جوہری معاہدہ، ایران کے 100سے 120ارب ڈالر کے اثاثے بحال ہوں گے

جوہری معاہدہ، ایران کے 100سے 120ارب ڈالر کے اثاثے بحال ہوں گے
جوہری معاہدہ، ایران کے 100سے 120ارب ڈالر کے اثاثے بحال ہوں گے

  

تہران(اے این این)ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے بعد تہران کے 100سے 120ارب ڈالر کے اثاثے بحال ہوجائیں گے،پابندیوں کی وجہ سے صرف ایران کے مرکزی بنک کے منجمد ہونے والے اثاثوں کی مالیت ایک کھرب ڈالر تھی۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث عالمی برادری کی جانب سے تہران پر عاید پابندیوں کے نتیجے میں ایران کو اربوں ڈالر کے زرمبادلہ سے محروم ہونا پڑا تھا۔

اگرچہ منجمد ہونے والے کل اثاثوں کے درست اعداد وشمار سامنے نہیں آسکے ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق گرپ چھ اور ایران کے درمیان ویانا میں طے پائے معاہدے کے بعد تہران کے 100 سے 120 ارب ڈالر کے اثاثے بحال ہوجائیں گے۔ پابندیوں کی وجہ سے صرف ایران کے مرکزی بنک کےمنجمد ہونے والے اثاثوں کی مالیت ایک کھرب ڈالر تھی۔ مرکزی بنک کے چیئرمین ولی اللہ سیف نے بھی مذکورہ اعدادوشمار مسترد کردیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے پانچ اور چھ ماہ کے دوران مرکزی بنک کے 29 ارب ڈالر بحال ہوں گے۔

ان میں 23 ارب ڈالر جاپان، کوریا اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بحال کیے جائیں گے جب کہ پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد چھ ارب ڈالر بھارت میں منجمد اثاثے بھی تہران کو مل جائیں گے۔ایرانی وزیر اقتصادیات نے بھی ذرائع ابلاغ میں منجمد اثاثوں کی مالیت جو کہ 120 ارب ڈالر بتائی گئی ہے کہ صحت سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے تیل کے شعبے میں منجمد اثاثوں کی مالیت 35 ارب ڈالر ہے جب کہ 22 ارب ڈالر مالیاتی دستاویزات کے تحت چین میں بند ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق مرکزی بنک اور تیل کی مد میں حاصل ہونے والے 86 ارب ڈالر منجمد ہیں۔ جہاں تک 100 ارب ڈالر کے اعدادو شمار کا تعلق ہے تو وہ سنہ 2006 کے بعد سے منجمد ہونے والے کل اثاثوں کے ہیں۔ایران اور گروپ چھ کے درمیان نومبر 2013 میں جنیو میں طے پائے معاہدے کے تحت ایران کے 4.2 ارب ڈالرکے اثاثے پہلے مرحلے پر بحال کیے گئے تھے جب کہ دوسرے مرحلے پر مزید 2.8 ارب ڈالر کی رقم واگزار کی گئی۔اس کے علاوہ رواں سال 2 اپریل کولوزان میں طے پائے معاہدے کے بعد ایران کے 700 ملین ڈالر کے اثاثے بحال ہوگئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت اب تک مجموعی طور پر 2.8 ارب ڈالر کی رقم واگزار کی جا چکی ہے۔جنیوا معاہدے کے تحت ایران کی قیمتی معدنیات بالخصوص سونے کی درآمدات وبرآمدات پر بھی پابندی ختم کردی گئی تھی۔

پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران منجمد کیے گئے 13 ٹن سونے کے ذخائر واگزار کیے گئے تھے۔ سونے کی یہ مقدار 30 جون کو ایران کے مرکزی بنک کے خزانے میں جمع کرائی گئی۔ایران کے قومی بنک کے چیئرمین نے کہا ہے کہ کہ واگزار ہونے والے سونے کی کل مالیت 700 ملین ڈالر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے پچھلے دو سال میں 08 ٹن سونا 400 ملین ڈالر کی رقم کے بدلے میں خریدا ہے۔مذکورہ تمام اعداد وشمار کو جمع کرنے کے بعد ماہرین یہ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ حال ہی میں ویانا میں طے پائے معاہدے تک ایران کے کل 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -