کھیل کھیل میں سب ہی کچھ نہ بگڑ جائے

کھیل کھیل میں سب ہی کچھ نہ بگڑ جائے
کھیل کھیل میں سب ہی کچھ نہ بگڑ جائے

  

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف مُلک بھر میں کئی شہروں میں 76 مقدمات اب تک درج کرائے جا چکے ہیں۔ یہ مقدمات ایسے لوگوں نے درج کرائے ہیں، جن کی اپنی کوئی خاص شناخت نہیں ہے۔ انہوں نے 12 جولائی کو جو تقریر کی اس کی وجہ سے ان کے خلاف یہ مقدمات شہر شہر درج کرائے گئے ہیں۔ ان کی تقریر میں جس طرح کی زبان بے اختیار استعمال کی گئی اس کی وجہ سے مُلک کے مقتدر حلقے تو خفا ہی ہوئے، لیکن وفاق میں حکمران جماعت مسلم لیگی وزرا نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔ پاکستان میں طویل عرصے سے فوج کو طرح طرح کی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بحیثیت ادارہ فوج کچھ نہیں کر تی۔ ان جنرلوں نے ، جنہوں نے مُلک میں مارشل لا نافذ کئے، انہیں تو تنقید کا ہدف بنایا ہی جاتا تھا، لیکن نیا رواج یہ ڈال دیا گیا ہے کہ فوج اور رینجرز کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ الطاف حسین کراچی میں رینجرز کے آپریشن پر اس لئے برہمی کا اظہار کرتے ہیں کہ بقول ان کے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو چُن چُن کر گرفتار کیا جا رہا ہے اور کوئی داد فریاد نہیں ہے۔ ایم کیو ایم جیسی جماعت ہو یا کوئی اور سیاسی جماعت، اس کے لئے ان کے کارکنوں کی گرفتاریاں باعث تشویش ہوتی ہیں۔ رینجرز کا کہنا ہے کہ ان ہی افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے، جو جرائم میں ملوث ہیں، حالانکہ رینجرز نے تفصیلات جاری کرنے کا کہا، لیکن اب تک ایسا نہیں کیا گیا۔ رینجرز کو کیوں نہیں چاہئے کہ عوام کو آگاہ کرے کہ گرفتار شدگان میں کون کون ہے؟ رینجرز نے 8 جولائی کو البتہ ایک وضاحت جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ 5ستمبر 13 سے جاری آپریشن میں 10353 مشکوک افراد کو 4995 آپریشن میں حراست میں لیا گیا۔ وضاحت کہتی ہے کہ 826 دہشت گرد اور 334 ٹارگٹ کلر اور 26 بھتہ خور گرفتار کئے گئے ہیں۔ 224 مقابلوں میں 346 دہشت گردوں کے مارے جانے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔ اغواء برائے تاوان کے 82ملزموں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے اور 49 مغوی شدہ افراد کو رہا کرایا گیا ہے۔ کراچی میں جب ستمبر 2013ء میں آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا، تو اس وقت یہ اعلان کیا گیا تھا کہ آپریشن کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ آخر عام لوگوں کو کیوں نہیں معلوم ہو کہ حکام نے کس فرد کو کس جرم میں گرفتار کیا ہے۔ ایم کیو ایم سے وابستہ سارے لوگ تو جرائم پیشہ نہیں ہیں۔ ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا ، رینجرز کو دیئے گئے اختیارات کے تحت عدالتوں نے انہیں 90 دِنوں کے لئے رینجرز کی حراست میں دینا شروع کیا۔ 90 دِنوں کی تفتیش کے دوران تمام ہی گرفتار شدگان کراچی میں کئے جانے والے تما م ہی جرائم کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں، جب عدالتوں میں مقدمات پیش کئے جائیں گے، تو معلوم ہوگا کہ کس نے واقعی کیا کچھ کیا تھا۔ خدمت خلق فاؤنڈیشن سال ہا سال سے فطرہ، زکوٰۃ اور چندے جمع کرتی ہے، جس پر بھی رینجرز نے پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پاکستان میں یہ رواج ہی نہیں ڈالا گیا کہ عوام اپنی پسند کی سیاسی یا سماجی تنظیموں کو چندہ دیں تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ یہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیموں نے چندے لینا شروع کئے، گھر گھر جاکر فطرہ اور زکوٰۃ اکٹھا کرنا شروع کی، قربانی کی کھالیں جمع کرنا بھی شامل تھا۔ یہ رواج ایک روز میں ڈالا گیا اور نہ ہی ایک روز یا ایک کارروائی سے ختم ہو سکے گا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ پاکستان کی سیاست میں کیا کیا خرابیاں ہیں اور ان کا تدارک کیوں کر ممکن ہے۔

