لوڈشیڈنگ....ٹرپنگ اعصاب کشیدہ.... اچھی تقریبات بے مزہ ہوئیں

لوڈشیڈنگ....ٹرپنگ اعصاب کشیدہ.... اچھی تقریبات بے مزہ ہوئیں
لوڈشیڈنگ....ٹرپنگ اعصاب کشیدہ.... اچھی تقریبات بے مزہ ہوئیں
کیپشن: pic

  

آج قلم میں روانی اور خیالات میں یکسانیت نہ ہو تو معاف کر دیجئے گا، اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں، ہم نے تو بہت کوشش کی کہ کسی طرح سو جائیں، لیکن حبس اور شدید گرمی نے مجبور کر دیا کہ گھر سے باہر نکل کر قدرت کے عطیئے سے ہی مستفید ہوں اور جو تھوڑی بہت ہوا کھلی فضا سے مل جائے، اسی پر گزارہ کیا جائے ، کیونکہ برقی رو میں ٹھہراﺅ نہیں آ رہا تھا، جس کی وجہ سے پنکھے کی ہوا سے محرومی تھی تو اندر اندھیرا بھی تھا۔ گزشتہ روز دفتر میں معمول کا کام تھا۔ گرمی تو یہاں بھی تھی، لیکن آجر کی طرف سے جنریٹر جیسے مہنگے انتظام کی وجہ سے بجلی بہرحال موجود تھی اور لوڈشیڈنگ یا ٹرپنگ ہوتی تو جنریٹر سے کام لیا جاتا تھا، منگل کو ہماری ذمہ داری میں سیاسی ایڈیشن کی تدوین بھی شامل ہے۔ یوں معمول سے زیادہ وقت بھی لگ جاتا ہے۔ جب ایڈیشن مکمل کر لیا تو برخوردار عاصم کو فون کر کے کہا کہ وہ دفتر سے آ کر لے جائے کہ سواری کوئی نہیں تھی۔ عاصم نے سعادت مندی کا مظاہرہ کیا فوراً منع کر دیا اور یاد دلایا کہ ہم ایک افطار ڈنر پر مدعو ہیں جو ہوٹل ”ہوس پی ٹیلی ٹی۔ اِن“ میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی کہا کہ ہم میزبان کو مایوس نہ کریں اور یہ میزبان ہمارے حاجی عزیز الرحمن چن کے قریبی تھے اور تقریب بہر ملاقات فلسطین اور عراق کے حالات پر تبادلہ خیال کی تھی۔ یہ تقریب نیشنل مشائخ کو نسل پاکستان کی طرف سے تھی۔

بات معقول تھی۔ یوں بھی الحاج حاجی عزلز الرحمن چن نے دیر بعد یاد کیا تھا، اس لئے جانا ہی پڑا۔ میزبان کی تسلی کے مطابق مہمانوں کی تعداد بہت معقول تھی، ان میں محترم ارشاد عارف اور توفیق بٹ تشریف لائے، تو منیر احمد خان اور ذکریا بٹ بھی تھے۔ بزرگ محترم خواجہ غلام فرید قطب الدین فریدی سجادہ نشین آستانہ عالیہ گڑھی شریف کرسی ¿ صدارت پر رونق افروز تھے۔ محفل میں بات شروع ہوئی تو فلسطین سے زیادہ عراق کا ذکر شروع ہو گیا۔ سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل .... نے بڑی تفصیل سے حالات بتائے اور یہ بھی بتایا کہ داعش تنظیم دین کے نام پر سنی کہلاتے ہوئے تفرقے، نفرت اور دہشت گردی کی سیاست کر رہی ہے، جس نے عراق میں مقدس مزارات بھی بھی تباہ کئے ہیں۔ انہوں نے مسلم امہ کو ایسے فتنوں سے ہوشیار رہنے اور متحد ہو کر اغیار کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد والے مقرر نے بڑے پُرجوش انداز میں فلسطین پر اسرائیلی مظالم اور اسلامی دنیا کی بے حسی کا ذکر کیا۔ سٹیج سیکرٹری نے محترم ارشاد عارف کو دعوت دی، جو بلاشبہ ایک اچھے مقرر بھی ہیں تاہم انہوں نے معذرت کی اور سوئی ہماری طرف گھما دی۔ حاجی عزیز الرحمن چن نے تائید کر دی تو ہمیں ڈائس تک جانا ہی پڑا، ہم جو زود حس ہیں پہلے ہی ان حالات سے اعصاب کشیدہ کئے ہوئے ہیں کہ جو کچھ مشرق وسطےٰ، دنیا اور خود ہمارے پیارے پاکستان میں ہو رہا ہے، وہ انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس سے بھی زیادہ پریشانی کی بات ہے کہ مسیحا ہی تریاق کی بجائے زہر کا اہتمام کرتے ہیں۔ پوری دنیائے اسلام کا متحد ہونا تو ایک طرف، ہم پاکستان میں قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں۔ یہاں بھی ایک دوسرے کے خلاف مہم جوئی میں مصروف رہتے ہیں۔ چنانچہ رنج میں اعصابی کشیدگی غالب آئی اور ہم نے کہہ دیا کہ یہ مسلمان ہیں۔ بزرگوں نے بعض مسائل پر علمی اختلاف کیا یہاں مسلک بنا لئے گئے اور اسی پر اکتفا نہیں اب یہ مسلک مذہب بن چکے ہیں۔ کوئی دوسرے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں اور تکفیر کے فتوے معمول بن چکے ہیں۔ ہم نے یہ بھی گزارش کی کہ بات کیسے بنے یہاں تو گدی نشینی بھی ایک سلسلہ ہے اور یہ بھی جاری ہے۔

خیال تھا کہ بات کا برا منایا جائے گا تاہم برداشت کر لیا گیا۔ اگرچہ محترم سٹیج سیکرٹری نے ہلکے پھلکے انداز میں فارسی کے چند شعر پڑھ کر اثر زائل کرنے کی کوشش کی۔ صدر محترم جو مشائخ کونسل کے بھی سربراہ ہیں، نے خصوصی طور پر فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا ذکر کیا اور ”داعش“ کی حرکتوں کا نوٹس لیا انہوں نے قلم کاروں سے عوامی شعور بیدار کرنے کی بھی اپیل کی۔

اچھی محفل تھی۔ میزبانی کے فرائض محترم مظہر مرغوب انجام دے رہے تھے اور انہوں نے حق بھی ادا کیا اور ایک ایک میز اور مہمان تک جا کر تواضع کے بارے میں دریافت کیا۔ بلاشبہ حالات کے تناظر میں بات تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن نیشنل مشائخ کونسل کے ”داعش“ کے حوالے کوئی تحریک منظم کرنا اور خود ملکی حالات سے اغماض کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ بہرحال صدر محترم نے ایک بڑا اجلاس بلانے بھی اعلان کر دیا۔

اچھا وقت گزرا، دوستوں سے ملاقات اور بات چیت کا بھی موقع مل گیا، حاجی عزیز الرحمن چن کے تعاون سے دفتر تک آ گئے کہ صاحبزادے کو یہیں سے لے جانے کے لئے کہا تھا، اس وقت تک کچھ ہوا چلنا شروع ہو چکی تھی، تاہم گھر آتے ہی عاصم چودھری کی منطق اور بات سمجھ میں آ گئی کہ برقی رو بند تھی۔ بتایا گیا کہ ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہو کر روشنی آئی تھی، لیکن دس منٹ کے بعد ٹرپ کر گئی ہے۔ پھر یہ سلسلہ سحری تک جاری رہا کہ ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی، اس کے بعد ٹرپنگ کا یہ فضول سلسلہ شروع ہو جاتا، ہر پانچ یا دس منٹ کے بعد بجلی بند ہوتی اور اس کے بعد وقفے سے بحال ہوتی تو دس منٹ ہی کے لئے تسلی دے کر پھر غائب ہو جاتی۔ ہماری صاحبزادی کی دوڑ لگی ہوئی تھی کہ وہ بجلی بند ہونے پر برقی آلات کے سوئچ آف کرے تاکہ جھٹکے سے نقصان نہ ہو کہ پہلے کافی ہو چکا تھا۔ اس آنے جانے سے یو پی ایس نے بھی جواب دے دیا ہوا تھا، ہماری رات تو ایسی گزری اور سحری بھی انہی حالات میں کھائی۔ سحری کے بعد شاید ڈیڑھ دو گھنٹے کے لئے ٹھہراﺅ آیا جو صبح تک لوڈشیڈنگ کی صورت میں تو رہا تاہم ٹرپنگ نہ ہوئی اور گھنٹہ دو گھنٹہ نیند لی۔ تاہم نیند پوری نہ ہونے کی خجالت تو ہے، جس کی وجہ سے خیالات کا ارتکاز بھی نہیں ہو پا رہا۔

جہاں تک موسم کی ستم گری کا تعلق ہے تو ایک دن پہلے اپنے دوست اور ہمسائے محترم دیوان غلام محی الدین کے یہاں بھی بھگتا، گھر میں جنریٹر چل رہا تھا، نشست تہ خانے میں تھی، چار پنکھے اور چار ہی ایئر کنڈیشنر چل رہے تھے تاہم حبس سے پسینہ آتا جا رہا تھا یہ چند دوستوں کی محفل تھی کہ دیوان صاحب نے اپنی بیگم کی طرف سے خواتین کے اعزاز میں افطار میں اپنا ”لچ“ بھی تل لیا اور چند دوستوں کو بلا لیا ان میں تنویر اشرف کائرہ اور عامر راجہ بھی تھے۔ یہاں گفتگو تو سیاسی حالات پر ہوئی، لیکن موضوع زیر بحث لوڈشیڈنگ ہی تھی۔ پیپلزپارٹی والے یہ حضرات کہہ رہے تھے کہ”ہمارے دور میں اتنی بُری حالت نہیں تھی، اس کے باوجود وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے وفاق کے خلاف مورچہ لگانے سے گریز نہیں کیا تھا اور مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ لگا لیا تھا خود ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ نندی پور کو مثال بنا کر پیپلزپارٹی کو بدنام کیا اور اب خود کیا کر لیا ہے؟ان حضرات کا کہنا تھا کہ پی پی کی حکومت ضروری تیل کے لئے رقوم جاری کرنے میں بخل نہیں کرتی تھی۔ اب ان کو خود ہی خیال ہونا چاہئے، ہم کیا کہیں اپنی حالت کا ذکر کر دیا، لیکن ایک بات بتا دیں جتنی بددعائیں دی گئیں وہ عرش ہلا دینے کے لئے کافی ہیں، اللہ کا شکر کہ آج صبح ٹھنڈی ہوا ملی ہے۔ ٭

مزید :

کالم -