متحدہ کے ممکنہ آپشن

متحدہ کے ممکنہ آپشن
متحدہ کے ممکنہ آپشن

  

اوون بینیٹ جونز کی بی بی سی پر چلنے والی رپورٹ نے پاکستان میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔اس رپورٹ میں ایم کیو ایم پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم چونکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی اہم ترین سیاسی جماعت ہے، اس لئے اس بھونچال سے کراچی کا سب سے زیادہ متاثر ہونا قدرتی امر ہے۔ کراچی کے علاوہ حیدر آباد میں بھی ایم کیو ایم کی اہم سیاسی پوزیشن ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اوون بینیٹ جونز کی بی بی سی پر چلنے والی رپورٹ پاکستان کی قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، اس لئے پاکستان کے20کروڑ عوام میں سے ایک شخص بھی اس سے غیر متعلق نہیں رہ سکتا، چاہے اس کا تعلق پاکستان کے کسی بھی صوبے کے کسی بھی علاقے سے ہو۔ یہ رپورٹ جتنی ایم کیو ایم کے لئے اہم ہے، اتنی ہی پاکستان کے ہر شخص، ہر سیاسی پارٹی، حکومت اور فوج کے لئے بھی اہم ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، اوون بینیٹ جونز کی اس رپورٹ میں ہمسایہ دشمن مُلک بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے کردار کا ذکر ہے۔

ایم کیو ایم اور بھارت پر لگنے والے الزامات بہت سنگین ہیں۔ میرے خیال میں سب سے پہلے تو الزامات لگانے والے شخص کی اپنی کریڈیبلٹی کو اچھی طرح دیکھنا چاہئے۔ اوون بینیٹ جونز ایک ممتاز برطانوی صحافی ہیں، جو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے علاوہ دی گارجین، فنانشیل ٹائمز اور دی انڈیپنڈنٹ جیسے مقتدر اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ اگر اوون بینیٹ جونز کی صحافتی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے 20سال سے وہ پاکستان کے حق میں مضامین لکھ رہے ہیں اور مختلف طریقوں سے پاکستان کے مثبت امیج کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ ان کی ذاتی ویب سائٹ کے ہوم پیج پر برطانیہ کے علاوہ پاکستان کا جھنڈا مَیں کئی سال سے دیکھ رہا ہوں۔2002ء میں ان کی پاکستان کے بارے میں شائع ہونے والی کتاب۔۔۔Eye of the Stom ۔۔۔میں پاکستان کی مثبت امیج بلڈنگ کی گئی ہے۔ اِسی طرح2004ء میں شاہراہِ قراقرم پر ان کی تصنیف موجود ہے،پچھلے20سال میں مقتدر ترین برطانوی اخبارات میں ان کے درجنوں مضامین اور سٹوریوں سے پاکستان کے بارے میں ان کے مثبت احساسات کا صاف پتہ چلتا ہے۔

جہاں تک ایم کیو ایم کے اس الزام کا تعلق ہے کہ وہ اس کے خلاف تعصب رکھتے ہیں واقعاتی اعتبار سے اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی اپنی تحریر میں ایم کیو ایم کے خلاف کوئی کمپین نہیں چلائی ، ان کی کتاب میں تو ایم کیو ایم کے بارے میں صرف دو تین صفحات ہی موجود ہیں۔ اس سے زیادہ انہوں نے ایم کیو ایم کو اہمیت نہیں دی۔ چند ہفتے قبل جب ’’ نیو یارک ٹائمز‘‘ میں ڈیکلن والش نے ایگزیکٹ کے بارے میں سٹوری چھاپی تھی تو معترضین کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ ڈیکلن والش کا ٹریک ریکارڈ اینٹی پاکستان ہے اور اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان سے نکال دیا گیا تھا، وہ آج تک پاکستان میں بلیک لسٹڈ ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ ڈیکلن والش کے برعکس اوون بینیٹ جونز کا ٹریک ریکارڈ تو دوستانہ اور پرو پاکستان ہے، اس لئے ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ پیرائے میں دیکھنا چاہئے کہ متحدہ کے بارے میں لکھنے والا یہ شخص پاکستان کا دوست ہے یا دشمن؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت کو براہِ راست نامزد کر کے اوون بینیٹ جونز نے اسے بھی دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے، اب بھارت عالمی برادری کے سامنے اپنے کردار کا جوابدہ بن گیا ہے۔

جہاں تک ایم کیو ایم کا تعلق ہے، اس کا ردعمل دو طریقوں سے سامنے آ رہا ہے۔ پہلا تو اس کے کچھ لیڈروں کے وہی روائتی بیانات ہیں، جن میں ٹیبل سٹوری کی بات کی جا رہی ہے یا پھر اسے اوون بینیٹ جونز کی ذاتی مخاصمت کہا جا رہا ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جہاں تک ذاتی مخاصمت کا تعلق ہے تو یہ اوون بینیٹ جونز کے پاکستان کے بارے میں سینکڑوں مضامین اور دونوں کتابوں سے نہیں چھلکتی، اس لئے ایم کیو ایم کا یہ ردعمل بچگانہ ہے۔ ایم کیو ایم کا دوسرا ممکنہ ردعمل یہ ہے کہ الطاف حسین چیخ چنگھاڑ کرتے ہوئے صورتِ حال کو تصادم کی طرف لے کر جائیں۔ اگر انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اس کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

ایم کیو ایم میں موجود محمد انورجیسے عناصر، جو کبھی پاکستان نہیںآئے، کراچی کا موازنہ ڈھاکہ سے کرتے ہوئے اس حقیقت کو سرا سر فراموش کر جاتے ہیں کہ کراچی اور ڈھاکہ کے معروضی حالات میں زمین و آسمان کا فرق ہے، فاصلوں کا بھی، رائے عامہ کی سوچ اور پاکستان سے ان کی اٹل وابستگی کا بھی ہے، اس لئے اگر ایم کیو ایم میں موجود کوئی شخص ان خطوط پر سوچ رہا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے۔ یہ دونوں ممکنہ ردعمل ایم کیو ایم کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں دے سکتے، اس لئے میرے خیال میں ایم کیو ایم کو سمجھ داری اور عملیت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی صفوں کا جائزہ لینا چاہئے اور ایسے تمام عناصر سے پارٹی کو پاک کر لینا چاہئے جو اسے غلط سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔کراچی اور حیدر آباد کی 99.99فیصد آبادی انتہائی محبت وطن ہے اور وہ کسی بھی اینٹی پاکستان خیال کے آگے خود ڈھال بن کر کھڑی ہو جائے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت اپنی اندرونی و بیرونی پالیسیوں پر نظرثانی کرے،اسے نظریۂ پاکستان اور حب الوطنی کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے نہ صرف امن و امان کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے، بلکہ کراچی اور حیدر آباد کی اُردو سپیکنگ آبادی کی پاکستان سے محبت کو مزید لازوال بنائے۔ حکومتِ پاکستان، وزیراعظم میاں نواز شریف، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، رینجرز اور افواجِ پاکستان کی جانب سے کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے بہترین عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اوون بینیٹ جونز کی رپورٹ کو قدرت کی طرف سے ایک تحفہ سمجھتے ہوئے ایک مضبوط پاکستان کی طرف سفر شروع کر دیا جائے، جس میں ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتیں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ شامل کریں۔

مزید :

کالم -