عدنان رشید طالبان کمانڈر کیوں بنا؟

عدنان رشید طالبان کمانڈر کیوں بنا؟

  


فوج نے طالبان کے اہم کمانڈر عدنان رشید کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب میں اسے انتہائی اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عدنان رشید کو جنوبی وزیرستان کی وادی شکئی سے جمعہ کے روز اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ زخمی حالت میں فوج کے گھیرے سے بچ کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ عدنان رشید کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ زخمی حالت میں اپنی فیملی کے ساتھ وادی میں مقیم تھا۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری کے بعد اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ طالبان کمانڈر عدنان رشید کے ساتھ القاعدہ کے ایک کمانڈر مفتی زبیر مروت اور دو گارڈز بھی پکڑے گئے۔ گرفتار دہشت گرد شکئی میں القاعدہ کے مرکز میں مقیم تھے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ذرائع نے بھی عدنان رشیداور اسکے تین ساتھیوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ رہنما تحریک طالبان پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ عدنان رشید کو اُن کے مخالف لوگوں نے گرفتار کرایا ہے اور وہ اس کی گرفتاری کا بدلہ ضرور لیں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مخبری میں ملا نذیر گروپ کے دو کمانڈر عقیل اور کمانڈر عبداللہ ملوث ہیں اور وہ اُن سے انتقام لیں گے۔

عدنان رشید کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے صوابی کے گاؤں ’’چھوٹا لاہور‘‘ سے ہے۔ 1997ء میں اس نے جونیئر ٹیکنیشن کی حیثیت سے پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی۔ 2004ء میں24 سال کی عمر میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں گرفتار ہوا اور 2005ء میں اسے سزائے موت سنائی گئی۔ وہ بنوں جیل میں حملے کے جرم میں قید کی سزا کاٹ رہا تھا کہ15 اپریل 2012ء کو بندوقوں، دستی بموں اور راکٹوں سے مسلح دہشت گردوں نے جیل پر حملہ کرکے اُسے رہا کرا لیا۔ اس حملے میں طالبان نے دہشت گردوں سمیت مجموعی طور پر 384 قیدیوں کو جیل سے آزاد کرایا۔ رہائی کے بعد عدنان نے ملالہ یوسفزئی کو ایک خط لکھا جس میں اس نے ملالہ پر حملے پراظہار افسوس کیا اور لکھا کہ اس پرحملے کی وجہ اس کی تعلیم حاصل کرنے کی لگن نہیں، بلکہ سوات میں طالبان کی نفاذ اسلام کی کوششوں پر تنقید کرنا تھی۔ عدنان رشید نے ملالہ کوواپس آکر اسلامی و پختون روایات کے مطابق پڑھنے کا مشورہ دیا اور اپنے قلم کو اسلام کی بالا دستی کے لئے استعمال کرنے کوبھی کہا، لیکن طالبان نے عدنان کے اس خط کو اُس کی ذاتی رائے قرار دیا تھا۔ عدنان رشید نے قیدیوں کی مدد کے لئے ایک تنظیم ’’انصار الاسیر‘‘ بھی قائم کی۔ پچھلے سال جولائی میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملے کا واقعہ پیش آیا،اِس حملے کا ماسٹر مائنڈ عدنان رشید کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔اس پر کامرہ ائیر بیس حملے میں بھی ملوث ہونے کا الزام ہے۔ عدنان رشید نے یو ٹیوب ویڈیوز کی سیریز بھی بنائی، اُسے اردو اور پشتو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی عبورحاصل ہے۔ ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں اُس نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہُ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا، بلکہ 2002ء کے ریفرنڈم میں پرویز مشرف کے خلاف ووٹ دینے کے جرم میں اُس کو سزا دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب آپریشن ضربِ عضب کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور اب تک دہشت گردوں کے88ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں،جبکہ میر علی میں 11دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گرد خود کش حملہ آوروں کی برین واشنگ کر کے اُن کو دہشت گردی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ میجر جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ رواں سال جنوری2014ء سے جون تک دہشت گردی کے واقعات میں 195 افرادجاں بحق ہو چکے ہیں ۔اُن کا کہنا تھا آپر یشن ضربِ عضب کے بعد سے اب تک میران شاہ کا 100 فیصد علاقہ مکمل طور پر کلیئر کروا لیا ہے اور وہاں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آپر یشن کا ہدف عسکری ذرائع سے حکومتی رٹ قائم کرنا اور دہشت گردوں کے ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کرنا ہے ۔ ملک کے کونے کونے میں دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ بلاشبہ طالبان کمانڈر عدنان رشید کی زندہ گرفتاری، جہاں پاک فوج کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے وہیں طالبان کے لئے بہت بڑا دھچکا بھی ہے۔ اگرچہ اُس کی گرفتاری ہماری لئے بے انتہا خوشی کی بات ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک بات دل کومسلسل کچوکے لگا رہی ہے کہ عدنان رشید ائیر فورس کا ملازم تھا، وہ پاکستان کا ہونہار فرزند تھا۔ملالہ یوسف زئی کو لکھے خط کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انگریزی زبان پر عبور رکھنے والا ایک ذہین نوجوان ہے ،جو اپنے حق میں موثر دلائل دینا جانتا ہے۔پھر ایسے کیا حالات ہوئے کہ اس نے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اس کے مقابل لڑنے کو ترجیح دی؟

ہمیں عدنان رشیدکی تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیا ر کرنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کرنی چاہئے، اس کو کسی طرح نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ہماری طاقت ہمارے ہی خلاف استعمال ہونے لگ جائے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ملک کی حفاظت کے جذبے سے سرشار دل اچانک بغاوت پر کیوں آمادہ ہو گیا؟ہمارے قابل نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں پھر یہ اثاثہ طالبان کی نذر کیسے ہو گیا؟ ایسے کتنے نوجوان اور ہوں گے جو نامعلوم وجوہات کی بناء پر طالبان کے آلہ کار بن گئے۔ان وجوہات کو جاننا اور ان کا مداوا کرنا ازحد ضروری ہے تاکہ حقیقتاً دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے۔

مزید :

اداریہ -