ابھی تو بات ہو رہی ہے الطاف حسین کے خلاف شہر شہر مقدمات درج کرائے جانے کی۔ایم کیو ایم کے حامی ہی کیا، عام لوگ بھی حیران ہیں کہ عمران خان، خواجہ آصف ، آصف علی زرداری نے بھی جنرلوں کے خلاف بعض مواقع پر سخت زبان استعمال کی، لیکن ان میں سے کسی کے خلاف اس سرعت کے ساتھ مقدمات درج نہیں کرائے گئے جیسے الطاف حسین کے خلاف درج ہوئے ہیں۔ الطاف حسین کے خلاف درج مقدمات کا انداز کم و بیش وہی تھا، جب ’’جیو‘‘ چینل نے19 اپریل 2014ء کو خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر ٹی وی اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملہ کرانے کا الزام عائد کیا تھا ۔ اس کے بعد کئی شہروں میں ایسے بے نام لوگ نکل آئے تھے، جنہوں نے آئی ایس آئی کی حمایت میں جلوس نکالے تھے، سڑکوں پر بینر آویزان کئے تھے۔ آصف علی زرداری بھی اپنی اس تقریر پر پشیماں اور پریشان ہیں، جس میں انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے بعد ہی بلاول کو خاص اس روز وزیراعلی ہاؤس جانا پڑا، جس روز وزیراعلی سندھ نے اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ حکومت کی کوشش تھی کہ بلاول اجلاس میں بیٹھ سکیں، لیکن انہیں اجلاس میں شریک نہیں ہونے دیا گیا۔ ان کے لئے اتنا ہی کافی رہا کہ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے ان کے ساتھ علیحدہ ملاقات کر لی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سیاسی رہنماء فوج کی طاقت کو کیوں کمزور تصور کرتے ہیں اور کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ فوج ہی تو ہے جو انہیں ہر مشکل وقت سے نکالنے کے لئے سامنے آجاتی ہے۔ اکثر سیاسی رہنماؤں کی سیاسی حیثیت بھی فوج ہی کی مرہون منت ہے۔ اِسی لئے تو بعض سیاست داں جنرلوں کو ہز ا یکسی لینسی کے خطاب سے مخاطب کرتے ہیں۔

اپنی تقریر پر پشیمانی کا شکار تو الطاف حسین بھی ہوں گے۔ سندھ کے شہروں میں بہر حال جہاں جہاں بھی مقدمات درج کرائے گئے ہیں ، ان میں ایک پہلو حیرت ناک حد تک نمایاں رہا کہ مقدمہ درج کرانے والے تمام کے تمام افراد کی مادری زبان سندھی ہے۔ سندھ میں سندھی اور مہاجر کے درمیان ویسے ہی خلیج رہتی ہے اور اعتماد کا فقدان بھی رہتا ہی ہے۔ اس کی ذمہ داری بیک وقت سیاسی رہنماؤں اور سرکاری افسران اور ذرائع ابلاغ پر جاتی ہے، لیکن یہ فیصلہ جس نے بھی کیا کہ مقدمہ درج کرانے والے ایک ہی زبان بولنے والے لوگ نکلے، سندھ میں اس کے نتائج حالات کو کشیدگی کی طرف ہی لے جائیں گے۔ کیا یہ کسی ایسی سازش کا بیج تو نہیں بویا جا رہا ہے کہ سندھ میں نئے اور پرانے سندھی پھر دست و گریباں ہو جائیں۔1988ء سے 1990ء کے درمیان عوام نے نتائج بھگتے ہیں۔ یہ جولائی 1988 ء کا مہینہ ہی تھا جب 17 تاریخ کو حیدر آباد کے میئر آفتاب احمد شیخ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے میں ان کا ڈرائیور اور ایک کونسلر رشید ہلاک ہو گئے تھے۔پھر 30ستمبر 1988ء میں حیدرآباد میں قتل عام ہوا تھا، جس کا مقدمہ سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ عدالتوں نے تمام ملزمان کو مختلف وجوہات کی بنا ء پر بری الزمہ قرار دیا تھا۔30ستمبر کے دوسرے دن ہی کراچی میں سندھی زبان بولنے والی ایک آبادی کے گھروں پر حملہ کیا گیا ۔ لوگ قتل کئے گئے۔مقدمہ اسی طرح ختم ہو گیا جیسے حیدر آباد والا ہوا۔ ایم کیو ایم نے مہاجروں کو کیا دیا یا انہیں کیا ملا، الگ موضوع ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سندھ میں مہاجروں کی اکثریت کی عقیدت یا محبت جسے ایم کیو ایم کے ناقد خوف بھی قرار دیتے ہیں، ایم کیو ایم سے ہی نتھی ہے۔ ایم کیو ایم کی تنظیمی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں تنظیمی سیکٹر کے لوگوں کو گھر کے مکینوں کی تعداد بھی معلوم رہتی ہے۔ سندھ میں جو بھی حکوتیں آئیں انہوں نے ایسے اقدامات ہی نہیں کئے کہ وہ مہاجروں کو درپیش مسائل حل کرتے۔ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کے لئے اقدامات کرتے۔ ایم کیو ایم کے قائد عوامی ہمدری کے باوجود یہ بات کیوں کہہ گئے کہ وہ کراچی کو صومالیہ بنا دیں گے۔ انہوں نے اس سے قبل بھی کہا کہ اگر انہیں ہٹایا گیا تو کراچی کی گلی گلی میں جنگ ہو گی۔ کراچی تو ایم کیو ایم کا شہر ہے ۔ اس شہر کو تو کسی بھی قیمت اور کسی بھی حال میں کسی بھی مشکل سے دوچار کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ کراچی اور حیدرآباد جیسے شہروں میں بھی مہاجر اپنے آپ کو دوسرے درجے کا شہری تصور کرتے ہیں، حالانکہ انہیں ایم کیو ایم کے ان ادوار میں جن میں وہ حکومتوں کی اتحادی بھی رہی ہے، امتیازی سلوک ہی عام مہاجر کے حصے میں آیا۔ مہاجروں کو نوازنے کا ایم کیو ایم کا پیمانہ بھی ایسا رہا، جس سے عام مہاجر مستفید نہیں ہو سکا اور پھر صرف مہاجر ہی کیا، وسائل سے محروم غریب سندھی بھی امتیازی سلوک کا جگہ جگہ شکار رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بااثر اور موقع پرست لوگ فائدے اٹھاتے رہے۔ امتیازی سلوک کے شکار لوگوں کو متحد ہی نہیں ہونے دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اِسی طرح کی دھکوں بھری زندگی گزارتے گزارتے اپنا اپنا وقت پورا کر لیتے ہیں۔

پاکستان جن حالات سے علاقائی طور پر دوچار ہے،عسکری ادارے خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں حالات کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں، اس کے پیش نظر سیاست دانوں کو اپنے تحفظات کا اظہار ایسے نپے تلے الفاظ میں کرنا چاہئے جو سرحدوں کے پار یہ تاثر نہ پھیلائے کہ قوم آپس میں ہی دست و گریبان ہے، چلو کچھ اور بھی کر لیتے ہیں۔ الفاظ کے غیر محتاط استعمال میں سب ہی کچھ نہ بگڑ جائے۔ کیا کیجئے اس مُلک میں ذرائع ابلاغ، خصوصا ٹیلی ویژن چینل جس قسم کی صحافت کو فروغ دے رہے ہیں وہ ذمہ داران کے لئے توجہ طلب ہے۔ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان معاہدے کو وہ جگہ نہیں ملتی، جو حالیہ دنوں میں تین خواتین کو دی گئی۔ ایان علی، تنویر زمانی اور ر یحام خان سے منسلک کہانیاں تین خواتین اور تین کہانیاں لکھنے والوں کے لئے تو بہترین چٹخارے دار موضوع ہو سکتا تھا، لیکن ذرائع ابلاغ پر اس کی تشہیر غیر مناسب سی تھی۔اس تماش گاہ میں سیاست اور صحافت کے ساتھ ساتھ سب ہی چیزوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -