, حکومت سے اچھی توقعات کے باوجود دور دور تک بجلی ملنے کانام و نشان نہیں

, حکومت سے اچھی توقعات کے باوجود دور دور تک بجلی ملنے کانام و نشان نہیں

  

لاہور(کامرس رپورٹر)حکومت بجلی بحران ختم کرنے کا بندو بست کرے اور اپوزیشن ملک میں افرا تفری پیدا کرنے سے گریز کرے تاکہ معاشی سرگرمیوں کا تسلسل جاری رہے،پیاف پالیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ملک طاہر جاوید نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں بجلی کا بحران بڑی رکاوٹ ہے ۔ عوام کو دن میں آرام ہے اور نہ ہی رات کو چین ملتا ہے ۔ موجودہ حکومت سے اچھی توقعات کے باوجود دور دور تک بجلی ملنے کانام و نشان نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بار بار اعلانات کرنے اور معافی مانگنے سے کاروبار چلتے ہیں نہ ہی عوام کی بے چینی ختم ہوتی ہے ۔ ملک طاہر جاوید نے کہا ہے حکومت نے نندی پور پاور پراجیکٹ کی جلد از جلد تکمیل کا اعلان کیا تھا ۔ مئی 2014 میں ابتدائی طور پر کچھ بجلی حاصل ہونے کا اعلان ضرور ہوا لیکن اس کے بعد خاموشی طاری ہو گئی کول اور سولر کے بڑے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا بہتر ہوگا کہ حکومت ٹیلی ویژن پر ان منصوبوں پر کام کی رفتار کے بارے میں کاروباری طبقہ اور عوام کو آگاہی دیتی رہے کیونکہ سابقہ اور موجودہ حکومت نے بھاشا ڈیم کا کافی ڈکر کیا لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ پیاف کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت بجلی حاصل ہونے کے مختصر مدت کے کسی منصوبہ کو جلد از جلد مکمل کرے تاکہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت سے متعلق کاروباری طبقہ کی توقعات پر مایوسی کے سائے نہ پڑیں ۔ ملک طاہر جاوید نے اپوزیشن رہنماوں کو توجہ دلائی ہے کہ میں نہ مانوں کی ضد اور انتشار سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کا پہیہ رک جائے گا ۔ بے روزگاری بڑھ جائیگی اور وطن عزیز معاشی عدم استحکام کا شکار ہو نے کا اندیشہ پیدا ہو جائے گا اس لیے پیاف کے چیئرمین نے زور دیا کہ وہ ملک اور عوام سے خیر خواہی کے جڈبوں سے سرشار ہو کر سر دست معاشی ترقی کے پروگرام کو آگے بڑھانے کا اعلان کریں ۔

پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ حکومت گرانے کے نعروں کے ساتھ سڑکوں پر آنے والے رہنماوں پر اگر کاروبار کرنے اور اسے بڑھانے کی ڈمہ داری کااحساس ہو ۔

انہوں نے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوں اور تعمیر وطن کے لیے ٹیکس دینے کی ڈمہ داری سے عہدہ برآء ہونے کا جڈبہ موجود ہو تو انہیں ضرور اس امر کا احساس ملے گا کہ دلکش نعرے لگا کر لوگوں کو سڑکوں پر لاکر ملک کو کس قدر نقصان پہنچے گا ۔

پیاف کے چیئرمین نے حکمرانوں اور دیگر سیاست دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کی اپنی تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور بنائیں جس کے لیے ضروری ہے کہ کاروبار کے لیے حالات زیادہ سے زیادہ سازگار بنائے جائیں ۔ بجلی کے ہائیڈل منصوبوں پر کام کی رفتار تیز تر کی جائے ۔ ایف بی آر کو حکومت سختی سے ہدایا ت جاری کرے کہ وہ آئے روز من چاہے ایس آر او جاری کرنے سے اجتناب کرے اس سلسلے میں انہوں نے ایس آر او 608 کی واپسی کا مطالبہ کیا ۔

*****

مزید :

علاقائی -