’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں‘‘

’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں‘‘
’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں‘‘

  

بیگم مہناز رفیع کو ممتاز صحافی مجید نظامی مرحوم ایک نظریاتی اور با اصول سیاست دان کہا کرتے تھے۔ مہناز رفیع کے والد گرامی چودھری محمد رفیع (پرانے مسلم لیگی لیڈر) تحریک پاکستان کے عظیم لیڈر نواب بہادر یار جنگ کے قریبی ساتھی تھے۔ اپنے والد کی سیاسی تربیت کی وجہ سے مہناز رفیع نے اپنی 36 سالہ بھرپور سیاسی زندگی میں قائد اعظم اور علامہ محمد اقبالؒ کو اپنا رول ماڈل سمجھا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اس پاکستان کی تلاش میں گزار دی جس پاکستان کو قائد اعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے خوابوں کی عملی تفسیر قرار دیا جا سکتا ہو۔

بیگم مہناز رفیع نے سیاست میں سچ بولنے اور اس سچ کی خاطر قربانیاں دینے اور جیلوں کی تکالیف برداشت کرنے کا مشکل راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اس منافقانہ سیاست کا حصہ بننے سے ہمیشہ انکار کر دیا جس منافقانہ سیاست کا ہمارے ملک میں عام رواج ہے۔ بیگم مہناز رفیع کا یہ کہنا ہے کہ حالات اُس وقت تک کیسے تبدیل ہو سکتے ہیں جب تک ہمارے ملک کے بڑے بڑے سیاست دان جھوٹ اور منافقت کی سیاست کے علمبردار ہوں۔ جہاں لیڈر عوام کو بے وقوف بنانے کے عمل کو اپنا فن سمجھتے ہوں اور جہاں سیاست دانوں کا عمل ہمیشہ اپنے نعروں، وعدوں اور تقاریر کے برعکس ہو وہاں قوم کی قسمت میں اچھے ایام کیسے آ سکتے ہیں۔ مہناز رفیع کا یہ بھی دکھ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے پاکستان کو بے پناہ وسائل دے رکھے ہیں لیکن دیانت دار، مخلص اور محب وطن قیادت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں آج بھی سیاست سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کی لونڈی بنی ہوئی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ چند مخصوص سیاسی خاندان تو پاکستان کی دولت پر قابض ہیں مگر وطنِ عزیز کے غریب عوام کی حالت 68 سالوں کے بعد بھی نہیں بدلی۔ بیگم مہناز رفیع کہتی ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں نہ تو اللہ کا خوف ہے اور نہ ہی اس بات کا احساس کہ اُن کا تعلق اللہ کے اُس آخری نبیؐ کی امت سے ہے جو دُنیا میں معاشی مساوات اور معاشرتی انصاف کا مکمل نظام لے کر آئے تھے۔ ہمارے حکمرانوں کو قصر صدارت اور وزیر اعظم ہاؤس کے ساتھ ساتھ پارلیمینٹ کے ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کی تو فکر ہے لیکن اس غریب عوام سے ان حکمرانوں کے دل میں معمولی ہمدردی بھی نہیں جن کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں اور جن والدین کے کروڑوں بچے بنیادی تعلیمی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ بیگم مہناز رفیع نے اپنی کتاب ’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں‘‘ میں یہ سوال بھی اُٹھایا ہے کہ ہمارے عظیم پیغمبر حضرت محمدؐ نے دعا کی تھی کہ اے اللہ ’’مَیں غریبوں میں رہا ہوں اور مجھے غریبوں میں ہی اُٹھانا۔‘‘ ہمارے جو حکمران غریب عوام کے پینے کے لئے پانی بھی فراہم نہیں کر سکتے اور اپنی پُر تعیش زندگی پر کروڑوں روپے ضائع کر دیتے ہیں وہ قیامت کے دن نبی پاکؐ کی نگاہوں کا سامنا کیسے کریں گے؟مہناز رفیع نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان میں امیر طبقہ امیر تر اور غریب عوام غریب تر ہونے کی وجہ سیاست میں انتہا درجے کی کرپشن اور بدعنوانی ہے۔

پاکستان تو اس نظامِ حیات کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا جس نظام میں سب انسان برابر سمجھے جاتے ہیں اور سارے انسانوں کے لئے یکساں ترقی کرنے کے مواقع ہوتے ہیں لیکن قائد اعظمؒ ، لیاقت علی خاں اور سہروردی جیسے سیاست دانوں کے بعد خود غرض سیاست دانوں نے پاکستان کے اساسی نظریئے کو فراموش کر دیا اور جس ملک کو قائداعظمؒ کے تصورات کے مطابق ایک جدید اسلامی اور فلاحی ریاست بننا تھا وہ ملک دولت کی ہوس میں مبتلا سیاست دانوں نے اُجاڑ کر رکھ دیا ہے۔

