پلوٹو کی سطح پر بھی پہاڑی سلسلہ، ناسانے انتہائی قریب سے لی گئی نئی تصاویر جاری کردیں

پلوٹو کی سطح پر بھی پہاڑی سلسلہ، ناسانے انتہائی قریب سے لی گئی نئی تصاویر ...
پلوٹو کی سطح پر بھی پہاڑی سلسلہ، ناسانے انتہائی قریب سے لی گئی نئی تصاویر جاری کردیں

  

واشنگٹن(اے این این)امریکی خلائی ادارے ناسا نے پلوٹو کی انتہائی قریب سے لی گئی نئی تصاویر جاری کردیں، تصویروں میں اونچی ڈھلان اور آبریزے دکھائی دیتے ہیں، جو تقریبا 1,000 کلومیٹر پر پھیلا ہوا رقبہ ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی مشن نیو ہورائزنز منگل کو اپنے تاریخی سفر میں پہلی بار پلوٹو کے انتہائی قریب سے گزرا۔ اس دوران خلائی گاڑی اور پلوٹو کا فاصلہ صرف 12ہزار 500کلو میٹر تھا۔ ناسا نے نیو ہورائزنز سے لی گئی تازہ ہائی ریزولیوشن تصاویر جاری کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پلوٹو پر میتھین گیس کے علاوہ ، پانی اور پہاڑ بھی موجود ہیں۔ خلائی تاریخ کی اس اہم کامیابی پر مشن ہیڈ کواٹر میں موجود ناسا کے سائنسدانوں نے تالیاں بجا کر جشن منایا۔گزشتہ روز ناسا نے پلوٹو کے سب سے بڑے چاند شیرون کی تصویر بھی جاری کی۔ تصویروں میں اونچی ڈھلان اور آبریزے دکھائی دیتے ہیں، جو تقریبا 1000 کلومیٹر پر پھیلا ہوا رقبہ ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق وہ اس بات پر حیران ہیں کہ چاند کی سطح پر آتش فشاں کے نشانات کیوں نہیںپلوٹو کے خط استوا کے قریبی علاقے سے نئے پہاڑی سلسلے کا انکشاف ہوتا ہے، جن کی اونچائی 3500 میٹر تک ہے۔

نیوکلیئر توانائی سے چلنے والا نیو ہورائزن اب تک بھیجی گئی خلائی گاڑیوں میں سب سے زیادہ تیز رفتار ہے، یعنی اس کی رفتار تقریبا 30800 میل فی گھنٹہ ہے۔ سامنے سے گزرتے ہوئے، مشن نے پلوٹو کی تصاویر لیں۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -