انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کا توانائی بحران پر حقائق نامہ جاری

انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کا توانائی بحران پر حقائق نامہ جاری

  

لاہور(کامرس رپورٹر)تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے لوڈ شیڈنگ اور انرجی کے موجودہ بحران پر حقائق نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق حکومت بجلی کی کمی پر فوری قابو پا سکتی ہے پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر کی میڈیا کے ساتھ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ وزیر پانی و بجلی نے انرجی کی بحران کی کافی وجوہات بتائی ہیں تاہم تھےنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے انرجی کے موجودہ بحران پر حکومت کی ناقص پالیسی اور مینجمنٹ کو بھی ذمہ دار ٹھہرا یا ہے ۔ پانی اور بجلی کی وزارت اپنے ماتحت اور متعلقہ چیزوں پر بھی وزارت قابو پانے میں ناکام رہی ہے بجلی کی چوری پر قابو پانا وزارت پانی و بجلی کی ذمہ داری ہے لیکن ےہ وزارت اس پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے ۔ بجلی کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہونے والا نقصان دو سو ساٹھ ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ؟بلوں کی عدم ادائیگی پچھلے سال کی نسبت کہی زیادہ ہے ۔لہذا وزارت کو چاہےے کہ وہ سخت فیصلے کرے اور DISCOانتظامیہ کو اس چیز کا ذمہ دار ٹھہرائے ۔ تھنک ٹینک نے سفارش کی ہے کہ وزارت پانی و بجلی کو چاہےے کہ وہ پاور سیکٹر میں گیس کا کوٹہ بڑھا دے کیونکہ حکومت نے پاور سیکٹرسے گیس کاکوٹہ بیس فیصد کم کر کے اس گیس سے مخصوص قسم کی فر ٹیلائزر کمپنیوں کو نوازا جا رہا ہے ۔ جبکہ مہنگے فرنس آئل کی مقدار کو پاور سیکٹر میں چودہ فیصد تک زیادہ بڑھا دیا گیا ہے جس سے بجلی کی پیدوار ی لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے تھےنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کے حقائق نامہ میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مزید پاور جنریشن کے علاوہ بوسیدہ پاور سسٹم کی بہتری پر بھی توجہ دے ،پاور کا موجودہ سسٹم ناقص پالیسیوں لا پرواہ گورننس اور غلط ترجیحات کا شکار ہے اس کے علاوہ اس سسٹم میں سرمایہ کاری کرنے کا بھی فقدان ہے حقائق نامہ میں سفارش کی گئی ہے کہ انتظامی اقدامات اور احتساب کے زریعے پاور سسٹم میں بہتری لائی جائے ۔حقائق نامہ میںمزید کہا گیا ہے کہ بجلی کے موجودہ بحران کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور اسی وجہ سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے لہذا حکومت کو چاہےے کہ وہ عوام کو اچھے وقت کا انتظار کرنے کی تلقین کی بجائے اصل مسئلہ پر توجہ دے اور عوام کو اس اذیت سے نجات دلائے ۔

 حقائق نامہ جاری

مزید :

صفحہ آخر -