مہناز رفیع نے اگرچہ کتاب کی صورت میں اپنی سیاسی آپ بیتی تحریر کی ہے لیکن انہوں نے پاکستان کے وہ تمام سیاسی حالات اور واقعات بھی بیان کئے ہیں جن کا گزشتہ 36 سال میں انہوں نے براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔ مہناز رفیع نے اپنی کتاب میں جس سیاست دان کی سب سے زیادہ تعریف کی ہے وہ ایئرمارشل محمد اصغر خاں ہیں اور جس سیاست دان پر سب سے زیادہ تنقید کی ہے وہ محمد نوازشریف ہیں۔ مہناز رفیع کا موقف یہ ہے کہ نوازشریف نے پاکستان میں سے اصولوں اور نظریات کی سیاست کو ختم کر دیا ہے۔ نوازشریف نے ہی سیاست میں دولت کے استعمال کو متعارف کروایا۔ سیاسی کارکنوں اور عام ووٹرز کو دولت سے خریدنے کی رسمِ بد کی بنیاد نوازشریف نے رکھی ہے۔ ان کی سیاست میں آمد کا مقصد ایک ہی ہے کہ دھن دولت خرچ کر کے اقتدار میں آؤ اور اقتدار میں آکر اندھا دھند دولت جمع کرو۔

بیگم مہناز رفیع نے نوازشریف کو فطری طور پر خوشامد پسند قرار دیا ہے۔ نوازشریف صرف چاپلوسی اور خوشامدی لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور کام کرنے والے مخلص سیاسی کارکنوں کو وہ کبھی اہمیت نہیں دیتے۔

بیگم مہناز رفیع نے یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے لئے مشکل حالات میں بڑی قربانیاں دیں لیکن جب سینٹ کے لئے انہوں نے اپنی جماعت کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی تو اُنہیں نظر انداز کر کے سپریم کورٹ کے دو سابق ججوں کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ دے دیا گیا۔ جن کی پارٹی کے لئے کوئی خدمات نہیں تھیں۔

مہناز رفیع نے نوازشریف کو آمرانہ سوچ رکھنے والے سیاست دان کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف میں کلی اقتدار اور اختیارات حاصل کرنے کی اتنی ہوس تھی کہ وہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے خود کو پاکستان کا امیر المومنین بنانا چاہتے تھے اور پارلیمینٹ کی بالا دستی کو ختم کر دینا چاہتے تھے لیکن پارٹی کے ارکانِ اسمبلی نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ نوازشریف کا ملک کے آئین کا چہرہ مسخ کر کے خود کو امیر المومنین بنانے کا خواب پورا نہ ہونے دینے میں سب سے اہم کردار خورشید محمود قصوری نے ادا کیا تھا۔

محترمہ مہناز رفیع نے نوازشریف پر احسان فراموشی اور طوطا چشمی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ انہوں نے میاں محمد اظہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے خاندان پر میاں محمد اظہر اور ان کے بڑے بھائی کے بہت احسانات تھے لیکن نوازشریف کی طرف سے جو سلوک میاں اظہر سے کیا گیا اور جس طرح ان کو پارٹی سے نکالا گیا یہ انتہائی افسوسناک واقعہ تھا۔ مہناز رفیع نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے کہ چودھری شجاعت حسین سمیت جس کسی نے بھی نوازشریف پر احسان کیا ہے اور ان کے فائدے کے لئے کوئی کام کیا ہے، نوازشریف نے اُس کو نقصان ضرور پہنچایا ہے۔ مہناز رفیع نے اپنی کتاب میں بزرگ سیاست دان نوابزادہ نصراللہ خاں کے ایک تاریخی بیان کا حوالہ بھی دیا ہے جو انہوں نے نوازشریف کے بارے میں دیا تھا۔ جب پرویز مشرف کے ساتھ باقاعدہ ایک معاہدہ کر کے نوازشریف اپنے خاندان سمیت سعودی عرب چلے گئے تھے تو نوابزادہ نصراللہ خاں نے کہا تھا کہ ’’میری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ مَیں نے ایک تاجر کو سیاست دان سمجھ لیا تھا۔‘‘

اپنے حوالے سے سچ سننا اگرچہ بہت مشکل کام ہے۔ لیکن ہم پھر بھی نوازشریف صاحب کو یہ مشورہ دیں گے کہ وہ مہناز رفیع کی یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ ہو سکتا ہے کہ جب ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ نوازشریف ایک مخلص سیاست دان مہناز رفیع کی اس کتاب کا مطالعہ کریں گے تو کچھ مثبت باتیں ان کے دل میں بھی اُتر جائیں جو مستقبل میں ان کے لئے بہت مفید ثابت ہوں۔

مزید :

کالم -