے اس امیج کی بحالی کے اقدامات کہے جائیں گے جن کو وابستہ مفادات نے ایک عشرے سے مجروح کرنے کا بیڑا اُٹھا رکھا تھا۔

جنگ اور جیو کی بندش (خواہ وہ چند روز کے لئے ہی تھی) پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ایک نئے دور کا Defining Momentتھا۔ اب بیشتر نیوز چینل پہاڑ کی دوسری طرف جا چکے ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ سامنے کی سلوپ پر کیا مناظر دکھائے جاتے تھے اور عقبی سلوپ کے مناظر کی تفصیلات کیا تھیں اور کیا ہیں!

ڈی جی آئی ایس پی آر کا نجی ٹی وی چینلوں پر آ کر آپریشن ضربِ عضب کی تازہ ترین صورت حال پر بریفنگ دینا ایک نہایت خوش آئند آغازہے۔ وہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر بھی میڈیا ٹیموں کی بیٹریوں (Batteries) کو بلوا سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ظاہر ہے فوج کی ہائر کمانڈ کے احکامات کے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اس ہائر کمانڈ سے میری ایک گزارش اور بھی ہے کہ جس طرح کا نقشہ ’’ایکسپریس نیوز‘‘ پر دکھایا گیا اور اس کی مدد سے جو بریفنگ دی گئی اس قسم کے نقشہ جات باقی بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کو بھی بنانے اور دکھانے چاہئیں اور ان کی مدد سے جنرل عاصم سلیم باجوہ کو باری باری مختلف ٹی وی سٹیشنوں پر آ کر قوم کو بریف کرنا چاہئے۔ میڈیا ہاؤسز کی باہمی رقابتیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن یہ وقت ان رقابتوں کو پالنے اور اچھالنے کا نہیں، دبانے اور سکیڑنے کا ہے۔ دہشت گردوں کی مکمل سرکوبی کے ساتھ قوم کا خوشحال مستقبل وابستہ ہے۔ ایک طویل مدت سے قوم مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہے۔ اس کو امید کی یہ کرن دیکھنی نصیب ہو جائے تو اس کا نصیبہ سنور جائے۔

علاوہ ازیں مَیں یہ بھی عرض کروں گا کہ ہر بڑے میڈیا ہاؤس کو اپنے مرکزی سٹیشن میں ایک ’’آپریشن روم‘‘ بھی بنانا چاہئے۔ اس کی تیاری میں فوج سے مدد لی جا سکتی ہے۔ فوج کی انٹیلی جنس یونٹیں اور سروے آف پاکستان والے مل کر یہ ’’آپریشن روم‘‘ تیار کر کے میڈیا ہاؤسز کو دے سکتے ہیں۔ ان دیواری نقشوں پر ان تمام مقامات کو انگریزی کی بجائے اردو میں دکھانا ہو گا جن پر پاک فوج کارروائی کر ہی ہے۔9بجے شب جب خبر نامہ شروع ہوتا ہے تو اس کا آغاز اسی آپریشن روم کی مدد سے ضربِ عضب کیLatest خبروں کو پیش کر کے کیا جانا چاہئے۔ اول اول یہ بریفنگ ISPR کی مدد سے دی جا سکتی ہے لیکن بعد میں سویلین حضرات بھی یہ فریضہ بخوبی سنبھال سکتے ہیں۔

دیوار پر قد آدم نقشہ آویزاں ہو اور پوأنٹر (Pointer) سے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں وغیرہ کی نشاندہی کر کے بتایا جائے کہ دہشت گردوں کے ساتھ کہاں کہاں اور کیا کیا معرکہ آرائیاں ہوئیں تو اس سے دیکھنے سننے والوں کی معلومات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔۔۔ میر علی، میرن شاہ، دتہ خیل، بایو، شوال کی پہاڑیاں وغیرہ ایسے نام ہیں جو ہم آئے روز اخباروں میں پڑھتے اور ٹی وی پر سنتے تو ہیں، لیکن:’’ شنیدہ کے بود مانندِ دیدہ؟‘‘

پرنٹ میڈیا والے بھی جب اس آپریشن کی تفصیلات طبع کریں تو ان کو بھی خبر کے ساتھ نقشہ ضرور لگانا چاہئے (جیسا کہ مغرب کے پرنٹ میڈیا میں کیا جاتا ہے) یہ نقشے انٹرنیٹ پر باآسانی مل سکتے ہیں۔ ان پر صرف اتنا اضافہ کرنا ہو گا کہ انگریزی مقامات کو ہٹا کر اردو میں لکھ دیں۔۔۔ اور یہ کام کوئی ایسا مشکل کام نہیں۔۔۔۔ صرف شروعات کا روائتی حصار توڑنے کی دیر ہے۔ *

مزید :

کالم -