سوشل سیکیوٹی ہسپتال شاہدرہ کے ایئر کنڈیشنر بند ،مریضوں کا بر احال

سوشل سیکیوٹی ہسپتال شاہدرہ کے ایئر کنڈیشنر بند ،مریضوں کا بر احال

  

                           لاہور(لیاقت کھرل) غریب محنت کشوں اور بے یارو مددگار مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے قائم کردہ سوشل سکیورٹی ہسپتال شاہدرہ کی انتظامیہ نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بہانہ بنا کر وارڈوں میں ائیرکنڈیشنز کو بند رکھنا شروع کر رکھا ہے، دور دراز سے سے آنے والے محنت کش مریضوں کو خدا کے سہارے چھوڑ دیا گیا قیامت خیز گرمی میں زیر علاج مریضوں اور لواحقین نے ایم ایس کی موجودگی میں ”پاکستان ٹیم “ کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیئے، اس موقع پر ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی ایک بڑی تعداد نے شکایت میں بتایا کہ اس ہسپتال میں ڈاکٹر کی جانب سے تشخیص کردہ میڈیسن سے کم درجہ کی میڈیسن فراہم کی جاتی ہے اور ہسپتال میں پینا ڈول اور پیرا سیٹامول تک تھرڈ درجہ کمپنی کی سپلائی کی جاتی ہے، اس موقع پر زیر علاج مریضوں محمد حسین، فرہاد علی، پروین اختر ، فضل الٰہی اور شکیل احمد نے بتایا کہ ہسپتال کی وارڈوں میں ائیرکنڈیشنز تک چلائے نہیں جاتے ہسپتال کی انتظامیہ کے اپنے دفاتر میں اے سی چل رہے ہوتے ہیں جبکہ وارڈوں کے ائیرکنڈیشنز بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بہانہ بنا کر چلائے تک نہیں جاتے ہیں جس کے باعث ایک طرف مرض سے نڈھال ہیں تو دوسری طرف قیامت خیز گرمی میں ہسپتال میں رہنا زندگی محال ہے اس موقع پر ہسپتال میں دور دراز سے آئے ہوئے محنت کشوں اور ان کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی انتظامیہ کی غفلت اور اعلیٰ حکام کی عدم توجہی کے باعث اس ہسپتال کی صورتحال ابتر ہو کر رہ گئی ہے اور کروڑوں روپے سے 100بیڈ کا ہسپتال تعمیر کرنے کے باوجود اس کے ثمرات نہیں مل پا رہے اس میں وزیر محنت کو چاہیے کہ وہ نوٹس لیکر اس ہسپتال کو ڈھیلے ڈھالے اور کمزور منتظم سے چھٹکارا دلوائیںمریضوں نے شکایات میں یہ بھی بتایا کہ اس ہسپتال میں چوری چکاری کا سلسلہ عام ہے اور دھوکہ دہی سے مریضوں سے رقم ہتھیانے اور چھیننے کے واقعات زیادہ ہیں، جبکہ انتظامیہ کے من پسند ڈاکٹروں اور نرسوں کے اپنی مرضی سے ڈیوٹی پر آنے کے بارے میں مریضوں نے شکایات کیں، جس میں مریضوں کا کہنا تھا کہ ایک ڈاکٹر میڈیسن تجویز کر کے چلا جاتا تو دوسرا کچھ اور جس سے علاج معالجہ میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ڈاکٹر جو دوائی تجویز کرتا ہے اس کے مقابلہ میں تھرڈ درجہ کی کمپنی کی میڈیسن سپلائی کی جاتی ہے اس حوالے سے ایم ایس ڈاکٹر سہیل خا ن نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث اے سی بند رکھنا پڑتے ہیں، ہسپتال کیلئے ڈبل سورس حاصل کیا جارہا ہے، جس سے اے سی بند رکھنے کی شکایت کم ہو جائے گی، دوسری جانب میڈیسن کی خرید و فروخت اور ٹینڈرنگ کا کام ہیڈ آفس سے ہوتا ہے جبکہ مریضوں کے علاج معالجہ کی شکایات نہ ہونے کے برابر ہیں اور آنے والے محنت کشوں اور ان کے لواحقین کی پوری دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ جبکہ موٹر سائیکل چوری کی روک تھام کے لئے موٹر سائیکل سٹینڈ قائم کر دیا ہے اور چوری چکاری کے واقعات کی روک تھام کے لئے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -