بلاول بھٹو ابھی نادان ہیں، ان کو مزید تربیت کی ضرورت ہے

بلاول بھٹو ابھی نادان ہیں، ان کو مزید تربیت کی ضرورت ہے

  

پاکستان : آپ اس وقت اچانک پاکستان کیوں آئیں؟ آپ کے آنے کا مقصد کیا ہے ؟ کیا مستقبل میں سیاست میں حصہ لینا چاہتی ہیں؟اور آپ نے اچانک انٹرویوز کی بھرمار کردی ہے؟

تنویر زمانی: جب بھٹو صاحب کی شہادت ہوئی تو ہمارا خاندان جو کہ بھٹو کا شیدائی ہے، اور ہم پیپلز پارٹی سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب ہمارے گھر میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو اذان کے بعد جئے بھٹو کہا جاتا ہے۔ جب بھٹو شہید کو پھانسی دی گئی تو 1979ء میں بہت زیادہ جذباتی ہوگئی ، ہمارے گھر میں پی پی کا ایک جھنڈا ہوتا تھا، میں نے اسے اٹھایا اور ہلاتی ہوئی سڑک پر نکل گئی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ انہیں قتل کرکے پھانسی پر چڑھایا گیا۔ وہ لمحہ میری زندگی کا ایک ایسا لمحہ تھا جو زندگی میں کبھی بھلا نہ سکی، میرے والد نے اس وقت مجھے مشورہ دیا کہ دیکھو تم صرف پڑھائی کی طرف توجہ دو اس وقت سڑکوں پر آنا مناسب نہیں، کیونکہ ابھی تمھاری کوئی بات نہیں سنے گا اور نہ ہی اس پر عمل کرسکے گا۔ تم اتنی تعلیم حاصل کرو کہ آگے چل کر تمھاری بات کو سننے اورماننے والے موجود ہوں ۔ اس وقت مجھے والد صاحب کی یہ بات سمجھ میں آگئی اور میں نے اپنی توجہ تعلیم حاصل کرنے کی طرف مبذول کردی۔ میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، میں نے اسطرف بھرپور توجہ دی کیونکہ سرجیکل کا شعبہ انتہائی مشکل ترین ہے اور اس میں آگے بڑھنا بھی مشکل کام ہے اگر امریکہ والے کسی ڈاکٹر کو اپنی سرجیکل فیلڈ میں لاتے ہیں تو سمجھ لیں کہ وہ اُسے اپنی فوج میں بھرتی کررہے ہیں۔ امریکہ میں پڑھنا لکھنا ایسا ہی ہے جیسے آپ جیل میں ہیں۔ میں نے خود کو وہاں کے ماحول میں ایڈجسٹ کیا۔ میں جب لاڑکانہ آئی تو اس وقت 49 سینٹی گریڈ کے قریب ٹمپریچر تھا ، میں نے روزے کی حالت میں بھٹو کے مزار پر حاضری دی اوردوسرے دن میں نے شہر بھر کے ہسپتالوں کا دورہ کیا ۔

پاکستان: آپ کی تعلیم کا سلسلہ کافی مدت تک چلتا رہا، تو کیا آپ اس دوران پیپلز پارٹی سے منسلک رہیں؟ اور کیا آپ کی محترمہ بینظیر بھٹو سے ملاقات رہی ؟

تنویر زمانی: جب میں سندھ میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھی اور انہو ں نے اس وقت وزیراعظم کی حیثیت سے کالج کا دورہ کیا تھا۔ میں نے اُن کو وہاں دیکھا تھا، لیکن میری نے ان سے ملاقات نہیں ہوئی ۔

پاکستان : کیا یہ آپ کے لیے اہم بات نہیں ہے جب وہ امریکہ کے دورے پر آتی تھیں تو آپ کی ان سے ملاقات کبھی نہیں ہوئی ؟

تنویر زمانی : مجھے افسوس ہے کہ بینظیر صاحبہ اپنے والد کے زمانے کے بچوں سے نہیں مل سکی۔ وہ ہم جیسے جیالوں سے نہیں مل سکیں۔ کیونکہ میں اس وقت آئرلینڈ میں تھی ، 1988 میں بینظیر صاحبہ وزیراعظم پاکستان بنیں تو میں اس وقت بھی تعلیم حاصل کررہی تھی، اس وقت میرا کوئی اسٹیٹس نہیں تھا، لیکن اس کے بعد 1990 میں آئرلینڈ گئی ، میں دن رات اپنے کام میں مشغول رہی اس لیے میری ان سے ملاقات نہیں ہوسکی۔

پاکستان : آپ اس قدر بھٹو سے لگاؤ رکھتی تھیں، لیکن اس کے باوجود آ پ نے اس کے سربراہ سے یابینظیر بھٹو سے ملنے کی کوشش نہیں کی ؟ اس کی کیا وجہ ہے

تنویر زمانی : یہی تو ایک خلاء تھا ، کارکنوں اور رہنماؤں کے درمیان ، میں اس خلاء کو پُر کرنا چاہتی ہوں۔ ان سے میری ذاتی طور پر ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی ، ایک مرتبہ یواین او کے باہر کھڑے ہو کر زرداری صاحب کی رہائی کیلئے مظاہرے کیے۔ ہم لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر آتے تھے اور کئی مرتبہ یواین او کے باہر کھڑے ہو کر اُس وقت مظاہرہ کیاجب انہوں نے اعلان کیا کہ میں پاکستان جاؤں گی ، ہم ہی لوگ وہاں ہوتے تھے اس وقت ۔

پاکستان : کیا بینظیر بھٹو اپنے کارکنوں کو سمجھ نہیں پائیں ؟

تنویر زمانی : وہ سمجھنے کی کوشش تو کرتی تھیں، اس وقت میں انگلینڈ میں تھی جب وہ دبئی میں تھیں، جب وہ نیویارک آئیں تو میں شکاگو میں تھی۔ میں اپنے سرجیکل کی فیلڈ میں مشغول تھی۔ کارکن ان کے لیے جان دینے کو تیار رہتے تھے۔ اور وہ بھی کارکنوں کو بے انتہا پسند کرتی تھیں۔

پاکستان : بینظیر بھٹو کی شہادت تک آپ اس طرح کی کارکن نہیں تھیں، جس طرح آپ بننا چاہتی تھیں۔ 2007ء تک آپ پیپلز پارٹی کے سرکل میں شامل نہیں تھیں؟

تنویر زمانی : میں سرجری کے بعد اسکالر شپ کررہی تھی، ہم نے اسوقت نیویارک میں پیپلز پارٹی کے لئے بہت جدوجہد کی۔ آج جو لوگ جمہوریت کے مزے لوٹ رہے ہیں، اسی کے ثمرا ت ہیں، اور آج بھی پاکستان میں جو جمہوریت چل رہی ہے، اس میں بیرون ممالک کے پاکستانیوں کا بڑا دخل ہے،

پاکستان : آپ کی سرگرمیاں بی بی کی شہادت تک تو نہیں تھی، لیکن اس کے بعد کب ہوئی؟

تنویر زمانی : 23مارچ 2009 کو امریکہ میں پاکستان ایمبسی پہلی مرتبہ گئی تو اُس وقت ہر جگہ لابنگ ہورہی تھی، مجھے شفقت تنویر نے بلایا اور کہا کہ آپ آئیں اور ندیم میر سے ملاقات کریں ۔ اس نے مختلف اخبارات کیلئے کام کیا ہے۔ ندیم میر نے مجھے کہا کہ میں پاکستان میں پی پی کیلئے کام کررہا ہوں، اس نے مجھے پوری روداد سنائی تو میرا دل پھٹ گیا۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کی ملاقات نیویارک کے عہدیداروں سے کراتا ہوں ، جس کے بعد میری کچھ رہنماؤں سے ملاقات ہوئی تو وہ لوگ بڑے حیران ہوئے ، انہوں نے میرے بارے میں کہا کہ یہ ایک ایسی عورت ہے جس کے اندر پیپلز پارٹی رہتی ہے۔ انہوں نے پھر مجھے یوم پاکستان کی تقریب میں مدعو کیا وہاں میں نے تقریر کی جسے لوگوں نے بہت سراہا۔

پاکستان : کیا اس تقریب کے بعد آپ کی زرداری صاحب سے ملاقات ہوچکی تھی؟

تنویر زمانی : میری ان سے 20 سال بعد ملاقات ہوئی جب وہ واشنگٹن آئے تھے۔ ستمبر2008 میں زرداری صاحب آئے تھے تب ہم پاکستانی سفارتخانے میں یوم پاکستان منارہے تھے، جبکہ اس سے پہلے ہم یوم پاکستان سفارتخانے کے باہر مناتے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا۔ اس تقریب کے بعد وہ لوگ مئی 2009 میں واشنگٹن آئے ۔ یہاں پر ایک بات میں واضح کردینا چاہتی ہوں کہ جس خط کی میرے حوالے سے بات کی جارہی ہے وہ دراصل حقانی صاحب نے مجھے ای میل کیا تھا اور کہا تھا کہ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے یہ آپ سب کو فارورڈ کردو۔ جو اس میں باتیں لکھی تھیں، وہ میں نے نہیں لکھی تھیں وہ حقانی صاحب ہی لکھ سکتے ہیں۔ مجھ سے جب پوچھاگیا کہ اس میں کیا لکھا ہے تو میں نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم میں نے آگے فارورڈ کیا ہے، کیونکہ اس میں غلطیاں بہت تھیں۔ اس کے بعد حقانی صاحب نے کہا کہ میں بی بی کی تقاریر لکھتا ہوں ، آپ بے فکر رہیں یہ غلطیاں نہیں ہیں، آپ مجھ پر اعتماد رکھیں، بعد میں اس خط کا بہت چرچہ ہوا۔

پاکستان : کیا آپ کی حسین حقانی سے ملاقاتیں رہی ہیں؟

تنویر زمانی : جی ہاں ! میری حسین حقانی سے ملاقاتیں رہی ہیں۔ لیکن حسین حقانی کا کردار متنازعہ رہا ہے۔

پاکستان: آپ نے پیپلز پارٹی میں اپنی سرگرمیاں کیوں نہیں بڑھائیں ؟

تنویر زمانی : 23مارچ 2009 سے لے کر آج تک ہر تقریب میں میری تقریریں شامل ہوتی تھیں، چاہے بھٹو صاحب کی سالگرہ ہو، یا دیگر مواقع ،میری شمولیت ضرور ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ 2011 تک سرگرمیاں بہت زیادہ رہیں۔

پاکستان: آپ نے اس قدر کام کیا ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت اور آپ اس خدمات کو کس نظر سے دیکھتی ہے ؟

تنویر زمانی : مجھے پارٹی کی جانب سے بہت ستائش ملی اور میرے کام کو سراہا گیا، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے جلنے لگے اور میرے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں تاکہ زرداری صاحب میرا نام نہ لے سکیں اور نہ ہی بلاول میرے بارے میں سوچے۔ سب لوگوں نے یہ پھیلا دیا کہ یہ محترمہ کی جگہ لینا چاہ رہی ہیں۔ اور یہ اپنے بارے میں افواہیں پھیلا رہی ہیں۔حالانکہ یہ سب غلط ہے۔

پاکستان : پیپلز پارٹی کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے ؟ بدانتظامی کی چھاپ لگ چکی ہے ؟ آپ کیا سوچ کر اس وقت پارٹی کو بہتر کرنے کی کوششیں کررہی ہیں؟

تنویر زمانی : اب جبکہ لوگ کشتی سے چھلانگیں لگارہے ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ کشتی کو میں ڈوبنے نہیں دوں گی۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے 24پروگرام مختلف چینلز پر آن ائر جاچکے ہیں۔ ہمارا بحران اسی طرح دور ہوسکتا ہے کہ ہم کارکنوں کو متحد کریں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ پارٹی کا بحران عارضی ہے۔میں روزانہ پارٹی ورکرز سے ملاقاتیں کرتی ہوں۔ تھرپارکر، بدین، لاڑکانہ، دادو اور دیگر اضلاع سے لوگ ملاقاتیں کرنے کے لیے جوق درجوق چلے آرہے ہیں۔ اور ٹیلیفون پر کالوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ایک آدمی کے پیچھے کئی کئی ہزار لوگ ہیں ۔ میں 24گھنٹے مسلسل پارٹی کو متحدکرنے کیلئے کام کررہی ہوں۔ لیکن میں یہ چاہتی ہوں کہ پارٹی بحرانوں سے نکلے اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہو جس کے لیے تمام کارکنوں اور رہنماؤں کو جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔میں نے طے کیا تھا کہ جب میں یہاں آؤں گی تو بڑے بڑے رہنماؤں سے ملاقات نہیں کروں گی بلکہ زیادہ سے زیادہ کارکنوں سے ملاقاتیں کروں گی جو بہت اہم ہیں لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کی ملاقات پارٹی سربراہ آصف زرداری ،بلاول بھٹو اور دیگر رہنماؤں سے ہوئی ہے تو میں کہتی ہوں کہ نہیں میری ملاقات پارٹی کارکنوں سے ہوئی ہے ۔میرے پاس ایک شخص اگر آدھی رات کو تھرپارکر سے بھی آتا ہے تو میں اس کو ضرور وقت دوں گی اور اس کی بات سنوں گی کیونکہ یہ تمام چیزیں پارٹی مفاد میں ہیں۔میں وفود کی بجائے انفرادی طور پر لوگوں سے ملاقاتیں کررہی ہوں ۔بوڑھے ،بیمار اور ریٹائرڈ لوگوں سے اور پیپلزپارٹی کے ان ورکرز سے مل رہی ہوں جو بھٹو شہید کے آگے پیچھے کھڑے ہوتے تھے ۔ان لوگوں نے مجھے گلے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے ۔میرے آنے کا مقصد کارکنوں اور قیادت کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے کیونکہ اس وقت پارٹی میں بہت بڑا گیپ ہے اور پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے ورکرز کو شکایت ہے کہ کسی نے ہم کو پلٹ کر نہیں پوچھا ۔بی بی کے جانثاروں کو بھلا دیا گیا ہے ۔

پاکستان : خرابی کیسے پیدا ہوئی اور یہ سب کیوں اور کیسے ہوا ؟

تنویر زمانی : یہ سب پارٹی میں کارکنوں اور رہنماؤں کے درمیان فاصلوں کی وجہ سے خرابی پیدا ہوئی ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔زرداری صاحب کے پاس صدر مملکت کا عہدہ بھی تھا اور پارٹی کی قیادت بھی ۔انہیں اس عہدے کو بھی نبھانا تھا ۔دراصل غلطی بی اور سی لائن کی ہے ۔جبکہ بحران کا الزام زرداری صاحب پر لگایا جارہا ہے ۔لیکن ہم کو ان کی مصروفیات کو بھی دیکھنا ہوگا ۔

پاکستان : یہ اے بی اور سی لائنیں کس نے بنائی ہیں ؟

تنویر زمانی : اشرف سوہنا ،نذر محمد گوندل جیسے لوگ جو پارٹی چھوڑ کر جارہے ہیں انہی جیسے لوگوں کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہورہا ہے ۔دراصل کارکنوں سے گھر گھر جاکر ملاقاتیں نہیں کی گئیں ۔ایک آدمی کچھ نہیں کرسکتا ٹیم ورک ہونا چاہیے تھا ۔جسکی پارٹی کو اشد ضرورت ہے۔

پاکستان : وزیراعظم اور صدر دونوں ہی پیپلزپارٹی کے تھے ٹیم کس نے بنائی ؟ پھر ناکامی کی وجوہات کیا ہیں ؟ اگر کامیابی ہوتی تو اس کا سہرا کپتان کو جاتا اور اب ناکامی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری کون اٹھائے گا ؟

تنویر زمانی : میں دراصل اسی لیے یہاں آئی ہوں اور ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کروں گی ۔میں ہر بھٹو کے نام لیوا کا دست بازو ہوں ، اور جلد خرابیاں دور کردوں گی۔

پاکستان : پیپلزپارٹی کی قیادت کیا یہ نہیں سمجھ رہی کہ آپ متوازی سسٹم بنارہی ہیں ۔کیا زرداری صاحب کو آپ پر اعتماد ہے ؟َ کیا آپ نے ان کو اعتماد میں لیا ؟

تنویر زمانی : زرداری صاحب نے پاکستان میں پانچ سال جمہوریت چلا کر دنیا میں بڑا نام پیدا کیا ہے ۔لیکن نیچے کے لوگوں نے صحیح معنوں میں تعاون نہیں کیا جس کا نقصان پارٹی کو پہنچا اور انہوں نے اپنے اپنے حصے کے چراغ نہیں جلائے ۔

پاکستان : کیا قائم علی شاہ ایک ناکام وزیراعلیٰ ہیں ؟

تنویر زمانی : نہیں ابھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے ۔میں کسی ایک شخص کو ناکام نہیں کہہ سکتی ۔ابھی آپ کو انتظار کرنا چاہیے ۔

پاکستان : قائم علی شاہ اے اور بی میں سے کس لائن میں آتے ہیں ؟

تنویر زمانی : قائم علی شاہ بی لائن میںآتے ہیں ۔لیکن ابھی ان کی ڈیوٹی پوری نہیں ہوئی ہے وہ سندھ کے وزیراعلیٰ ہیں اور ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں ۔وہ سندھ کے لیے کام کررہے ہیں ان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔

پاکستان : قائم علی شاہ کی قیادت میں یہ صوبہ چل رہا ہے ۔ایسی صورت حال میں جبکہ سندھ میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہے ۔بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے ۔معیشت کی خراب حالت ہے ۔کیا آپ قائم علی شاہ کو مورود الزام نہیں ٹھہرائیں گی ؟

تنویر زمانی : آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر آپ سندھ کا دوسرے صوبوں سے موازنہ کریں تو ان صوبوں کو ایسی کون سی کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ایسی صورت حال میں آپ قائم علی شاہ کو کیسے ناکام کہہ سکتے ہیں ۔

پاکستان : اس وقت پیپلزپارٹی کی پوزیشن سندھ سمیت دیگر صوبوں میں اچھی نہیں ہے ۔جبکہ پنجاب میں پیپلزپارٹی چوتھے نمبر پر ہے ۔کنٹونمنٹ انتخابات میں پیپلزپارٹی چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہی ہے ۔ایسی صورت حال میں تمام ناکامی زرداری صاحب کی نہیں ہے ؟ جو لوگ اے اور بی ٹیم میں کھڑے ہیں ۔زرداری صاحب ان کے سربراہ ہیں ۔آپ کیا کہیں گی ؟

تنویر زمانی : میری آمد کا اصل مقصد یہی ہے کہ میں یہاں اس لیے آئی ہوں کہ جو خامیاں اور غلطیاں پارٹی سے ہوئی ہیں میں ان کے ازالے کے لیے جدوجہد کروں اور میں چاہتی ہوں کہ پیپلزپارٹی اپنا مقام بنائے ۔

پاکستان : کیا آپ کو یقین ہے کہ لوگ آپ کی بات مان لیں گے ؟

تنویر زمانی : جی میں اس لیے یہاں آئی ہوں اور آپ دیکھ رہے ہیں میرے فون پر مسلسل کالز موصول ہورہی ہیں ۔مجھے اگر کوئی ایک شخص کال کررہا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے ہزاروں لوگ کھڑے ہوتے ہیں ۔اس وقت پارٹی کارکنوں سے رابطے بڑھے ہیں ۔اگر میں اے بی سی ڈی ای لائن کو جگادوں اور کھڑا کردوں تو میری بڑی کامیابی ہوگی اور اس کا بڑا فائدہ پارٹی کو پہنچے گا ۔میری زندگی کا مقصد لوگوں میں لہر دوڑانا ہے تاکہ وہ جاگ جائیں ،میں اپنے رشتوں کو پیچھے چھوڑ کر اس کام کو اہمیت دے رہی ہوں ۔جبکہ میری بیٹی کی شادی اسی مہینے ہونے والی ہے ۔مجھے وہاں بھی بہت سے کام ہیں ۔لیکن میرے لیے اس وقت سب سے زیادہ اہمیت پارٹی کی ہے ۔صرف پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان نہیں ہے بلکہ میں تمام پاکستانیوں کو جگا رہی ہوں ۔مجھے ہر فقیر کے ہاتھ سے کشکول چھیننا ہے ۔اس کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے ۔لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ عہدوں کی فکر نہ کرو ۔یہی وجہ ہے کہ میں رات رات بھر چیختی پھرتی ہوں اور لوگوں کو پارٹی کی اہمیت اور پارٹی کے کاموں کے بارے میں بتاتی ہوں کہ پارٹی کی کیا قربانیاں ہیں اور پارٹی کے رہنماؤں کی کیا قربانیاں ہیں ۔

پاکستان: ٹیلی فون پر آپ کا رابطہ کس کس سے ہے ؟

تنویر زمانی : میرا ہر شخص سے ٹیلی فون پر رابطہ رہتا ہے اور ہر شخص یہی بات کرتا ہے کہ میرا نام نہیں بتانا اور یہ بات سب کو پتہ ہے کہ میں جو یہاں آئی ہوں وہ سب کو جگانے کے لیے آئی ہوں ۔نہ مجھے کسی کی اونر شپ چاہیے اور نہ کسی ستائش کی تمنا ہے ۔میرا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ پارٹی کے کارکنوں کو یکجا کیا جائے اور آپس میں روابط بڑھائے جائیں ۔اور پارٹی کی حالت کو بہتر سے بہتر کیا جائے تاکہ آئندہ انتخابات کیلئے منظم کیا جاسکے۔

پاکستان : کیا آپ کی بھٹو خاندان سے ملاقات ہوئی ہے ؟

تنویز زمانی : جو بھی بھٹو کا نام لیتا ہے میں اس سے رابطے میں ہوتی ہوں ۔

پاکستان: آپ پارٹی سے اتنی عقیدت اور محبت رکھتی ہیں، لیکن بی بی کی شہادت پر نہیں آئیں ؟

تنویر زمانی : میں نہیں سمجھتی کہ لوگ اس کا کیا مقصد نکالنا چاہتے ہیں ۔لاڑکانہ کی پریس کانفرنس میں جب لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ بی بی کی شہادت پر آپ نہیںآئیں ۔مرتضیٰ بھٹو شہید ہوئے آپ نہیں آئیں اب آپ کیوں آئی ہیں ؟میں نے انہیں کہا کہ جب مرتضیٰ کی شہادت ہوئی تو بی بی موجود تھیں اور جب بی بی کی شہادت ہوئی تو بڑی بیگم صاحبہ یہاں موجود تھیں ۔اب تو کوئی بھی نہیں ہے ۔میں اس وقت بہت محنت کررہی ہوں ۔آپ یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ میں اس وقت اپنے سرجری کے شعبے میں کس قدر محنت کررہی تھی ۔مجھے یہ اطمینان تھا کہ بھٹو کی پارٹی کے لیے بی بی زندہ ہے ۔میں رات دن ان کے پروگرام دیکھتی تھی اور ہر چیز سے باخبر رہتی تھی۔ نیو یارک اور شگاگو میں بڑے بڑے لوگوں کو شیلڈ دے رہی ہوتی تھی ۔پیپلزپارٹی نیو یارک کا سیکرٹریٹ سب سے پہلے ہم نے قائم کیا تھا۔ میں بتانہیں سکتی کہ میرے کس کس سے رابطے ہیں۔ دراصل میں انعام واکرام کے چکر میں نہیں ہوں۔ وہ لوگ میرے کام کو سراہتے ہیں ، فاطمہ بھٹو، بلاول بھٹو میرے بچوں کی طرح ہیں ، میں کارکنوں کو یہ پیغام دینے آئی ہوں کہ وہ انعام و اکرام کے چکر میں نہ پڑیں، آپ کا کام ہی اصل اہمیت رکھتا ہے۔ ویسے بھی اس بات کی متمنی نہیں ہوں کہ بچے میرے کام کو سراہیں، اور نہ میں اس کی توقع کرتی ہوں۔

پاکستان: پیپلز پارٹی کے پانچ سات سالہ اقتدار میں جیالا دور ہوتا گیا، آپ انہیں کیا دے رہی ہیں کہ وہ جیالا واپس لوٹ آئے؟

تنویززمانی: میں سمجھتی ہوں کہ میری باتوں میں بڑا اثر ہے، میں چاہتی ہوں کہ مجھے جو کام کرنا ہے وہ اتنی خوش اسلوبی سے کروں کہ پارٹی جلد اپنے اصل مقام تک پہنچ جائے۔ میرے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے۔ بھٹو کا کالر لگاتی ہوں، سفید لباس عموماً پہنتی ہوں، گرین دوپٹہ بھی اوڑھتی ہوں۔ خواتین کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ گھر کی چار دیواری میں رہیں اور سادہ لباس پہنیں۔ میں نے یہ تہیہ کررکھا ہے کہ اسو قت تک چوڑیاں نہیں پہنوں گی، جب تک پاکستان کی ہر عورت کو چوڑی نہ مل جائے۔

پاکستان: سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ پیپلزپارٹی کی قیادت کو کیسے جگائیں گی، وہ تو مزے سے سورہی ہے ؟

تنویززمانی: دراصل 5جو لائی کو یوم سیاہ منایا گیا، میں اس پروگرام میں مہمان خصوصی تھی، مجھے امریکہ میں پی ایس ایف کے جنرل سیکریٹری زوہیب بٹ نے دعوت دی تھی ۔ میرے بارے میں بہت سے نئے لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ کون خاتون ہیں جو ہمیں جگانے آگئی ہیں۔ 5 جولائی کی پروگرام جب شائع ہوا تو کہا گیا کہ اس عورت کو کیوں بلایا جارہا ہے۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ زرداری صاحب اور میں ایک دوسرے کی شکل نہ دیکھ سکیں۔ 5جولائی کے پروگرام کے لیے لوگوں کو ڈرایا جارہا تھا، اس پروگرام میں ، میں نے شرکت نہیں کی مگر پروگرام بہت کامیاب رہا اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کیونکہ اس پروگرام میں میرے آنے کا پروپیگنڈہ تھااور لوگوں کو امید تھی کہ میں آؤں گی۔

پاکستان: آپ کو یہ بات پتہ ہے کہ نیب اس وقت لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہی ہے، اور آپ ایسے وقت میں کہتی ہیں نہ کھانے دوں گی اور نہ کھاؤں گی، مگر کھانے والے تو کھا کر جاچکے ہیں۔ آپ کس کے لیے کہہ رہی ہیں ؟

تنویززمانی: میں اسی لیے تو آئی ہوں ، مجھے امید ہے کہ کرپشن کا خاتمہ جلد ہوجائے گا اور میں لوگوں کو اس سے روکنے میں کامیاب ہونگی۔ اور پارٹی ایک بار پھر آئیڈیل پارٹی ہوگی۔

پاکستان: بھٹو خاندان کی جانب سے یہ پیغام کیوں نہیں آتا کہ تنویر زمانی جو کام کررہی ہیں ، انہیں کام کرنے دیا جائے ان کی ہر گز مخالفت نہیں ہونی چاہئیے ؟

تنویززمانی: پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں جس کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں، کیونکہ کچھ لوگ اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ میں یہاں ستائش کیلئے آئی ہوں، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ، میں نے بی بی محترمہ کی جدوجہد میں بعض ایسے لوگوں کو بالکل نہیں دیکھا جو آج آگے بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں، جیسے کہ سعید غنی کو میں نے بی بی کے ساتھ کبھی نہیں دیکھا۔ ہم نیویارک میں اس وقت جمہوریت کیلئے جدوجہد کررہے تھے ، یہ لوگ جمہوریت کے بعد آئے ہیں۔ مجھے پاکستان میں بدنام کرنے میں نبیل گبول کا بیٹا نادر گبول بھی شامل ہے جو نیویارک میں پاسپورٹ آفس میں کام کرتا ہے ۔لیکن میں نے ہمیشہ ان کو بھٹو کا بھائی سمجھا ۔

پاکستان: ملک میں جب الیکشن ہونگے تو کیا آپ اس میدان میں اتریں گی ؟

تنویززمانی: میں سمجھتی ہوں کہ مجھے لاہور اور لیاری دونوں جگہ سے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے، اس وقت ملک کو پیپلز پارٹی کی اشد ضرورت ہے۔ لیاری بھٹو کی نشانی ہے ۔

پاکستان: آپ کو یہ امید ہے کہ پیپلز پارٹی آپ کو الیکشن کیلئے ٹکٹ فراہم کرے گی؟

تنویززمانی: میں وثوق سے نہیں کہہ سکتی کہ مجھے ٹکٹ دیا جائے گا۔ میرے بارے میں یہ باتیں بھی چل رہی ہیں کہ تنویز زمانی کا پاکستان پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے بارے میں کارکن بتائے گا کہ میرا تعلق ہے یا نہیں ، میں 2018ء تک کارکنوں میں شعور بیدار کردوں گی ۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ الیکشن میں پی پی بڑی کامیابی حاصل کریگی۔ اگر پیپلز پارٹی مجھے اون نہیں کرتی تو کوئی اور پارٹی مجھے اون کرلے گی۔ ڈریں اس وقت سے جب پاکستان کا محب وطن ، پاسبان اور محافظ مجھے اون کرلے گا ، لیکن اس میں میری یہی شرط ہوگی کہ کالر یہی بھٹو شہید والا ہی ہوگا ۔

پاکستان: عمران خان ، بھٹو شہید اور محترمہ کی بہت تعریف کرتے ہیں ، اسی سوچ کے ساتھ اگر تحریک انصاف آپ کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے تو آپ کیا کریں گی ؟

تنویززمانی: میں تحریک انصاف کے اور متحدہ کے نوجوانوں کو پیپلز پارٹی میں آنے کی دعوت دیتی ہوں۔

پاکستان: پیپلزپارٹی کا مینڈیٹ اب تقریباً ختم ہوچکا ہے، پھر آپ کی جدوجہد کس طرح کامیابی تک پہنچ سکتی ہے ؟

تنویززمانی: 26 جون کو لاڑکانہ گئی تھی اور بھٹو صاحب کی قبر پر اس بات کا عہد کیا تھا کہ آپ کے اور عوام کے درمیان اب کوئی نہیں آئے گا ۔ ایک مخصوص گروپ جو پورے ملک پر حکومت کرے ، وہ ایک بن جائے ، وہاں سے جو چلے وہی سب کو منظور ہو۔ وہاں سے ہماری اور پاکستان کی افزائش شروع ہوگی۔

پاکستان: آپ پیپلز پارٹی کی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے جو جدوجہد کررہی ہیں، اس کے لیے تو فنڈز کی ضرورت ہوگی، وہ آپ کہاں سے پورا کریگی ؟

تنویززمانی: مسکرا کر! اسی دن کے لیے تو میں سرجن بنی تھی ، میرا اپنا پیسہ ہے جو میں ذاتی طور پر خرچ کررہی ہوں، اور آئندہ بھی کروں گی۔ اﷲ گواہ ہے کہ میں نے کسی سے کوئی پیسہ پائی نیں لیا ہے۔ میری اپنی فنڈنگ ہے ، اسی لیے تو مجھے اتنے دن لگ گئے ۔

پاکستان: آپ کی جو مصروفیات ہیں، اس سے آپ کی ذاتی زندگی متاثر ہورہی ہے ؟

تنویززمانی: میں آپ پر واضح کردوں کہ میں ایک عزت دار فیملی سے تعلق رکھتی ہوں۔ میری سسرال والے اس سلسلے میں بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بہو کسی بھی گھر کی عزت ہوتی ہے۔ میرے ماشاء اﷲ دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ، جن میں سے بڑی بیٹی کی شادی عنقریب ہونے والی ہے، جس کے لیے مجھے تیاریاں بھی کرنی ہیں، لیکن آپ دیکھیں کہ میں اس وقت پاکستان میں پارٹی کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کررہی ہوں۔ اور ان تمام صورتحال کے باوجود کچھ ایسے لوگ ہیں جو انتہائی سنگین الزاما ت لگارہے ہیں ۔

پاکستان: آپ ایسے وقت میں پاکستان آئی ہیں کہ جب پرانے جیالوں کے بچے ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں ، آپ انہیں کس طرح واپس پیپلز پارٹی کا حصہ بنائے گی ؟

تنویززمانی: میری کوشش ہوگی کہ انہیں واپس لانے کے لیے میں گھر گھر جاؤں اور لوگوں کو راضی کروں ۔ ابھی تک جن لوگوں نے مجھ سے رابطہ یا ملاقاتیں کی ہیں، مجھے ان سب سے امید ہے کہ وہ پارٹی کیلئے اپنا مشن جاری رکھیں گے ۔

پاکستان: آپ نے بڑی تیزی سے اپنے پروگرام کیے ہیں، یہ سب کیسے ہوا ہے ، کیا آپ امریکہ سے کوئی ہوم ورک کرکے آئی تھیں ؟ یا آپ کی کسی نے مدد کی ہے ؟

تنویززمانی: پیپلز پارٹی کے فراز راجپوت جو مئی 2013 تک زرداری صاحب کے کوآرڈینیٹر تھے ، اور ان کی ٹیم نے میرے ساتھ بہت تعاون کیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، ہمت سے کام لینا ہوگا، کیونکہ لوگ ہمیں سازشوں کے ذریعے ناکام کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہمیں ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔ میں نے اب تک جتنے پروگرام کرائے ہیں، اﷲ کے فضل وکرم سے پسند کیے گئے ۔ بعض لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے نہ کوئی قربانی دی ، نہ ہی کوڑے کھائے اور نہ ہی دیگر جیالوں کی طرح جیل کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ تو میں انہیں جواب دیتی ہوں کہ میں نے اپنے سفید دامن پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ جب کہ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میں ’’زرداری کی بیوی ہوں‘‘۔ آپ خود سوچیں کہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ ’’میں بی بی کے سہاگ پر کبھی آنچ نہیں آنے دوں گی ‘‘۔ یہ جملہ میں نے کئی انٹرویوز میں کہا ہے، وہ میری پارٹی کے قائد ہیں اور میں کارکن ہوں ۔

پاکستان: بینیظر بھٹو صاحبہ ، ناہید خان سے بہت انسیت رکھتی تھیں، کیا آپ کی ان سے کوئی ملاقات ہوئی ہے ؟

تنویززمانی: جی نہیں ! بہت سے لوگوں نے مجھے ناہید خان کے نمبر دیے کہ آپ ان سے بات کرلیں، وہ آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن میں نے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

پاکستان: کہیں ایسا تو نہیں آپ ناہید خان سے ملیں تو زرداری صاحب ناراض ہوجائیں گے ؟

تنویززمانی: نہیں میں ایسا نہیں سمجھتی ! میں سمجھتی ہوں کہ ناہید خان مجھے oblige کرنا چاہتی ہیں ، کیونکہ وہ خود ملنا چاہتی ہیں۔

پاکستان: وہ تو آپ کے لیے بہت کارآمد ہوسکتی ہیں، پھر کیوں نہیں ملنا چاہتی ہیں ؟

تنویززمانی: دراصل میں رہنماؤں کے بجائے کارکنوں سے ملنا چاہتی ہوں ، جو کہ اس وقت میری لیے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ جن سے کوئی نہیں ملا ، ان کو اس وقت میری ضرورت ہے۔ ناہید خان صاحبہ سے تو بہت لوگ مل لیتے ہیں ۔ میں یہی بات فاطمہ بھٹو کیلئے بھی کہوں گی کہ اگر وہ چاہتی ہیں تو ضرور ملیں۔

پاکستان: کیا بلاول بھٹو نے کبھی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے ؟

تنویززمانی: بلاول بھٹو کو مجھ سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

پاکستان: سنا ہے کہ آپ جن جیالوں سے ملاقات کرتی ہیں وہ ان کو بلا کر ڈانٹتے ہیں ؟

تنویززمانی: ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ گڑھی خدا بخش میں جنہوں نے میرے لیے دروازے کھولے تھے، اور مجھے قبر تک جانے دیا، ان کے بارے میں سنا ہے کہ ان کو فارغ کردیا گیا ہے ۔ مجھے ان ملازمین کو بحال کرانا ہے، اور یہ کتنے عجیب سی بات ہے کہ جنہیں بھٹو شہید کی قبر تک جانا چاہیے ، انہیں نہ جانے دیا جائے۔ اصل میں بلاول بھٹو ابھی نادان ہے، میں اس وقت یہی کہوں گی کہ آپ کی جماعت کو بڑے بڑے نام چھوڑ کر جارہے ہیں، جس کا مجھے بے حد افسوس ہوتا ہے۔ میری جیسی خاتون جس نے بھٹو ازم کو سامنے رکھتے ہوئے بین الاقوامی سیاست میں پی ایچ ڈی کیا ہے۔

پاکستان: آپ بلاول بھٹو کو کیا مشورہ دینا چاہیں گی کہ وہ اس وقت ایک بچہ ہے، پیپلز پارٹی کی کمان ایک بچے کے ہاتھ میں دی ہوئی ہے ؟

تنویززمانی: دراصل وہ بی بی اور زرداری صاحب کے بیٹے ہیں ، اور میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ وہ میرا بھی بیٹا ہے ، میں عذیر بلوچ کو بھی اپنا بیٹا کہتی ہوں۔ بی بی چاہتی تھیں کہ پہلے بلاول اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور اس کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھے۔ میں نے بھی اپنے والد صاحب کے مشورے پر پہلے تعلیم کو ترجیح دی کیونکہ تعلیم آپ کو میچور بناتی ہے ۔ میں 20 سال بعد پاکستان آئی اور میڈیا کو فیس کیا ،یہ دراصل میرا میڈیا ٹرائل تھا اور میں اب تک کامیاب ہوں۔

پاکستان: کیا آپ بلاول کو تعلیم مکمل کرنے کا مشورہ دیں گی ؟

تنویززمانی: میں چاہتی ہوں کہ وہ محفوظ رہیں ، اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، الحمدﷲ ان کے والد حیات ہیں، اﷲ ان کو بھی لمبی عمر دے۔ انہیں زرداری صاحب کی قیادت میں مزید تربیت کی ضرورت ہے۔ پارٹی کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا ہے ۔ کیونکہ نظریاتی کارکن ہی پارٹی کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں ۔

پاکستان: اگر آپ کو کوئی اون کرے تو آپ کیا سفارش کرتی ہیں کہ آپ کو کون اون کرے؟

تنویززمانی: میں کوئی ایسی چیز ہی نہیں ہوں کہ جس کو کوئی اون کرے۔ میں سمجھتی ہوں کہ میں نے بھٹو کا کالر پہنا ہے جو پھانسی کے پھندے کے ساتھ ہی اترے گا۔ وہ لوگ جو میرا ساتھ دے سکیں ، جو ملک کے مخلص اور محافظ ہوں ، مخلص تو ممنون حسین بھی ہیں ، لیکن اُن میں تپڑ نہیں ہے۔ کیونکہ ایمانداری کے ساتھ ساتھ تپڑ کا ہونا بھی ضرور ہے۔

پاکستان: نواز شریف کے بارے میں آپ کیا کہیں گی ؟

تنویززمانی: وہ بہت سخت اور محنتی انسان ہیں۔ اور وہ اس عہدے پر تیسری بار براجمان ہوئے ہیں۔ ان کی میٹرو بس سروس انتہائی کامیابی سے چل رہی ہے، ملک میں اس وقت سنجیدگی سے کام ہورہا ہے۔

پاکستان: اگر چاروں صوبوں کا موازنہ کیا جائے تو آپ کے خیال میں کونسے صوبے میں ترقیاتی کام زیادہ ہورہا ہے ؟

تنویززمانی: پنجاب ، سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان سب جگہ یکساں ہورہے ہیں ۔

پاکستان: آپ کا رحجان کس صوبے کی طرف زیادہ ہے ؟

تنویززمانی: میں اس وقت بس پیپلز پارٹی کو آگے بڑھانے کیلئے جدوجہد کررہی ہوں۔

پاکستان: عمران خان کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں ؟

تنویززمانی: میں نے کبھی کرکٹ نہیں دیکھی ، کیونکہ میں پڑھائی میں اس قدر مصروف تھی کہ مجھے دوسری جانب دیکھنے کا وقت نہیں ملا۔ جاوید میاں داد ، سرفراز نواز اور دیگر بھی عروج پر تھے ۔ عمران خان سیاست میں آئے تو اس وقت انہیں بولنا نہیں آتا تھا، اب وہ بولنے لگے ہیں ۔ انہوں نے ہر دور میں ایک خاتون کا دل دکھایا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں بور ہورہا تھا تو میں نے دھرنا دیدیا۔ جب دھرنے سے دل اچاٹ ہوگیا تو میں نے دھرنا ختم کردیا۔

پاکستان: الطاف حسین کی سیاست کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ برطانیہ کے نظام کو بھی بہتر طریقے سے سمجھتی ہیں اور ان پر مقدمات بھی ہیں ؟

تنویززمانی: ایم کیو ایم کی سیاست کراچی اور سندھ میں ہے۔ الطاف حسین برطانیہ کے باشندے ہیں، میں ایسی صورتحال میں کیا جواب دوں۔

پاکستان: آپ بھی تو پاکستانی نہیں ہیں ؟

تنویززمانی: جی میرے پاس دہری شہریت ہے ۔ ایک بات بتاتی چلوں کہ جب امریکہ میں میری قومیت کے سلسلے میں حلف اٹھانے کی تقریب ہوئی تو اس تقریب میں مجھے تقریر کرنے کا بھی موقع دیا گیا۔ حالانکہ وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ تقریر کا موقع دیا جائے۔

پاکستان: کیا آپ رینجرز کی موجودگی کی حمایت کرتی ہیں ؟ اور کیا جنرل راحیل شریف کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں ؟

تنویززمانی: جی ہاں ! میں چاہتی ہوں کہ کراچی میں امن و امان ہو ۔ کیونکہ امن و امان ہوگا تو عوام خوشحالی کی طرف بڑھے گی۔ جنرل راحیل بہتر کام کررہے ہیں۔ کراچی آپریشن اور رینجرز کے اقدامات کی حمایت کرتی ہوں۔

پاکستان: علماء کے بارے میں آپ کیا کہیں گی ؟

تنویززمانی: دیکھیں ! علماء ہونے چاہئیں کیونکہ وہ مذہب کی حفاظت کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے ڈانس کی سختی سے مخالفت کرتی ہوں ، میں ملالہ یوسف کے لئے بھی یہی کہوں گی کہ انہوں نے اپنی تقریروں میں یہ کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے نہیں دی جاتی ۔ تو میں یہ کہوں گی کہ ملالہ کو ان ڈاکٹروں کا شکر گذار ہونا چاہیے جنہوں نے اس کی جان بچائی ہے اور میں تو یہاں تک کہوں گی کہ نوبل پرائز بھی ملالہ کے بجائے ان تمام ڈاکٹر وں کو ملنا چاہیے جنہوں نے اس کی جان بچائی۔ میں ملالہ یوسف سے یہ سوال کرتی ہوں کہ بینظیر بھٹو وزیراعظم کیسے بن گئیں ؟ انہوں نے بھی تعلیم کا آغاز پاکستان میں کیا تھا ۔ جبکہ پورے ملک میں ایسا نہیں ہے بلکہ مقامی حالات کی وجہ سے ان کے ساتھ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ انہیں باہر ممالک میں اپنے ملک کے وقار کو بلند کرنا چاہیے ، بدنام نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستان: پیپلز پارٹی شخصیت پرستی پر یقین رکھتی ہے ؟ اس کی کیا وجوہات ہیں ؟ کیا کرزمہ ختم ہوگیا ہے ؟

تنویززمانی: بھٹوشہید نے عوام کے لیے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ایک بھٹو میں ہوں اور ایک بھٹو تم ہو۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ ان کی بات میں سچائی تھی ۔ اس وقت مجھے بہت سارے کارکنوں میں بھٹو نظر آرہا ہے۔

پاکستان: اس وقت ملک میں حکومت کے لیے باریاں چل رہی ہیں۔ پہلے پی پی بعد میں ن لیگ، اس کے بارے میں کیا کہیں گی ؟

تنویززمانی: دیکھیں باری کی کوئی بات نہیں ہے۔ دونوں ملک کی بڑی جماعتیں ہیں، عوام جسے جب پسند کرے وہ برسراقتدار آجاتا ہے۔

پاکستان: نیب اگر ایکشن لیتی ہے تو آپ کے خیال میں نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے؟

تنویززمانی: میں یہ کہوں گی کہ احتساب کیا جائے لیکن شفاف ہونا چاہیے۔

پاکستان: زمانہ طالبعلمی میں آپ کو بریگیڈیئر کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا، اس کی کیا وجہ تھی ؟

تنویززمانی: قہقہہ لگا کر ! آپ نے کونسا دور یاد دلادیا۔ اسکول اور کالج کے زمانے میں میرا تھوڑا دبنگ اسٹائل ہوتا تھا جس کی وجہ سے مجھے اس خطاب سے نوازا گیا۔ حالانکہ وہ اسٹائل ابھی بھی کہیں کہیں موجود ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 2 -