افضال احمد اور ہمایوں قریشی کوبیماری میں پوچھنے والا کوئی نہیں

افضال احمد اور ہمایوں قریشی کوبیماری میں پوچھنے والا کوئی نہیں

  

لاہور(فلم رپورٹر)فلم ،ٹی وی اور سٹیج کے کئی سینئر فنکار افضال احمد،صابرہ سلطانہ ،روحی بانو،کامیڈین نثار بٹ،محمود خان موٹا،ہمایوں قریشی اور دیگر کئی فنکار مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر گوشہ نشینی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ان کے عروج کے دور میں جو لوگ ان کے ارد گرد ہوتے تھے وہ سب سے پہلے ان کو چھوڑ کر رفو چکر ہوگئے ۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دنیا کہ لوگ صرف اور صرف چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں لیکن شوبز والے کچھ زیادہ ہی خود غرض اور مفاد پرست واقع ہوئے ہیں یہ لوگ جس طرح اپنے محسنوں کو فراموش کرتے ہیں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔بیمار فنکاروں کی اکثریت حکومتی امداد کی منتظر ہے جبکہ کچھ لوگ امداد کے نہیں بلکہ تنہائی کا شکار ہیں ان کو کوئی دوست احباب پوچھنے والا نہیں ہے ۔بہت سارے فنکار ایسے بھی ہیں جو حکومتی امداد ملنے سے قبل ہی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ببو برال اور مستانہ اس کی بہترین مثال ہیں۔گزشتہ دو ہفتوں کے دوران غیور اختر اور منیر ظریف بھی طویل علالت کے بعد جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔گلوکار اعجاز قیصر عارضہ قلب میں مبتلا ہیں لیکن علاج کے لئے پیسے نہیں ہیں۔گلوکارہ بشریٰ صادق بھی بیماری کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔اس حوالے سے شی میل اسوسی ایشن کی چئیرمین الماس بوبی کا کہنا ہے کہ عروج کے دور میں فنکار فرعون بن جاتے ہیں وکامیڈین نثار بٹ کہتے ہیں کہ حکومتی امداد صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو اس کے حقدار نہیں ہیں جبکہ حقدار اس امداد سے محروم ہیں ۔ایک پروموٹر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی صورت میں بتایا کہ گلوکار انور فیع کسی بھی صورت حکومتی وظیفہ کے حقدار نہیں ان کے پاس گھر اور دولت سب کچھ ہے لیکن پھر بھی وہ 25ہزار کے وظیفہ کے حصول کے لئے کوشاں ہیں ۔ان کے گھر میں دو دو گاڑیاں موجود ہیں۔

مزید :

کلچر -