آصف علی زرداری کامشن کیا ہے؟

آصف علی زرداری کامشن کیا ہے؟
آصف علی زرداری کامشن کیا ہے؟
کیپشن: pic

  

مرشدسائیں کے بعد اگر مرشد اعلیٰ آصف علی زرداری نے چپ کا روزہ توڑ دیا ہے تو اس سے یہ تصدیق تو ہو گئی کہ مرشدسائیں نے پرویز مشرف سے ڈیل کے بارے میں جو انکشاف بلاول ہاﺅس میں بیٹھ کر کیا تھا، اسے مرشدِ اعلیٰ کی مکمل آشیرباد حاصل تھی۔میرا حسنِ ظن اب بھی یہی کہتا ہے کہ مرشداعلیٰ آصف علی زرداری وزیراعظم نوازشریف کی خیرخواہی میں یہ سب کچھ کررہے ہیں، اگرچہ ان کے اس بیان کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کی طرف سے لانگ مارچ میں شرکت کا دعوت نامہ بھی بھیج دیا گیا ہے، مگر میرا نہیں خیال کہ آصف علی زرداری نوازشریف کے خلاف اس حد تک جائیں گے۔ان کا مقصد ایک دوست کی حیثیت سے غلطیوں کی نشاندہی کرنا نظر آتا ہے،جس کا دہرا فائدہ ہونے کی امید ہے۔عوام کی نظرمیں پیپلزپارٹی کی ساکھ بھی برقرار رہے گی اور نوازشریف بھی کسی ممکنہ خطرے سے بچ جائیں گے۔یہ بات تو اب پرانی ہو چکی ہے کہ آصف علی زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ان کے ایک بیان سے سیاسی منظرنامے پر بھونچال آ گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آصف علی زرداری آج بھی پاکستانی سیاست کے گاڈ فادر ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے پنجاب میں رہنے والے رہنماﺅں کے کہنے پر زبان کھولی ہے، جن کا یہ کہنا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی اسی طرح مسلم لیگ(ن) کی سپورٹ کرتی رہی اور اس نے کوئی فعال کردار ادا نہ کیا تو ہمیشہ کے لئے پنجاب سے اس کا نام و نشان ختم ہو جائے گا۔مَیں سمجھتا ہوں کہ آصف علی زرداری جیسے جہاندیدہ شخص کے لئے یہ ایک سطحی سی بات ہے۔یہ تو انہیں شروع دن سے پتہ ہوگا کہ پارٹی اگر فعال نہیں رہتی تو سیاسی منظر سے غائب ہو جاتی ہے۔یہ بات تو انہیں اس وقت بھی معلوم ہوگی، جب انہوں نے نوازشریف کو علی الاعلان یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پانچ سال ڈٹ کر حکومت کریں، پیپلزپارٹی انہیں گرنے نہیں دے گی۔آصف علی زرداری اتنی سطحی سیاست نہیں کرتے۔بات کچھ اور ہے، جس پر آصف علی زرادری کو زبان کھولنا پڑی۔اس کی ایک وجہ محبوب کی بے اعتنائی بھی ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر وزیراعظم نوازشریف نے آصف علی زرداری سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔بعدازاں شائد مسلم لیگی مشیروں نے وزیراعظم کو یہ باور کرایا کہ اگر اس انداز میں آپ آصف علی زرداری کو ملیں گے تو عوام میں منفی تاثر پیدا ہوگا کہ حکومت آصف علی زرداری کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔غالباً اسی وجہ سے وزیراعظم نے آصف علی زرداری سے ملاقات کا منصوبہ ختم کر دیا۔شائد یہ بات آصف علی زرداری کو پسند نہ آئی ہو اور انہوں نے اپنے دوست کی ہلکی سی سرزنش کے لئے یہ بیان جاری کر دیا ہو۔

اس سے بھی ایک بڑی وجہ وزیراعظم نوازشریف کی سندھ کے معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔آصف علی زرداری نے نوازشریف کو بادشاہ بننے کا جو طعنہ دیا ہے، وہ بھی اسی وجہ سے ہے۔بعض لوگوں کو یقینا اس بات پر حیرانی ہوگی کہ وزیراعظم نوازشریف تو شروع دن سے سندھ کے معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔سندھ میں ٹارگٹڈ آپریشن بھی انہی کی ہدایات پر شروع کیا گیا ہے، جس کی آصف علی زرداری نے کبھی مخالفت نہیں کی۔پھر اب ایسا کیا ہوا ہے کہ جس نے حالات کو یکدم تبدیل کردیا۔میرے نزدیک اس کی وجہ وزیراعظم کا وہ پیکیج ہے ،جس کا انہوں نے اپنے حالیہ دورئہ کراچی میں اعلان کیا ہے۔اس پیکیج کا اعلان شاید اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا، جتنا یہ بات آصف علی زرداری کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوئی ہوگی کہ اس پیکیج سے سندھ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہوگا،اسے وفاقی حکومت خرچ کرے گی۔پانی کی فراہمی اور گرین بس سروس کے منصوبوں میں سندھ حکومت نے اپنا حصہ ڈالنے کی خواہش ظاہر کی تھی، مگر وزیراعظم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ سندھ حکومت اپنے وسائل دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے۔یہ منصوبے وفاقی حکومت کی گرانٹ سے مکمل ہوں گے۔

