لاہور ،کراچی اور ساتوں قبائلی ایجنسیوں میں آپریشن ہو گا ،عبدالقادر بلوچ

لاہور ،کراچی اور ساتوں قبائلی ایجنسیوں میں آپریشن ہو گا ،عبدالقادر بلوچ ...

  

                     لاہور)کامرس رپورٹر)وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہاہے کہ آپریشن صرف شمالی وزیرستان میں نہیں، بلکہ ساتوں ایجنسیوں، لاہور اور کراچی میں بھی ہوگا، فوجی آپریشن اچانک ہونا بہت ضروری ہوتا ہے، اگر شمالی وزیرستان سے لوگوں کو پہلے ہی نکالنے لگتے تو سب کو پتہ چل جاتا۔وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ ایوان تجارت لاہور میں آئی ڈی پیز کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگوکررہے تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے آئی ڈی پیز نے جون اور جولائی کے مہینے میں قربانی دی ہے، دہشت گردی کا ٹارگٹ ہر آدمی ہوتا ہے، بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی تھی، فوج آپریشن میں سیکریسی اور سرپرائز بہت ضروری چیز ہوتی ہے، اگر ہم پہلے وہاں سے لوگوں کو نکالنے لگتے تو سب کو پتہ چل جاتا۔ عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ آئی ڈی پیز کیلئے پنکھوں، واٹر کولرز، کپڑوں اور ٹینٹوں کی ضرورت ہے، 15 لاکھ آئی ڈی پیز پہلے ہی ان دہشت گردوں کی وجہ سے گھروں سے نکلے ہوئے ہیں، انشاءاللہ یہ قوم اس چیلنج کا مقابلہ کر سکے گی۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں بھی ایسی ہی ترقی کی ضرورت ہے جیسی پورے ملک میں ہے، نائن الیون میں کوئی شخص پاکستانی نہیں تھا، سب عرب تھے، ہمیں طالبان کی ضرورت نہیں تھی، ا±نہیں طالبان کی ضرورت تھی۔لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ نائب صدر کاشف انور نے بھی خطاب کیا۔ لاہور چیمبر کے سابق صدور ظفر اقبال چودھری اور ایگزیکٹو کمیٹی رکن میاں زاہد جاوید احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ضربِ عضب 1965اور 1971کی جنگوں سے بھی زیادہ مشکل چیلنج ہے ، ساری قوم کو آئی ڈی پیز کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرنا چاہیے۔ گذشتہ جنگوں کی نسبت یہ جنگ زیادہ مشکل ہے کیونکہ تب اہداف واضح اور دشمن بیرونی تھا مگر اب دشمن اندرونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز قومی ہیرو ہیں ،حکومت اور ساری قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ وفاقی حکومت پاک آرمی اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے آئی ڈی پیز کی ہر ممکن دیکھ بھال کررہی ہے۔ حکومت نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور پنجاب حکومت کے تعاون سے وہاں میڈیکل ٹیمیں بھجوائی ہیں۔ اب تک نقل مکانی کرنے والے ایک لاکھ خاندانوں کو راشن فراہم کیا جاچکا ہے اور ہر فوڈ پیکٹ میں سو کلوگرام اشیا ءہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئی ڈی پیز کے لیے دو ارب روپے کی کیش گرانٹس مختص کی ہیں اور مزید گرانٹس مختص کی جائیں گی۔ بنوں میں آئی ڈی پیز کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے پاک آرمی کو ایک ارب روپے دئیے گئے ہیں جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کو 2.28ارب روپیمالیت کی 60ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت آئی ڈی پیز کے ہر خاندان کو 12ہزار روپے ماہانہ، نان فوڈ آئٹمز کی خریداری کے لیے پانچ ہزار روپے ایک مرتبہ اور رمضان پیکیج کے تحت بیس ہزار روپے ایک مرتبہ فراہم کررہی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ کاروباری برادری آئی ڈی پیز کو ہرممکن مدد اور تعاون مہیا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز ہمارے بھائی ہیں اور انہیں کسی بھی صورت میں تنہا ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا۔ کاروباری برادری پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ڈی پیز کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں جو ملک کو محفوظ بنانے کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اجلاس میں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو یقین دلایا تھا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری آئی ڈی پیز کی مدد کے لیے تمام ممکن عطیات دے گا۔

مزید :

صفحہ اول -