لوڈشیڈنگ کے بارے میں خواجہ آصف کا اعلان

لوڈشیڈنگ کے بارے میں خواجہ آصف کا اعلان

  

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے قوم کو دلاسہ دیا ہے کہ عید کے دِنوں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، وزیر موصوف کی وزارت اور خود ان کے توسط سے وزیراعظم نے اعلان کر دیا کہ رمضان المبارک میں سحری اور افطاری کے وقت لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ مُلک بھر کے عوام گواہ ہیں کہ پورے رمضان المبارک میں کیا حشر ہوا اور شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کا عالم کیا تھا۔ وزیر موصوف کو اب بھی اعلان کرتے وقت غور کر لینا چاہئے تھا،کیونکہ ان کا یہ اعلان اس بنیاد پر ہے کہ عید کی چھٹیوں کے باعث کاروبار، صنعتی ادارے اور دفاتر بند ہوں گے، تو بجلی کا استعمال کم ہو جائے گا۔ یوں لوڈشیڈنگ کی ضرورت نہیں رہے گی۔سرکاری چھٹیوں سے ایک روز پہلے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا یہ عالم تھا کہ شہروں میں8 اور دیہات میں12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سرکاری اعلان تھا، جبکہ عملی صورت اس سے بد تر تھی،حتیٰ کہ بجلی کی ٹرپنگ کے واقعات اتنی کثرت سے ہوئے کہ لوگ پسینوں میں نہا گئے۔ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ رمضان المبارک میں اگر دو روز سخت گرم گزرے تو پھر بادل بھی آئے اور مینہ بھی برسا۔ یوں درجہ حرارت بھی کم ہوا اور اکثر ہَوا بھی چلتی رہی اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کم ہوئی نہ ٹرپنگ بند ہوئی، مختلف علاقے نقائص کے باعث کئی کئی گھنٹے بند ہوتے رہے ہیں۔خواجہ آصف تو تجربہ کار ہیں اور وہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف رٹ میں درخواست دہندہ بھی تھے، ان کو تمام حقائق کا علم ہونا چاہئے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب گرمی تھی، مون سون کی بارشیں نہیں ہوئی تھیں، ڈیموں سے پانی کا اخراج کم اور ٹربائنیں کم چل رہی تھیں۔ یوں پن بجلی کی پیداوار کم تھی اور لوڈشیڈنگ کے اوقات یہی تھے۔ اب بارشوں کے بعد ڈیم ہی نہیں بھرے، بلکہ دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت ہے اور یوں پن بجلی کی پیداوار بڑھ گئی ہے، جبکہ بقول عابد شیر علی نندی پور سے بھی 425 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو گئی، تو پھر بھی لوڈشیڈنگ کا عالم وہی ہے۔ اس کا بھی کوئی جواب خواجہ صاحب کے پاس ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کا فائدہ عوام کو کیوں نہیں پہنچا؟جہاں تک عید پر لوڈشیڈنگ نہ ہونے کا تعلق ہے تو یہ بھی مفروضہ ہے یہ کم ہو سکتی ہے ختم نہیں ہو گی چاہے اس کے لئے ٹرپنگ اور بجلی کی خرابی کا عذر تراشا جائے، کیونکہ دفتر اور کاروبار بند ہوں گے تو مارکیٹیں اور ریستوران کھلے ہوں گے، جہاں برقی رو کا استعمال وافر ہوتا ہے، پھر لوگ گھروں میں ہوں گے تو ایئر کنڈیشنر بھی زیادہ چلیں گے اس لئے استعمال میں کمی اتنی نہیں ہو گی کہ ضرورت پوری ہو جائے گی۔ بہتر ہو گا کہ تھرمل سے حاصل ہونے والی بجلی لینا بند نہ کی جائے ورنہ حالت بری ہی رہے گی۔ وزیر موصوف کو اعلان کرنے سے پہلے سارے اعداد و شمار حاصل کرنا چاہئے تھے اور حقیقت کے مطابق بیان دینا چاہئے تھا۔

مزید :

اداریہ -