سیاسی قیادتیں اور نیا پاکستان

سیاسی قیادتیں اور نیا پاکستان
سیاسی قیادتیں اور نیا پاکستان

  

حقیقت تو یہی ہے نئے پاکستان کا دعوی سبھی سیاسی جماعتوں نے کیا، لیکن ہوم ورک کسی کا بھی نہیں۔دوسری طرف خشک پتوں کی وادی میں بھاری قدموں کی چاپ سننے کے منتظر بھی عالمگیر سماجی تبدیلیوں سے بے خبر ہیں ۔ گزری دہائیوں کے دھندلکوں کو واپس لانے کے خواہشمند بھلا بیٹھے، دنیا کے بیشتر سماج ایسے موسموں کی زد میں آچکے ہیں ، جہاں سورج خون آلود، دوپہریں ماتم کناں اور شامیں آہوں کا مسکن بن رہی ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ایسا ملک جہاں امن کی فاختہ عرصہ قبل پرواز کر چکی ، اندرونی محاذ چپقلشوں کی نذر، بیرونی فیصلہ کن طاقتوں کے زیر اثر۔ بیس کروڑافراد پر مشتمل سماج کس طرح عالمگیریت کا مقابلہ کر پائے گا؟۔ کیا آنے والے ماہ و سال بھی چوپایوں کی طرح رینگتے ہوئے گزریں گے؟ کیا ادارہ جاتی بدنظمی کے اژدھے کو اس وقت تک دودھ پلایا جائے گا، جب تک وجود کو ہی نہ نگل جائے؟ یا کیا سماج کو بہتر معاشرت کی اس چوٹی تک رسائی ہوسکتی ہے ،جہاں عظمت کی ہزاروں برس پرانی دیوی محو آرام ہے۔

سبھی کچھ ممکن ہے ۔ لازم یہ قرار معاشرت بارے فکرمند تمام سیاسی قوتیں تسلیم کریں ، سرکاری ادارہ جاتی ڈھانچہ بدلتی دنیا میں آگے بڑھنے سے انکاری ہو چکا ہے۔سماج نے پارلیمنٹ سے امیدیں باندھیں۔ پارلیمنٹ اسی ڈھانچے کی آئینی موشگافیوں میں الجھ گئی۔ عوام نے مشرف کو فوج کے لئے باعث بدنامی قرار دیا تھا۔ فوج اسی ڈھانچے کے باعث مشرف کی پالیسیوں کو بدلنے میں مشکلات سے دوچارہوگئی۔ لوگوں نے عدلیہ کی آزادی کو صبح نو کے تارے سے تعبیر کیا تھا۔ بعد میں وہی عدلیہ ذاتی اَنا پر قربان ہوگئی۔ اپوزیشن مثبت کردار کے عزم پر آگے بڑھی۔ نتیجتاً ’’فرینڈلی‘‘ کا تحقیر آمیز لقب چسپاں کر دیا گیا۔ ریاست کے تمام ستونوں نے اپنے طور امنڈتے طوفانوں پر قابو پانے کی کاوش کی لیکن معاملات مزید الجھتے گئے۔

اداروں کی ناکامی اور قوموں کی تنزلی لازم و ملزوم ہیں ۔ کیا ہم اس انتظار میں ہیں کب مکمل تباہی آن دبوچے اور پیندے میں سوراخ نمودار ہو جائیں۔ بڑے چیلنج سامنے آچکے ہیں۔ راستے دو ہی بچے ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ پھیلتی ابتری یا بروقت اقدامات۔ ابتری ، اقدامات میں کوتاہی سے مشروط ہوگی۔ اقدامات کون کرے گا؟ بنیادی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اب تھانے ، کچہری اور پٹوار جیسے سستے مفادات میں دھنسے سیاست دانوں کو کون باور کروائے، دُنیا بہت ہی بڑی تبدیلیوں کے عمل سے گذرنے کو تیار ہے، لیکن سیاست دان قوم تک یہ پیغام کس طرح پہنچائیں گے؟ قائدین کی سوچ، تربیت ،جبلت اور اہلیت ہمارے سامنے ہے ۔ کیا مولانا فضل الرحمن ان پوشیدہ تنظیموں کے کام کرنے کے انداز کو سمجھ سکتے ہیں جو امریکہ، اسرائیل جیسی ریاستوں کو بھی کٹھ پتلی کی طرح نچوا رہی ہیں؟۔ کیا مسلم لیگ کے قائدین کا مطالعہ اتنا وسیع کہ میثاق جمہوریت جیسے بھولے بسرے خواب سے نکل کر امریکن معیشت کی ابتری پر دو منٹ ہی بول سکیں؟ کیا جماعت اسلامی امریکہ مخالف نعروں پر وقت ضائع کرنے کی بجائے کارکنوں کو یہ حقیقت بیان کر نے پر قادر کہ عالمی سوچ تک رسائی کے بغیر جماعت کے اگلے تیس سال بھی خالی نعروں کی نذر ہوں گے ؟۔ کیا پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ اتنی مستعد کہ جنوبی ایشیاء کی جانب رخ کرنے والے عالمی بھیڑیوں کی ریشہ دوانیوں کو کھل کر بیان کر سکے۔ رہی تحریک انصاف تو اس کا اللہ ہی حافظ۔ نہ خارجہ کا علم اور نہ ہی داخلہ کی سوجھ بوجھ۔ اگر لیڈر وژن سے عاری اور اناء پرستی کے اسیر رہیں گے، اگر جماعتوں کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا جا سکا ۔ بڑے چیلنجوں کے لئے اعلی تربیت یافتہ کارکنوں کے چناؤسے اجتناب برتا گیا۔ تو ایسے لیڈروں اور جماعتوں کو تاریخ کا کوڑے دان بننے سے کون بچا پائے گا۔ مُلک روایتی کارکنوں سے نہیں۔ گلا پھاڑ کر نعرے بلند کرنے والے ذہنی معذوروں سے نہیں۔ ایام اسیری کے ملاقاتیوں سے نہیں، بلکہ ان ذہین افراد کے چناؤ سے آگے بڑھے گا ،جو شتر بے مہار افسر شاہی کو پوری قوتوں سے تعمیری سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔ آخر کب تلک معاملات حکومت چلانے کے لئے ان مٹھی بھر افراد پر بھروسہ کیا جائے گاجو مینجمنٹ اور نظم و ضبط کی بنیادی خصوصیات سے ہی عاری ہیں۔ کب تک اس نااہل طبقے پر جیت کی شرطیں لگائی جاتی رہیں گی جسے معاشروں، قومیتوں، مذاہبوں اور دنیا کو سمجھنے کے لئے خود تربیت کی ضرورت ہو ۔ کیا کرپٹ افسر شاہی کے موجودہ نظام میں بستے ہوئے دنیا کے ان ممالک کے افسران کا مقابلہ ہو پائے گا، جو ڈپارٹمنٹ سربراہ ہونے کے باوجود دفتر پہنچنے کے لئے لوکل بس یاٹرین میں سفر کرتے ہوں، جنہیں رہنے کو دو کمروں کا اپارٹمنٹ اور جو نوکر، ڈرائیور، گارڈ، مالی، قاصد جیسی بدبختیوں سے آزاد ہوں ۔ یہ سارے عذاب پاکستانی ریاست پر ہی مسلط کیوں ہیں؟ کیا افسر شاہی اپاہج ہے؟ نہیں قطعا نہیں۔ اپاہج یہ سماجی ڈھانچہ ہے ۔ یہ منحوس اختیارات کی مکروہ تقسیم ہے۔ اور یہ انسانوں کو غلامی کا طوق پہناتے ہوئے نفس کی آخری حدوں کو چھوتی تسکین ہے۔ یہ تسکین سماج کو مار ڈالے گی۔ یہ تسکین اس عوامی نفرت کو بام عروج پر پہنچا دے گی جہاں انسانوں کاجم غفیر ہوش و حواس کھو بیٹھے گا۔

نئے انتخابات، متبادل قیادت اور انقلاب سب جھوٹ ہے ۔ یہ سماجی ڈھانچہ،یہ زمینی حقائق سے متصادم قوانین ہی درحقیقت سماج کے اصل قاتل ہیں ۔ اگر سماجی ڈھانچے میں تفویض کردہ اختیارات کو بدلنے کی خاطر بھرپور اور منظم انداز میں کام نہ کیا گیا تو پرانی دھند کا موسم پلٹ کر رہے گا۔آثار ابھی سے نمایاں ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو موقع ملا تھا نظام بدلنے کا۔ آصف علی زرداری میں اتنی صلاحیت تھی وہ بڑی تبدیلیوں کے لئے دیگر جماعتوں کے قائدین کو آمادہ کر سکتے۔ انہیں ورثے میں دُکھ ہی سہی، لیکن ایک بڑا زبردست اور بہتری پر آمادہ سماج بھی نصیب ہوا تھا۔ جب انہوں نے آنے والی نسلوں کی بہتری کا نعرہ بلند کیا تو ایک دفعہ ہر کوئی متوجہ بھی ہوا، لیکن لوگ منتظر ہی رہے اور نسلوں کی بہتری کا خواب سندھ کی نم آلود ہواؤں میں بکھر گیا۔ پھر سماج کو اپ گریڈ کرنے کی ذمہ داری جناب وزیراعظم میاں نواز شریف پر عائد ہوئی۔ ان کے پاس بے پناہ عزم بھی تھا، ساتھی بھی قابلِ قبول اور تجربہ کار تھے۔ توقع تھی اب کی مرتبہ وہ ہر مصلحت، فائدے کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے اداروں کی اپ لفٹنگ کا ایسا کارنامہ سر انجام دے سکیں گے، جس کے فوائد دنوں ، ہفتوں میں انہیں دنیا کے ان ریفارمرز کی صف میں لا کھڑا کریں گے، جنہیں لوگ رہتی دنیا تک یاد رکھتے ہیں۔ اس کام کے لئے نہ کوئی پیسہ خرچ ہونا تھا اور نہ ہی برسوں برس کا انتظار۔ فقط پروفیشنلز کی ٹیم اور اعلیٰ تجزیاتی صلاحیتوں کے افراد چاہئے تھے۔ آخر کتنا مشکل ہے عدالتی نظام کو اپ گریڈ کرنا؟ پولیس کو کیونکر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، طبی نظام کی خامیوں پر کیوں قابو نہیں پایا جا سکتا؟ سب کچھ ہو سکتا ہے اور وہ بھی بہت قلیل عرصے میں۔ جب منتخب پارلیمنٹ موجود ہو، سیاست دان ریگولر سیشنز میں شرکت کر رہے ہوں تو پھر انتظار کس بات کا، لیکن نہ معلوم کس وجہ سے مسلم لیگ (ن) نے ان ترجیحات کی طرف توجہ نہیں مرکوز کی جو سماج کے ہر فرد کے دِلوں میں موجزن ہیں۔ نہ جانے مسلم لیگ(ن) کے پالیسی میکر دوسری کن ترجیحات میں الجھ چکے ہیں۔ وہ دیکھ ہی نہیں پا رہے انتہائی نا تجربہ کار عمران خان کی ساری شہرت انہی ترجیحات کے چرچے کے گرد گھوم رہی ہے جسے شائد وہ پوری طرح سمجھتے بھی نہیں،جو خواب عمران خان نے لوگوں کے دماغوں میں انڈیلا کیا مسلم لیگ ن والے عملی طور پر اس کی بہترین تعبیر حاصل نہیں کر سکتے؟ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر فقط چھوٹے موٹے جرائم کی سزاؤں کو کمیونٹی سروس، جیسا کہ پارک یا محلے کی صفائی، میں ہی بدل دیا جائے تو آدھی جیلیں خالی ہو جائیں۔ اگر سپاہی سے لے کر تھانے کے انچارج تک کے لئے علاقے کا رہائشی ہونا شرط قرار دے دیا جائے تو کرپشن ڈرامائی حد تک نیچے آجائے۔ روز ٹینڈر نکلتے ہیں، ٹھیکیدار اعلانیہ کمیشن تقسیم کرتے ہیں اور سیاستدانوں سمیت سارا معاشرہ چپ چاپ رہتا ہے۔ روز تھانوں میں بے گناہ لائے جاتے ہیں، لین دین ہوتا ہے اور سماج آنکھیں بند کئے سویا رہتا ہے۔ ہر سال ہسپتالوں کو فنڈ ملتے ہیں۔ سارے سٹاف کے سامنے کثیر حصہ لوٹ لیا جاتا ہے، لیکن سبھی لبوں پر تالے لگائے مصنوعی نیند کی وادیوں میں کھوئے رہتے ہیں۔ ہر طرف ابتری اور پارلیمنٹ پھر بھی مطمئن۔ یہ مصنوعی اطمینان درحقیقت آہستہ آہستہ ان قوتوں کی راہ ہموار کر رہا ہے جہاں ایڈونچر ازم سے کبھی بھی اجتناب نہیں برتا جاتا۔ کاش پرویز رشید وزارت اطلاعات نہ سنبھالتے۔ وہ اور ان جیسے چند افراد ن لیگ کو دستیاب ہیں جو عالمی سماجی حرکیات اور بدلاؤ کو بہتر سمجھتے ہیں ۔ ایسے افراد کی ٹیم کا کام لائم لائٹ سے دور ، ان خاموش کمروں تک محدود ہونا چاہئے، جسے برین سیل کہتے ہیں۔ جہاں سے ادارہ جاتی اپ گریڈیشن کی تجاویز ٹپکتی نہیں برستی ہیں۔ شائد اب غور کر لیا جائے۔

عمران خان کے پاس بھی ایسا اک موقع آیا تھا۔ دھرنوں کے دوران وہ ایسی سٹیج پر پہنچ چکے تھے جہاں دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اپ گریڈیشن کو بھی نتھی کیا جا سکتا تھا، لیکن عمران خان استعفے کے معاملے تک اٹکے رہے۔ اگر وہ سماجی بہتری کی جانب آتے تو کریڈٹ تحریک انصاف کو ہی جانا تھا۔ شائد ان کے ساتھی بھی بضد تھے عمران خان متھن چکرورتی کی طرح نت نیا ڈانس متعارف کرواتے رہیں۔ اداروں کی اوور ہالنگ کا ایسا شاندار موقع کبھی کبھار ہی نصیب ہوتا ہے۔ حیرانی کی بات ہے عمران خان کا وژن ابھی تک اس پیریڈ میں اٹکا ہوا ہے جب وہ اقتدار سے مکمل طور پر آؤٹ تھے۔ اب وہ بھولے سے بھی اس چیز کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ ان کی جماعت اقتدار کے ایوانوں میں ایک مکمل سٹیک ہولڈر کی حیثیت رکھتی ہے۔ کہاں گیا عمران خان کا مثالی گاؤں کا تصور؟ وہ تو کہتے تھے ایک گاؤں ہوگا، جس کا تھانہ بھی اپنا، عدالت بھی اپنی اور جیل بھی اپنی، جرم ہوا تو اہلِ گاؤں مقدمے کے اندراج کی سفارش کریں گے، عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو ملزم و مدعی کو شہروں میں دھکے کھانے کی بجائے گاؤں میں ہی انصاف ملے گا۔ ڈھائی سال گزر گئے نہ تو وہ یوٹوپیا گاؤں نظر آرہا ہے اور نہ ہی وہ پولیس و عدالت کا نظام۔ عمران خان بھی قیمتی وقت گنوا بیٹھے۔ وہ سوچنے کی بجائے موتیے کے پھول توڑنے پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔ آج سبھی سٹیک ہولڈر وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ ایک بار پھر الزام تراشیاں شروع ہو چکی ہیں کہ سیاست دان ہوتے ہی نا اہل ہیں۔ کئی اصحاب اس قوت کی جانب دیکھ رہے ہیں، جس کا استقبال تو زور و شور سے کیا جاتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد ہی جانے کی دُعائیں بھی مانگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ خدارا سیاست دان کچھ خیال کریں۔ وہ سبھی کچھ کر سکتے ہیں اور سرعت کے ساتھ۔ بہت کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے۔ ایک نیا پاکستان مسلم لیگ ن بھی بنا سکتی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی، ایک تبدیل شدہ پاکستان میں رنگ تحریک انصاف بھی بھر سکتی ہے اور جماعت اسلامی بھی۔ لیکن شرط یہ ہے سارا کچھ اداروں کی اپ گریڈیشن، نئے رولز آف سول سروس کے گرد گھومے۔ ادارے بااختیار اور کڑے احتساب کی زد میں ہوں تو لوگ خود بخود آزاد ہو جائیں گے۔ لوگ آزاد ہوئے تو مُلک سے محبت بڑھے گی۔ اگرچہ ریاستیں جھوٹ پر چلتی ہیں، لیکن یہ ایسا سچ ہوگا جسے افریقہ سے لے کر امریکہ تک بسنے والا ہر پاکستانی انجوائے کر ے گا، لیکن بنیادی سوال یہی ہے نئے پاکستان کا ذکر تو ہر جماعت کر رہی ہے، لیکن منظم ہوم ورک کہیں نظر نہیں آتا۔

مزید :

کالم -