بے داغ جمہوریت کی ضرورت

بے داغ جمہوریت کی ضرورت
 بے داغ جمہوریت کی ضرورت

  

جدید دنیا میں سب سے بڑا تنازعہ سمجھا جانے والا ایران کا ایٹمی پروگرام بھی بالآخر طے پا گیا۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک ایسا معاہدہ طے پایا ہے کہ جس میں سبھی اپنی اپنی فتح محسوس کر رہے ہیں ایران کو ایٹمی طاقت کا اسٹیٹس مل گیا اور امریکہ کو یہ ضمانت کہ ایران کی یہ طاقت ایٹمی اسلحہ کے پھیلاؤ کا باعث نہیں بنے گی۔ سوائے اسرائیل کے باقی ساری دنیا نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اس سے دنیا میں سال ہا سال سے موجود کشیدگی کی فضاء اور پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے، ایران پر پابندیوں کی وجہ سے نہ صرف اس کے معاشی حالات خراب تھے بلکہ اس سے جڑی ہوئی سرحدوں والے ممالک بھی ایران سے تجارت نہیں کر سکتے تھے۔ خود ہمارے ہاں اربوں روپے کا ایرانی تیل سمگل ہو کر آتا تھا اور ہمارا ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ بھی اسی وجہ سے امریکہ کی نگاہ میں کھٹک رہا تھا۔ اب امید ہے کہ اس معاہدے کے بعد صورتحال بہتر ہو جائے گی اور خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ میرا آج کالم لکھنے کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے معاہدے کا جائزہ لینا نہیں بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ جب دنیا بدل رہی ہے تو ہم کیوں نہیں بدل رہے۔ ہم کیوں کولہو کے بیل بنے ہوئے ہیں اور کئی دہائیوں سے اپنے مسائل کے گرداب میں اُلجھ کر رہ گئے ہیں۔ نہ اپنی سیاست کو درست کر سکے ہیں اور نہ معیشت کو نہ اپنے مذہبی معاملات کو کوئی ضابطہ پہنا سکے ہیں اور نہ ہی یہ طے کر سکے ہیں کہ ایک وفاقی اکائیوں کے حامل ملک کو کیسے چلانا ہے۔ انتشار کی ایک گہری صورت ہمیں اپنے چاروں طرف پھیلی نظر آتی ہے۔ کیا بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں ہم ایک نیا عمرانی معاہدہ کر کے اپنے تمام توجہ طلب اور دیرینہ مسائل حل نہیں کر سکتے، کیا اسی طرح فروعی مباحث اور ادارہ جاتی کشیدگی میں اُلجھ کر ہم اپنا وقت ضائع کرتے رہیں گے۔

کہنے کو ہم ایک متفقہ آئین کے وارث ہیں مگر خدا لگتی کہئے کوئی ایک شعبہ بھی ایسا ہے جسے ہم قانون اور آئین کے مطابق چلا رہے ہوں کیا یہ المناک صورتِ حال نہیں کہ ہر ادارہ یہاں آئین کی اپنی تعبیر پیش کرتا ہے اور آئین میں آئینی تنازعات کا جو فورم یعنی سپریم کورٹ ہے اس کے فیصلوں میں بھی اپنی پسند کی راہ نکال لیتے ہیں آج ہی سپریم کورٹ نے نیب سے کہا ہے کہ اگر اس کا کام بھی سپریم کورٹ نے کرنا ہے تو نیب کے دفاتر کو آج ہی تالے لگوا دیئے جائیں کیا یہ شرمناک صورتحال نہیں کہ نیب جیسا آئینی ادارہ بھی اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ 14, 14 سال سے کیسوں کو دبائے رکھتا ہے اور اپنی آئینی حیثیت کا ناجائز فائدہ اُٹھاتا ہے ہم تو 68 برسوں میں ابھی تک یہ ہی طے نہیں کر سکے کہ کرپشن کو ملک سے کیسے ختم کرنا ہے ادارے پر ادارے بناتے چلے گئے مگر کسی کو بھی آزادی سے کام نہیں کرنے دیا۔ رہی سہی کسر اُن لوگوں کی نا اہلی نے پوری کر دی جو اس کام پر متعین کئے گئے۔ انہوں نے فرض ادا کرنے کی بجائے ملازمتی فوائد اور ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی ترجیح بنائے رکھا۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ مالی کرپشن ہے۔ دہشت گردی کو بڑا مسئلہ کہنے والے بھی بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک دہشت گردوں کو ناجائز دولت سے فنڈنگ نہ کی جائے دہشت گردی پنپ نہیں سکتی۔ کراچی میں جب اس ذریعے کو بند کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری جیسے واقعات میں نمایاں کمی آ گئی۔ اس حقیقت کو مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ ہماری حکومتوں کی ترجیح میں کبھی مالی کرپشن کا احتساب نہیں رہا، کیونکہ وہ خود اس میں ملوث رہی ہیں ان کے اس ضمن میں منفی کردار نے ہمارے پورے نظام کو گدلا کر دیا۔ ریاستی مشینری، عدالتیں، سیاست، معاشرت گویا ہر جگہ دولت اہمیت اختیار کر گئی، اصول، قانون، ضابطے اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

اب آپ غور کریں کہ ایک ایسا ملک جس کے داخلی اور خارجی مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے گئے ہوں، وہ ایک مضبوط اور مستحکم ملک کیسے بن سکتا ہے۔ ہمیں بھارت جیسا دائمی دشمن ملا ہے، جو ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اس نے ہمارے داخلی کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا کر یہاں اپنے ایجنٹ بنائے اور ان کے ذریعے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ وہ مسلسل ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے، اس کا اندازہ اس جاسوس طیارے سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جسے پاک فوج کے جوانوں نے بھمبر کے مقام پر گرا دیا۔ ہمیں نہ صرف بھارت کے ساتھ اپنی سرحدوں پر چوکنا رہنا پڑ رہا ہے، بلکہ افغانستان اور ایران کے بارڈر بھی ہمارے لئے بڑی اہمیت اختیارکر گئے ہیں، کیونکہ اسی بھارت کے عزائم وہاں بھی کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھارت کی موجودگی میں ہم مسلسل حالتِ جنگ میں ہیں، کیونکہ اس سے کسی وقت بھی کچھ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ اب ایک ایسا ملک جو مسلسل حالتِ جنگ میں ہو کیا اس قسم کے لولے لنگڑے سیاسی نظام کا متحمل ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اس وقت ہمارا ہے۔سیاسی نظام ہر اچھے فیصلے کی راہ میں رکاوٹ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا سوال اٹھا تو سیاستدان ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے۔ بڑی مشکل سے انہیں فوجی قیادت نے ایک نکتے پر اکٹھا کیا۔ دہشت گردی سے جڑی کرپشن کو ختم کرنے کی نوبت آئی تو سیاسی قوتیں پھر آپریشن کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آ گئیں۔ اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دی گئیں اور امن کے لئے کام کرنے والوں کو بدمعاش اور ڈان کے خطابات دیئے گئے۔ سارے فیصلے فوج نے ہی نہیں کرنے، ریاست نے بھی تو کچھ کرنا ہے۔ الطاف حسین کی تقریر پر جگہ جگہ ایف آئی آر دج کرانے کی بے نتیجہ اور بے مقصدمشق کی بجائے کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ فوراً اس مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جاتی اور اس بارے میں کوئی سیاسی فیصلہ کیا جاتا۔ اس کانفرنس میں دہشت گردی اور سیاست کے درمیان لکیر کھینچ دی جاتی،مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور رینجرز کو تنہا چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنے آپریشن کا خود دفاع کرے۔ ہماری سیاسی قیادت کی یہ وہی نااہلی ہے،جس نے ہمارے پورے نظام کو بُرے حال تک پہنچایا ہوا۔

آپ ایرانی قیادت کو دیکھیں، اس نے جب تک اپنے موقف پر قائم رہنا تھا رہی، پوری قوم اس موقف میں اس کے ساتھ تھی، کیونکہ عوام اس پر بھروسہ رکھتے تھے۔جب قیادت نے محسوس کیا کہ اب قومی مفاد کے لئے کچھ پیچھے ہٹنا ہے تو وہ ہٹ گئی اور اس موقع پر بھی عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ ہوتی ہے قومی ہم آہنگی، ہم پاکستان میں اس قدر بے اعتمادی کا شکار ہیں کہ حکومت اپنا کوئی ایک فیصلہ بھی تمام سیاسی قوتوں اور قوم سے نہیں منوا سکتی۔ اعتماد کا یہ بحران ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اس بحران کی وجہ سے ہمارے ہاں مسائل سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے گئے ہیں۔ بروقت فیصلوں کی جرات نہ ہونے کے باعث جب بے وقت کی راگنی الاپی گئی تو ہمیشہ پہلے سے زیادہ صورت حال سنگین ہوگئی۔ جب تک ہم اپنے نظام میں شفافیت نہیں لائیں گے۔ حالات ٹھیک نہیں ہوں گے، جہاں ماضی کے حکمرانوں سمیت موجودہ حکمران بھی میگا کرپشن کیسوں میں ملوث ہوں اور ان کے بارے میں نیب سپریم کورٹ میں تفصیلات بھی پیش کر دیتا ہو تو حکمرانوں کو وضاحتیں زیادہ کرنی پڑتی ہیں اور فیصلے کم ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں معدودے چند ممالک ہی ایسے ہیں، جہاں حقیقی جمہوریت ہو اور انتخابی عمل پر سوالیہ نشانات بھی اٹھتے ہوں۔ کوئی پاکستان جیسا بڑا ملک جس کی آبادی بیس کروڑ ہو اور جس کے پاس ایک متفقہ آئین، منظم فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا مضبوط نظام موجود ہو، ایسا نہیں کہ جہاں نظام انتخابات کو اس طرح بچوں کا کھیل سمجھا جاتا ہو، جیسا ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے۔ جمہوریت کی خشتِ اول کو ہی ہم درست نہیں کرسکے، آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں۔ انتخابات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کی انکوائری کے دوران جو حقائق سامنے آئے ہیں، کیا انہیں سامنے رکھ کر ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہمارا الیکشن کمیشن صاف شفاف انتخابات کرانے کا اہل ہے۔ جہاں انگوٹھوں کے نشانات سے لے کر بیلٹ پیپرز کے حساب کتاب کا کوئی نظام نہ ہو، وہاں ہم بیس کروڑ آبادی کے ملک میں جمہوریت کو مضبوط کیسے بنا سکتے ہیں۔ جمہوریت کا مضبوط ہونا تو بنیادی تقاضا ہے، جب تک یہ مضبوط نہیں ہوگی، کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اگر چوردروازے سے وہ لوگ اسمبلیوں میں آتے ہیں جو اپنا مخصوص ایجنڈا رکھتے ہیں تو ہماری حالت کولہو کے بیل جیسی ہی رہے گی۔ دنیا بدل رہی ہے اور اب ہمیں بھی بدلنا چاہیے۔ ایران کو ان کی بے داغ جمہوریت نے مضبوط کیا، آج ہمیں بھی ایسی ہی جمہوریت کی ضرورت ہے ، کیا ہماری سیاسی قیادت اس امید پر پورااترے گی؟

مزید :

کالم -