چُپ کا روزہ اور پہلا قدم

چُپ کا روزہ اور پہلا قدم
چُپ کا روزہ اور پہلا قدم

  

چُپ کا روزہ بالآخر انہوں نے توڑ دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب وہ بولے ہیں تو خوب بولے، جی ہاں۔۔۔ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کے کھل کر بولنے کی بات ہو رہی ہے۔ لاہور میں افطار ڈنر کے موقع پر انہوں نے میڈیا کے روبرو جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نیب کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں۔ اربوں روپے کی کرپشن کے معاملات پر نیب اور ملزم پارٹی میں ’’تصفیہ‘‘ ہو رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی طرف سے بھی اربوں کی کرپشن کے کیسز بھجوائے گئے، لیکن کارروائی کچھ نہیں ہوئی۔ نیب کی خاموشی اور تصفیہ پالیسی پر تحقیقاتی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیب کا کون احتساب کرے گا؟‘‘ یہ بات واضح ہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر ساری صورتحال اور متعلقہ قوانین سے باخبر ہیں۔ نیب تفتیش کے بعد ملزم پارٹی کو کرپشن کی مالیت برابر یا پھر باہمی رضا مندی سے طے شدہ رقوم ادا کرنے پر رہائی ممکن بنائی جاتی ہے۔ سپیکر ایاز صادق نے اسے تصفیئے کا نام دیا ہے جبکہ نیب والے اسے پلی بارگیننگ کہتے ہیں۔ سیاسی لوگ اسے ’’مک مکا‘‘ قرار دے کر تنقید کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

نیب کی کارکردگی اور دوسرے ایشوز پر بات کرنے سے پہلے سپیکر ایاز صادق کے چپ کا روزہ توڑنے پر بات ہو جائے۔ تحریک انصاف کی طرف سے جن انتخابی حلقوں میں دھاندلی پر سب سے زیادہ شور مچایا گیا، ان میں ایاز صادق کا حلقہ بھی شامل ہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھی رہنما بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہوئے دھاندلی کے سنگین الزامات لگاتے رہے یہ سلسلہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران بھی جاری رہا۔ سپیکر ایاز صادق کہتے رہے کہ وہ اس کا جواب نہیں دیں گے۔ میرا منصب ایسا ہے اور میری سیاسی پالیسی کا تقاضا ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے میڈیا کے کئی بار اصرار کے باوجود انہوں نے زبان نہیں کھولی:

ہونٹوں کو سی لیا تو زمانے نے یہ کہا

یہ چُپ سی کیا لگی ہے اجی کچھ تو بولیئے

اُدھر عمران خان اور دیگر رہنما ’’جواب‘‘ کے لئے منتظر تھے اور چاہتے تھے کہ ایاز صادق کچھ ارشاد فرمائیں تاکہ وہ مزے لے کر بات کو آگے بڑھائیں۔ مگر ایاز صادق کی خاموشی سے ان کی بات نہ بن سکی۔ معروف شاعرہ ادا جعفری کی غزل کا شعر عمران خاں کی دلی کیفیت بیان کرتا رہا:

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے

آئے تو سہی، برسرِ الزام ہی آئے

یار لوگوں کا خیال تھا کہ ایاز صادق جب بولیں گے تو خوب بولیں گے۔ ویسے بعض اوقات لگتا تھا کہ ایاز صادق، سپیکر کے فرائض نہایت سنجیدگی سے ادا کرتے کرتے بوریت محسوس کرنے لگے ہیں۔ وہ بھی سیاسی مخالفین، خصوصاً عمران خان کو جواب دینا چاہتے ہیں۔ غالباً وہ کسی مناسب موقع کی تلاش میں رہے۔ میڈیا والوں نے بھی ایاز صادق کو چپ کا روزہ توڑنے کی ترغیب دینا چھوڑ دی تھی اور سپیکر صاحب کا عالم یہ تھا کہ:

ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں

کاش! پوچھو کہ مدعا کیا ہے

چیئرمین نیب نے اچانک بڑے مگر مچھوں کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کی اور بتایا کہ کچھ مزید تفصیلات بھی ہیں تو سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ ایک دور تھا کہ میاں نوازشریف کے لئے نعرہ لگتا تھا۔ ’’میاں نے مچا دی ہلچل، ہلچل!‘‘ یہ نعرہ اب سننے میں نہیں آتا تو حیرت ہوتی ہے کہ چین سے 47 ارب کی سرمایہ کاری اور مختلف منصوبوں میں پیش رفت کے حوالے سے اُن کے کارکنوں یا مداحوں نے ایک مرتبہ بھی ’’ہلچل ہلچل‘‘ والا نعرہ نہیں لگایا۔ تاہم نیب کی طرف سے کرپشن کے 150 اہم مقدمات کی فہرست پیش کی تو اس میں میاں نوازشریف کا نام بھی شامل تھا۔ یوں ایک ہلچل مچ گئی اور پہلی فرصت میں میاں شہباز شریف نے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ایک بار پھر بتایا کہ جو بھی قرضے لئے گئے، وہ تمام واپس کر دیئے گئے اور ایک روپیہ بھی معاف نہیں کرایا۔ اُن کی باتوں سے واضح تھا کہ فہرست میں میاں برادران کا نام آنے پر وہ ناراض ہیں۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب سپیکر ایاز صادق نے چپ کا روزہ توڑ دیا۔ انہو ں نے نیب کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ قومی اسمبلی موجود ہے (اور مَیں اسمبلی کا سپیکر ہوں) نیب حکام سے جواب طلب کیا جا سکتا ہے، یعنی تحقیقات کے لئے قومی اسمبلی کی کمیٹی بھی بنائی جا سکتی ہے۔ اس قسم کی ’’وارننگ‘‘ سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایاز صادق بھی غصے میں تھے وہ غصہ نیب کی کارکردگی خصوصاً کرپشن کیسوں کاتصفیہ ہونے اور خاموش رہنے پر ظاہر کیا گیا، مگر یار لوگ کہتے ہیں کہ میاں برادران کا نام فہرست میں شامل ہونے پر ان کی ناراضی کا اظہار تھا۔ اس پر بجا طور پر دریافت کیا جانے لگا ہے کہ ایاز صادق صاحب! جن خیالات کا اظہار آپ نے کیا، وہ 150 کرپشن کیسز سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے پہلے کیوں یاد نہیں آئے۔ جناب سپیکر! تحقیقاتی کمیٹی بنانے بارے آپشن کچھ عرصہ پہلے کیوں نہیں بنایا گیا کچھ تو لوگ کہیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ بہر حال، یہ پتا چلتا ہے کہ سپیکر صاحب بھی خوش نہیں ہیں۔ ویسے یہ سوال تو عام آدمی کے ذہن میں ہے کہ جب میاں برادران اپنے تمام قرضے ادا کر چکے ہیں تو ان کا نام کرپشن کیسز میں شامل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ نیب حکام کی کیا مجبوری تھی؟

جہاں تک یہ بات ہے کہ ایاز صادق کے بقول، نیب کو چیک کرنے کے لئے بھی ’’نیب‘‘ ہونی چاہئے تو ہمیں وہ لطیفہ یاد آتا ہے کہ کسی معاملے میں گڑبڑ معلوم کرنے کے لئے تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا جب اس کی رپورٹ نہ آئی تو اس پر بھی ایک کمیشن بنا دیا گیا اور پھر ایک کے بعد دوسرا اور تیسرا کمیشن بنتا رہا اور مسئلہ پھر بھی حل نہ ہو سکا۔ ہمارے ہاں سسٹم کی خرابی اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ کسی بھی محکمے یا ادارے پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ چیکنگ بھی کر کے دیکھ لی جائے کچھ بہتر نہیں ہوگا۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ایاز صادق سے جس طرح مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات پوچھے جا رہے ہیں، ان سے تنگ آکر سپیکر ایاز صادق بالآخر یہ شعر بھی گنگنا سکتے ہیں:

کچھ کہنے پہ طوفان اُٹھا لیتی ہے دنیا

اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

ویسے داد دینا چاہئے ایاز صادق کو یاد رہا کہ عمران خان اور ساتھیوں کو بھی کچھ نہ کچھ جواب دینا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی میرے نزدیک سپیشل ڈیوٹی پر تھے یعنی سرکاری زبان میں وہ لوگ ’’او ایس ڈی‘‘ تھے لہٰذا انہیں تنخواہ دی جاتی رہی۔ ان اراکین نے تنخواہ واپس نہیں کی، اگر ایسا کیا گیا تو رقوم قومی خزانے میں جمع کرائیں گے۔ ایاز صادق نے زبان کھولی لیکن نہایت مہذب اور باوقار انداز اختیار کیا کہ ایک سپیکر قومی اسمبلی سے یہی توقع تھی۔ وہ بھی سیاسی جلسوں اور میڈیا ٹاک کا عمومی انداز اختیار کر کے مخالفین پر تنقیدی گولہ باری کر سکتے تھے لیکن ایسا نہ کر کے انہوں نے بہت اچھا کیا۔ کاش ہمارے سبھی سیاستدان با وقار اور سنجیدہ ہی نہیں، نہایت ذمہ دارانہ انداز میں گفتگو کیاکریں۔ تناؤ اور کشیدگی میں کمی ہو گی تو مثبت تبدیلیاں یقینی ہوں گی۔

ایاز صادق نے نیب کی کارکردگی کو چیک کرنے کے لئے ریفرنس لانے کی بات کی ہے تو ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اگر نیب کی طرف سے کرپشن کیسز میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہیں ہو رہا تو ریفرنس لانے میں بھی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ اب تک صحیح معنوں میں ’’کام‘‘ نہیں ہوا۔ حکومتی اور سیاسی مصلحتوں نے اربوں کی کرپشن کو دبا اور چھپا رکھا ہے۔ تمام ذمہ داران کو سزا تو دور کی بات، عدالت کے کٹہرے تک لایا نہیں گیا۔ اگر بلا امتیاز اور بے رحمانہ انکوائری حقیقی معنوں میں ہونے لگے تو اسے معجزہ ہی کہا جائے گا۔

کیا یہ ممکن ہے کہ صحیح معنوں میں احتساب ہو اور انصاف کسی تاخیر کے بغیر ہوتا ہوا نظر آنے لگے۔ اگریہ واقعی ممکن ہے تو بسم اللہ کریں، نیب ہو یا کوئی دوسرا ادارہ، اس کے سربراہوں کو تاریخی اور انقلابی قدم اُٹھاتے ہوئے ایک بار تو اپنی ملازمت سے سبکدوشی کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ مقررہ وقت سے پہلے زندگی کو کوئی ختم نہیں کر سکتا، پھر اپنے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے نظامِ عدل کا کوئی پلڑا ہر گز جھکنے نہ دیں اور پہلا قدم اُٹھا کر ثابت کر دیں کہ جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، وہاں انصاف کا بول بالا ہونے لگا ہے۔ پھر دیکھئے، وطن عزیز میں کیسے کیسے انقلابات اور کیسی حیران کن تبدیلیاں آتی ہیں!

اے دِل ذرا سی جرأت زندی سے کام لے

کتنے چراغ لوٹ گئے، احتیاط میں

مزید :

کالم -