بیوی کو داخل کرانے کیلئے لایا تو بلا وجہ تنگ کیا گیا،محنت کش رمضان

بیوی کو داخل کرانے کیلئے لایا تو بلا وجہ تنگ کیا گیا،محنت کش رمضان

  

لاہور(خبر نگار) سوشل سکیورٹی ہسپتال شاہدرہ میں روزانہ ساڑھے آٹھ سو سے زائد محنت کش اور ان کے لواحقین علاج معالجہ کی غرض سے آتے ہیں، جبکہ ایک سو سے ڈیڑھ سو تک ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں مریض آتے ہیں، لیکن اس کے مقابلہ میں داخل ہونے والے مریضوں کی شرح انتہائی کم ہے ، اس حوالے سے ڈسکون کمپنی کے ملازم رمضان نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو متعدد بار لیکر آیا،اور ہر بار ٹال دیا گیا، تین دن طبیعت زیادہ خراب ہونے پر داخل کیا گیا13سالہ مریض احتشام کی والدہ نے ناقص میڈیسن اور ڈراپ نہ ملنے کی شکایت کی، جبکہ رستم سہراب فیکٹری کے ملازم محنت کش فضل الٰہی نے بتایا کہ اس کی بیٹی گردہ کی تکلیف میں مبتلا ہے ہسپتال کی انتظامیہ نے سوشل سکیورٹی ہسپتال ملتان روڈ ریفر کیا اور وہاں سے ثریا عظیم ہسپتال ریفر کیا گیا ایک سال سے ہسپتالوں کے دھکے کھار رہا ہوں، اس حوالے سے ڈی ایم ایس ڈاکٹر وسیم نے بتایا کہ مریض کی صورتحال کا جائزہ لیکر داخل کیا جاتا ہے ، تاہم ہسپتال میں داخل کرنے کی شرح واقعی کم ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -