جمہوریت کی تیز رفتار گاڑی

جمہوریت کی تیز رفتار گاڑی
جمہوریت کی تیز رفتار گاڑی
کیپشن: pic

  

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ملتان کے دورے پر تھے۔ان کا بڑا پُرجوش استقبال ہوا۔ عوام ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے پاگل ہو رہے تھے۔ راستے کو پیپلزپارٹی کے جھنڈوں اور استقبالیہ نعروں سے سجایا گیا تھا۔ ہر طرف جئے بھٹو کے نعرے گونج رہے تھے۔ بھٹو عوام کے جوش و ولولے کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ وہ ہاتھ ہلا ہلا کر نعروں کے جواب دے رہے تھے۔ اچانک ان کی نظر ایک بینر پر پڑی جو استقبالیہ بینروں میں عجیب محسوس ہو رہا تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا....”تیز چلو گے ‘جلد مرو گے“۔

جناب بھٹو اس بینر کو چند لمحے دیکھتے رہے، پھر انہوں نے قدرے سخت لہجے میں اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب حنیف رامے سے دریافت کیا کہ ”یہ کیا مذاق ہے؟“ جناب بھٹو کے غصے سے حنیف رامے پریشان ہوئے، مگر انہوں نے اپنے اوسان خطا نہیں ہونے دیئے اور اس بینر کو دیکھا تو انہیں سمجھ آ گئی کہ یہ بینر ٹریفک پولیس نے لگایا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ عوام میں ٹریفک شعور پیدا کرنے کی سرکاری مہم کا حصہ ہے، مگر بھٹو صاحب کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔انہوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا۔ لاہور واپسی پر وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک پولیس کے سربراہ سردار محمد چودھری کو طلب کیا اور ہدایت کی کہ یہ نعرہ نظر نہیں آنا چاہئے۔ وزیراعلیٰ اس سے پہلے تحقیقات کر چکے تھے ، مگر وہ اس میں کوئی سازشی ہاتھ تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔

 ذوالفقار علی بھٹو کے استقبال کی تیاری کرنے والے افسروں کے سان و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جناب بھٹو ٹریفک کے نعرے کو اپنے اوپر منطبق کر لیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس نعرے پر اپنے غصے کا اظہار تو کر دیا، مگر اس میں چھپی دانشمندی پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ان کے اقتدار کے متعلق لکھنے والے تجزیہ کار اس امر پر متفق ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی غیرمعمولی سپیڈ ہی ان کی حکومت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوئی۔اگر وہ اتنی تیزی کا مظاہرہ نہ کرتے یا کم از کم انتخابات ہی جلدی نہ کراتے یا اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے ”انقلابی“ اقدامات نہ کرتے تو ان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے روشن امکانات تھے۔

امریکہ کے صدور میں صدر رونلڈ ریگن کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ تاریخ انہیں سوویت یونین کے خاتمے کا کریڈٹ دیتی ہے۔ ان کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے اقتدار میں امریکی معیشت کو مضبوط کیا اور عالمی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ امریکی عوام میں اتنے زیادہ مقبول تھے کہ وہ نہ صرف خود دو مرتبہ صدر منتخب ہوئے، بلکہ تیسری مرتبہ جارج بش سینئر بھی ان کی کارکردگی وجہ سے وہائٹ ہاﺅس میں پہنچے۔ صدر ریگن دوپہر کو آرام کرتے تھے اور انہوں نے یہ ہدایت کر رکھی تھی کہ رات نو بجے کے بعد انہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ ان کے دور اقتدار میں بے شمار ہنگامہ خیز واقعات پیش آئے، مگر انہوں نے کبھی اپنی نیند خراب نہیں کی۔ وہ اپنا کام کرتے تھے، مگر غیر ضروری مصروفیات میں الجھنے سے گریز کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کا ایک سٹاف ممبر ان کے پاس امریکی بجٹ کی دستاویزات لے کر آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اسے دیکھ لیں۔ ریگن نے ان دستاویزات کی خوبصورتی کی تعریف کی اور انہیں پڑھے بغیر واپس کر دیا۔

اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ان کے دور اقتدار میں کام نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے دور میں امریکہ نے جتنی ترقی کی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ اپنے پیش رو جمی کارٹر کی طرح کام نہیں کرتے جو ہر معاملے کی تفصیلات میں الجھ جاتے تھے۔وہ فائلوں کے فٹ نوٹ بھی پڑھتے تھے اور ان کے ہاں سرکاری فائلوں کے ڈھیر لگے رہتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ وہ جنگل دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، کیونکہ وہ کسی ایک درخت کے پتوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔چند سال قبل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد میں ڈاکٹر رندھاوا سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں نے ڈرائیونگ شروع کی تو وہ تیز رفتاری کے شوق میں مبتلا تھے۔ سو کلومیٹر سے کم رفتار پر ڈرائیونگ کرنے کو وہ گاڑی کی توہین سمجھتے تھے۔ ایک روز وہ شیخوپورہ سے گوجرانوالہ جا رہے تھے اور حسب معمول گاڑی کو جہاز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دور میں گوجرانوالہ کے قریب ایک ہوٹل تھا، جہاں کی دال بہت معروف تھی۔ انہوں نے دال کھانے کے لئے اس ہوٹل پر گاڑی روکی۔ کھانے کا آرڈر دے کر وہ اخبار اٹھا کر اس کے مطالعے میں مصروف ہو گئے۔

کچھ دیر بعد ایک بزرگ نے اس ہوٹل پر گاڑی روکی، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھیں۔ خاتون تو ہوٹل کے زنانہ حصے کی طرف چلی گئی، مگر وہ بزرگ ان کی طرف آ گئے اور سلام دعا کے بعد ان سے کہنے لگے: ”بیٹے اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں“.... بزرگ کی بات سن کر ان کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ یہ انجان شخص نامعلوم کیا بات کرنا چاہتا ہے۔ اپنی طرف متوجہ دیکھ کر بزرگ نے کہا: ”بیٹے جب تم نے گاڑی ہمارے پاس سے گزاری، تو اس کی افراتفری دیکھ کر میری بیوی نے کہا کہ یہ بچہ کسی مصیبت میں محسوس ہوتا ہے۔ مَیں اور میری بیوی پورا راستہ آپ کی سلامتی کے لئے دعائیں کرتے آئے ہیں۔اگر آپ نے دال ہی کھانی تھی تو گاڑی کو اتنی طوفانی رفتار سے دوڑانے کی کیا ضرورت تھی“؟ ڈاکٹر رندھاوا صاحب نے بتایا کہ ان بزرگ کی نصیحت کے بعد اب انہوں نے گاڑی کو مناسب رفتار سے چلانے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔

پاکستان میں جمہوریت آتی ہے تو اکثر سیاست دان اپنی جمہوری حرکتوں کی رفتار بہت تیز کر دیتے ہیں اور بعض اوقات یہ تیز رفتاری جمہوریت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے ایک دوست کا خیال ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی کی تیز سپیڈ کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہمارے تمام اہم رہنماﺅںکی عمریں 60 سال سے زائد ہیں اور ان کے ساتھی کسی نہ کسی انداز میں انہیں یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے ۔ اس لئے انہیں جلد از جلد اقتدار حاصل کر لینا چاہیے۔ایسی کوششیںجمہوریت کے لئے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ 1977ءمیں پاکستان میں جمہوریت کے لئے تحریک چلائی گئی تھی، مگر اس کے نتیجے میں مارشل لاءکے تاریک سایوں نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ جمہوریت کی گاڑی کی رفتار تیز کرنے سے پہلے قومی تاریخ کے ان حادثات کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے، جو سپیڈ کی وجہ سے پیش آئے تھے۔ ٭

مزید :

کالم -