بھارتی جاسوس طیارہ پاکستانی حدود میں

بھارتی جاسوس طیارہ پاکستانی حدود میں

  

پاک فوج نے آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بھمبر کے مقام پر بھارت کا جاسوسی کرنے والا ڈورن طیارہ مار گرایا۔آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق مذکورہ ڈورن بدھ کو لائن آف کنٹرول کے علاقے میں پرواز کر رہا تھا۔ اس نے ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کی۔ ڈرون طیارہ چھمب سیکٹر سے10کلو میٹر تک پاکستانی حدود میں گھس آیاتھا، جس کو افتخار آباد سیکٹر میں مار گرایا گیا،جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والے اس طرح کے ڈرون عموماً بلندی سے تصاویر لینے کے لئے استعمال ہوتے ہیں،پاک فوج کے مطابق طیارے میں کیمرہ لگا ہوا تھا، جس سے پاکستانی علاقے میں جاسوسی کی جا رہی تھی اور تصاویر بھی لی جا رہی تھیں۔ مار گرائے جانے والے طیارے کی تصاویر بھی میڈیا کو جاری کی گئیں، لیکن اس کے باوجود بھارتی فوج کے ترجمان ڈرون طیارے کی موجودگی کی تردید کرتے رہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی کئی بار بھارتی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور گزشتہ چند ماہ کے دوران لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی میں اضافہ بھی ہوا۔ گزشتہ روز بھی بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔ بھارتی ہائی کمشنر کو وزارتِ خارجہ میں طلب کر کے صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔بھارتی ہائی کمشنر ٹی سی راگھون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھارتی ڈرون کے پاکستان میں گرائے جانے کا علم نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اوفا میں پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات سے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ خطے میں امن اور ترقی سب کی ذمہ داری ہے، آزاد کشمیر میں پیش آنے والا کوئی بھی واقعہ قابل تشویش ہے۔

بھارت کا یہ پرانا وطیرہ ہے ، جب بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کی کوئی صورت نظر آتی ہے، وہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر گزرتا ہے، جس سے تلخی بڑھ جا تی ہے۔ مئی 2014ء میں بھارت کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف کو مدعو کیا گیا تھا، نواز شریف بھی کھلے دل سے تحائف لے کر وہاں پہنچے، لگا کہ نئی حکومت امن پسندی کا ثبوت دے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کی کشمیری لیڈروں سے ملاقات کو وجہ بنا کر خارجہ سیکرٹری سطح پر ہونے والے مذاکرات منقطع کر دیئے گئے، یوں بات چیت کا دروازہ بند ہو گیا۔ یہی نہیں، بلکہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پرسارے معاہدے بالائے طاق رکھتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے ستمبر میں جنرل اسمبلی میں کشمیر کا معاملہ اٹھایا تو بھارت سے وہ بھی برداشت نہیں ہوا ۔ گزشتہ سال ہی اکتوبر میں کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کا آمنا سامنا ضرور ہوا، لیکن باقاعدہ بات چیت نہیں ہوئی۔ نواز شریف نے اس وقت واضح کیا تھا چونکہ مذاکرات بھارت نے منقطع کئے تھے اس لئے دوبارہ شروع کرنے کی ذمہ داری بھی اِسی کی ہے۔ اس کے بعد بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر گولہ باری کا سلسلہ شدید تر ہوتا گیا۔ پھر نریندر مودی نے ’’پہل‘‘ کرتے ہوئے نواز شریف کو فون کر کے کرکٹ ورلڈ کپ سے پہلے ’’شبھ کامنائیں‘‘ دیں اور اپنے سیکرٹری خارجہ کو پاکستان بھیجنے کا وعدہ بھی کیا، سیکرٹری خارجہ پاکستان آئے بھی، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

چند ہی روز پہلے روس کے شہر اوفا میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقا ت ہوئی، مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوا۔ دونوں ممالک کے رہنما متفق تھے کہ جامع مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کی سخت مذمت کی،وزرائے اعظم نے اتفاق کیا کہ امن کو یقینی بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ترقی کو فروغ دینا پاکستان اور بھارت کی مشترکہ ذمہ داری ہے،دونوں ممالک نے تمام تنازعات پر بات چیت کے لئے تیاری کا عندیہ بھی دیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے نریندر مودی کو اگلے سال پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جسے بھارتی وزیراعظم نے قبول کر لیا۔ اس اعلامیے میں مسئلہ کشمیر کا نام لے کر ذکر نہیں کیا گیا تھا، اس پر پاکستان میں سخت تنقید ہوئی۔کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے بھی اس پر احتجاج کرتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کی عید ملن پارٹی میں شرکت سے معذرت کر لی، لیکن حکومتی حلقوں میں برف پگھلنے کی امید کی جا رہی تھی۔بھارت کے پاکستانی حدود میں جاسوس طیارہ بھیجنے کے بعد فضا میں ایک اور تلخی گھل گئی۔

ایک طرف تو بھارت تعلقات بہتر بنانے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف اس قسم کی ’’شرارتیں‘‘ کرتا ہے۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے بین الاقوامی دباؤ پر دُنیا کو دکھانے کے لئے ملاقات کا پیغام بھجوایا، یا یوں کہا جائے کہ جب بھارتی حکام کو احساس ہوا کہ بھارتی وزیراعظم کا 1971ء میں پاکستان کی تقسیم سے متعلق دن دیہاڑے ’’اعترافِ جرم‘‘ ان کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے، پاکستان کے پاس دہشت گردی میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے شواہد بھی ہیں اور ان کی بنیاد پر وہ بین الاقوامی سطح پر آواز اُٹھا سکتا ہے تو انہوں نے فوراً مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات حل کرنے کا ’’لالچ‘‘ دے دیا۔ دو طرفہ تعلقات میں بنیادی شرط خلوص نیت ہے، اس کے بغیر ہر قدم بے معنی ہے۔پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے، پاک فوج نے ثابت کر دیا کہ وہ ہر دم چوکس ہے،اگر کوئی نقب لگائے گا تو مُنہ کی کھائے گا۔یہ وقت تلخیاں بڑھانے کا نہیں ہے، بلکہ بات چیت کا جو دور چلا ہے اسے جاری رکھنے کا ہے۔اگر ایران، امریکہ اور دوسری عالمی طاقتوں کے مابین جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا معاہدہ طے پا سکتا ہے،ایران اور امریکہ دہائیوں پر محیط اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کرآگے بڑھ سکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت دو طرفہ تعلقات کی بنیاد کیوں نہیں رکھ سکتے؟ بھارت کوچاہئے کہ وہ اپنے اندر مفاہمت کا جذبہ پیدا کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تمام متنازعہ امور پر بامعنی بات چیت ممکن ہو سکے۔

مزید :

اداریہ -