غالباً اس رویئے کو آصف علی زرداری نے بادشاہت سے تعبیر کیا ہے۔صوبے میں مکمل ہونے والے منصوبے صوبائی حکومت کی نگرانی میں مکمل ہونے چاہئیں، یہ ایک اصولی بات ہے ، تاہم ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ وفاقی حکومت جو ایک دوسری جماعت کی ہوتی تھی، صوبے میں ترقیاتی کام اپنے فنڈز سے کراتی اور اس کا کریڈٹ بھی خود لیتی۔بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی پیپلزورکس پروگرام کے تحت پنجاب میں کہ جہاں شریف برادران کی حکومت تھی، وفاقی حکومت اپنے علیحدہ منصوبے دیتی رہی، اس زمانے میں بھی اسے صوبائی معاملات میں مداخلت قرار دیا جاتا تھا۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے اب یہ اندازِ سیاست زیادہ گراں گزرتا ہے۔

جس اندازِ شاہی کا ذکر آصف علی زرداری نے کیا ہے، اس پر عمران خان بھی چند دن پہلے اظہار خیال کر چکے ہیں۔وہ بھی خیبرپختونخوا میں آئی ڈی پیز کی امداد کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز نہ ملنے پر احتجاج کررہے ہیں۔ان کے نزدیک آئی ڈی پیز کا سارا بوجھ صوبائی محکموں پر ہے، لیکن امداد وفاقی حکومت براہ راست خود دے رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بنوں کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے جگہ نہیں رہی، دس لاکھ لوگوں کے آنے سے امن وامان اور تعلیم و صحت کے مسائل سنگین ہو گئے ہیں، ان سے نکلنے کے لئے فنڈز کی ضرورت ہے، مگر وفاقی حکومت اس مسئلے پر سیاست کررہی ہے، گویا معاملہ فنڈز کا ہے، جو ظاہر ہے بادشاہت کی اصل نشانی ہوتے ہیں، کیونکہ جس کے پاس پیسہ ہے، وہی بادشاہ ہے، باقی تو سب دست سوال دراز کرنے والے ہوتے ہیں۔عمران خان کی باتوں کو تو میاں صاحب زیادہ اہمیت نہیں دیتے، البتہ آصف علی زرداری کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔یہاں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آصف علی زرداری کے بیان پر یہ گرہ لگائی کہ بادشاہ تو وہ کسی اور کے لئے ہوں گے، میرے لئے تو نوازشریف وزیراعظم ہیں۔

آصف علی زرداری کے بیان کو اس طرح جھٹلانے کی جرات رندانہ شاہ جی میں کیسے پیدا ہوگئی، اگرچہ یہ ایک معمہ ہے،تاہم یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ آصف علی زرداری کی سیاست کا معمہ بھی آسانی سے حل نہیں ہوتا، البتہ شاہ جی کی آصف علی زرداری سے عقیدت کوئی معمہ نہیں، اس لئے اگر انہوں نے یہ جرات رندانہ دکھائی ہے تو یہ بھی جابر سلطان سے پوچھ کر ہی دکھائی ہوگی۔ مرشدِ اعلیٰ کا کوئی عمل بھی کارِ بیکار کے زمرے میں نہیں آتا۔پاکستانی سیاست میں آصف علی زرداری کے کردار کو فی الوقت جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اس سے انکار کرنا ممکن نہیں۔آپ اسی بات سے اندازہ کیجئے کہ انہوں نے تحریک انصاف کے مطالبات کی حمایت کرکے کس طرح پورا سیاسی منظر تبدیل کر دیا ہے۔دو روز پہلے لندن میں انہیں مافیا کا حصہ کہنے والے عمران خان آج انہیں شاباش دے رہے ہیں، ان کے بیان پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ(ن) ان کے اس سخت بیان کے باوجود کوئی سخت ردعمل ظاہر نہیں کررہی۔ وہ وفاقی وزراءجو بات بات پر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی خبر لیتے ہیں، نوازشریف کو بادشاہ کہنے کے باوجود آصف علی زرداری کے خلاف زبان نہیں کھول رہے۔یہ ہے مرشدِ اعلیٰ کا مقام و مرتبہ، میری چھٹی حس کہتی ہے کہ انہوں نے موجودہ حالات میں کہ جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت تناﺅ کی کیفیت ہے اور ڈیڈ لاک نظر آتا ہے، اپنا ثالثی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا حالیہ بیان خود کو نیوٹرل ایمپائر ثابت کرنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ فریقین کے لئے قابل قبول ٹھہریں۔اس کے بعد اگلے مراحل بھی طے کرلیں گے۔کوئی بعید نہیں کہ 14اگست سے پہلے وزیراعظم نوازشریف اور عمران خان کی آصف علی زرداری سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوں، تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے حالات میں سے کوئی درمیانی راستہ نکل آئے۔لگتا ہے آصف علی زرداری نے موجودہ حالات میں جمہوریت کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وہ چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ایک طرف انہوں نے سید یوسف رضا گیلانی کے ذریعے پرویز مشرف کے ایشو کو حل کرنے کی راہ دکھائی ہے تو دوسری طرف میاں صاحب کو تنقید کا نشانہ بنا کر ان کے سیاسی مخالفین کے لئے خود کو قابل قبول بنا لیا ہے۔یہ دو کام کرنے کے بعد مرشدِ اعلیٰ آصف علی زرداری کے ذہن میں یہ منصوبہ بھی ہوگا کہ جمہوریت کو، جسے وہ پانچ سال تک بچاتے رہے، اب ڈی ریل ہونے سے کیسے بچانا ہے، یہ ٹاسک آسان نہیں، تاہم آصف علی زرداری کے لئے شاید اتنا مشکل نہ ہو کہ وہ اس سے پہلے بہت بڑی مشکلات میں بھی اپنی طلسم ہوشربا شخصیت کے کرشمے دکھا چکے ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -