ہائی کورٹ :الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی قیادت کے خلاف غداری کیس کی سماعت 22جولائی کو ہوگی

ہائی کورٹ :الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی قیادت کے خلاف غداری کیس کی سماعت ...
ہائی کورٹ :الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی قیادت کے خلاف غداری کیس کی سماعت 22جولائی کو ہوگی

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین ،بابر غوری،فاروق ستار ،وسیم اختر سمیت مختلف عہدیداروں کے خلاف غداری کے مقدمہ کے اندراج کے لئے دائر درخواستوں کی 22جولائی کو سماعت کریں گے ،درخواست گزاروں میں عبداللہ ملک اور سردار آفتاب ورک ایڈووکیٹ شامل ہیں ،فاضل جج نے عبداللہ ملک کی طرف سے دائر درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد سرکاری وکیل کی طرف سے اعتراض اٹھائے جانے پر عبداللہ ملک کو درخواست میں ترمیم کی اجازت دے کرانہیں الطاف حسین کو مقدمہ میں فریق بنانے کی ہدایت کردی ، سرکاری وکیل نے درخواست گزار کی جانب سے الطاف حسین کی بجائے متحدہ قومی موومنٹ کو فریق بنانے کا نکتہ اٹھاتے ہوئے درخواست کے ناقابل سماعت ہونے کا اعتراض عائد کیا تھا جس پر درخواست گزار نے درخواست میں ترمیم کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی ،عدالت نے ترمیم کی اجازت دیتے ہوئے درخواست میں ایم کیو ایم کی بجائے براہ راست الطاف حسین کو فریق بنانے کی ہدایت کر دی۔ دوسری درخواست آفتاب ورک ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین سمیت دیگر مرکزی رہنما میڈیا پر آ کر پاک فوج،رینجرز اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف مسلسل بیان بازی کر رہے ہیں۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے رہنماﺅں کی بیان بازی ملکی سالمیت،وقار ، حب الوطنی کے تقاضوں اور آئین کے آرٹیکل245,244,243 , 62اور63 کے منافی ہے۔ درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کی میڈیا پر تقریریں نشر ہونے سے بیرون ملک پاکستان کا امیج بری طرح متاثر ہو رہا ہے،وفاقی حکومت کو الطاف حسین ،فاروق ستار،بابر غوری،وسیم اختر،ندیم نصرت،عتیق الرحمن،ارشاد ظفیر اور خالد مقبول صدیقی سمیت سنٹرل ایم کیو ایم آفس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے اور غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے جبکہ پیمرا کو ایم کیو ایم کے رہنماﺅںکی تقاریر نشر نہ کرنے کاپابند بنایا جائے۔درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62,63 کے تحت کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔

مزید :

لاہور -