ایران ڈیل سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا: براک اوباما

ایران ڈیل سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا: براک اوباما
ایران ڈیل سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا: براک اوباما

  

واشنگٹن (اے این این) امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے سے مشرق وسطی میں نئی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے،معاہدے کے بغیر مشرق وسطی میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کے بہت زیادہ خطرات ہوں گے۔

وائٹ ہاﺅس میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ طے نہیں پاتا تو مشرق وسطی میں مزید جنگوں کے خطرات منڈلاتے رہیں گے،اس کے بغیرجوہری اسلحے کی دوڑ شروع ہونے کے بھی امکانات برقرار رہتے اور ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے قریب پہنچ جاتا۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس ڈیل کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے کیونکہ ہماری زندگی میں یہ موقع شاید دوبارہ نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ اس ڈیل سے ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو جاری رکھنے کے تمام راستے مسدود کردیے گئے ہیں۔امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر معاہدے کے حوالے سے خطے میں اپنے اتحادیوں سعودی عرب اور اسرائیل کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے اور انھوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے اس ضمن میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ڈیل کے بغیر عالمی پابندیاں بھی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوں گی۔

اس ڈیل کے ذریعے ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو درپیش ایک بڑے خطرے کو پرامن طریقے سے ٹال دیا ہے''۔صدر اوباما نے واضح کیا کہ اس ڈیل کے باوجود ایران کے ساتھ اس کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور مشرق وسطی کے بعض حصوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے گماشتہ تنظیموں کو استعمال کرنے کے معاملے پر ہمارے اختلافات برقرار رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ''ایران اب بھی ہمارے مفادات اور اقدار کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔امریکا کے یہ قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ ایران کو لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور یمن کی حوثی ملیشیا کو اسلحہ بھیجنے سے روکا جائے''۔

مزید :

بین الاقوامی -