ترقی کا راز، کیا ہے؟

ترقی کا راز، کیا ہے؟

  

قرآن حکیم ہر چیز میں اصول فطرت لے کر آیا ہے۔ اس کے قواعد و ضوابط اور احکام و اصول پوری فطرت بشری کے مطابق ہیں اس نے جہاں عبادات کے اوقات کا تعین کیا ہے وہاں دینوی معاملات میں فرائض منصبی کو پابندی وقت کے ساتھ ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ اچھا مزدور یا آفیسر وہ ہے جو خوب کام کرنے والا اور امانت دار ہو، جو مزدور کسی فیکٹری میں کام کرتا ہے یا جو لوگ دفاتر اور تعلیمی اداروں میں کام کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے دفتری فرائض کو تندہی، جفا کشی اور دیانت داری سے کریں۔اگر و ہ ایسا نہیں کرتے تو وہ امین اور دیانتدار نہیں ہیں، کیونکہ وہ قومی امانت میں خیانت کے جرم کے مرتکب ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو جس جگہ کام کر رہا ہے، خواہ وہ فیکٹری ہو یا دفتر،کارخانہ ہو یا ادارہ، وہ ایک اہم منصب پر فائز ہے اور اس پر یہ بات لازم ہے کہ جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے، وہ اس کو وقت کی پابندی کے ساتھ پوری طرح انجام دے تاکہ قومی پیداوار میں اضافہ ہو اور ملک و قوم ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو، یہ وقت کی اہمیت اور فرائض کو دیانت داری سے انجام دینے ہی کا نتیجہ تھا کہ عرب جیسی ضعیف اور کمزور قوم صفحۂ ہستی پر ایک متمدن، مضبوط اور جفا کش مسلم قوم بن کر اُبھری۔

جو شخص جھوٹ بولتا ہے اور اپنے وعدے کا پاس نہیں کرتا اور جو فریب دیتا ہے اور بددیانتی سے کام لیتا ہے اور جو شخص رشوت لیتا ہے اور اپنے مفاد کے لئے دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے تو یہ ایسی صورت ہے جس پر ہر وقت ہمارا اجتماعی ضمیر ملامت کرتا ہے اور ہمیں ایک اندرونی کھوکھلے پن کا احساس دِلاتا ہے۔ قومی اعتبار سے ایک مطمئن وجود اور مطمئن معاشرہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان قومی امراض پر غلبہ حاصل کریں اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے، جب ہم وقت کی اہمیت کا احساس کریں۔

ہر قوم کا ایک اجتماعی ضمیر ہوتا ہے اور جو قوم سب کچھ حاصل کر لے، لیکن اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرم قرار پائے وہ اپنا سر فخر سے بلند نہیں کر سکتی، قوموں کے فنا اور عروج و زوال کا راز ان کی اخلاقیات میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ صرف مادی ترقی اگر کافی ہوتی تو روم و یونان اپنی مادی عظمت اور شان و شوکت کے نقط�ۂ عروج پر پہنچ کر ایسے نہ مٹ جاتے، کہ تاریخ میں صرف ان کی داستان رہ گئی، اس اخلاقی انحطاط کا علاج یہ ہے، کہ ہم وقت کی اہمیت کا احساس پیدا کریں اور یہ اُس وقت ہو سکتا ہے، جب ہم اپنے ضمیر کو اپنے عمل سے ہم آہنگ کریں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -