انشورنس انڈسٹری کاروباری خواتین کی ترقی پربھی توجہ دے :خرم سعید

انشورنس انڈسٹری کاروباری خواتین کی ترقی پربھی توجہ دے :خرم سعید

  

اسلام آباد(ا ے پی پی )بزنس مین پینل کے مرکزی رہنما اورایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدرخرم سعیدنے کہا ہے کہ دیگر کئی اہم شعبوں کی طرح انشورنس انڈسٹری بھی گھریلو اور کاروباری خواتین کو وہ توجہ نہیں دے رہی جسکی وہ مستحق ہیں جس سے ملکی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ مردوں کو فوقیت دینے کے رجحان پر نظر الثانی کی ضرورت ہے جو ملک کی نصف سے زیادہ آبادی سے امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ خواتین کو نظر انداز کرنا ملکی مفاد کے خلاف ہے اور انشورنس انڈسٹری کو انکے لئے نئی مصنوعات متعارف کروانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بھی بحران کے دوران اپنے خاندان اور کاروبار کو نقصان سے بچا سکیں۔خرم سعید نے یہ بات خواتین تاجروں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ مرد آزادی سے کوئی بھی کاروبار کر سکتے ہیں ۔

مگر خواتین کو گھر کے سربراہ سے اجازت لینی پڑتی ہے جبکہ ساتھ ہی دیگر زمہ داریاں بھی پوری کرنی ہوتی ہیں جس سے انکی استعداد متاثر ہوتی ہے۔ہمیں انکی صلاحیتوں پر شک کرنے کی ضرورت نہیں اور انھیں پر اعتماد بنانا بھی ہماری زمہ داری ہے۔ کاروباروں پر صرف مردوں کی اجارہ داری نہیں ہونی جائیے بلکہ یہ حق خواتین کو بھی ملنا چائیے۔معاشرے کا سارا نظام مردوں کی مدد پر کمر بستہ ہے جبکہ ملکی نظام بھی انھیں مراعات جبکہ خواتین کے راستہ میں روڑے اٹکاتا ہے۔کاروباری خواتین کو فلاحی منصوبوں، نئی ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ کے جدید طریقوں سے دور رکھا جاتا ہے جس سے انکے کاروبار کے بڑھوتری مشکل ہو جاتی ہے۔ خواتین کوبینک اور مالیاتی ادارے مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں

جبکہ متعدد کاروباری امور میں مداخلت سے انکی کارکردگی، ساکھ اور منافع پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزید :

کامرس -