جمعۃ الوداع۔۔۔یوم القدس

جمعۃ الوداع۔۔۔یوم القدس

  

قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے تجدید عہد کا دن

پیر محمد تبسم بشیر اویسی

اسلام میں جمعہ کے دن کا بڑا مقام اور درجہ ہے ۔یہ ہفتے کے تمام دنوں کا سردار ہے جمعہ کے دن کا خصوصی امتیاز اور شرف صرف امت محمدیہ کو عطا کیا گیا کسی اور امت کو نہیں بخشا گیا ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت نقل فرمائی ہے :رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سب سے بڑا اور افضل دن جس میں سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے ۔اسی دن آدمؑ کی تخلیق ہوئی اور اسی دن وہ جنت میں داخل کئے گئے ۔‘‘

امام حاکم اور امام ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں یہ حدیث ذکر کی ہے کہ حضرت اوس بن اوسؓبیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سب سے افضل دن جمعہ ہے اسی دن آدم علیہ السلام تخلیق کئے گئے اور اسی دن فوت ہوئے ۔اسی دن صورپھونکا جائے گا۔ اسی دن قیامت قائم ہو گی ۔اسی دن مجھ پر درود بکثرت پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود شریف مجھ پرپیش کیا جاتا ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ آپ پر درود شریف کیسے پیش کیا جائے گا۔ حالانکہ آپ فوت ہو چکے ہوں گے ۔آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اجساد انبیاء کو کھانا حرام کر دیا ہے ۔‘‘ (شرح مسلم للسعیدی ، جلد دوم صفحہ621)

یہ تو عام جمعۃ المبارک کی فضیلتیں ہیں تو رمضان المبارک کے جمعۃ المبارک کی کیا شان ہو گی اورپھر رمضان المبارک کے جمعۃ الوداع تو سب پر فضیلت و برتری پا جاتا ہے ۔

رمضان المبارک کا آخری جمعہ اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اب ان ایام کے الوداع ہونے کا وقت آگیا جن میں مسلمانوں کے لئے عبادات کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا گیا تھا ۔اس اعتبار سے رمضان المبارک کے جمعہ کا اجر و ثواب بھی بہت زیادہ ہے ۔پھر اس جمعۃ الوداع کا معاملہ تو یہ ہے کہ مومن سو چتا ہے کہ اب آئندہ سال تک ایسا فضیلت او ربرکت والا جمعہ نہیں آئے گا ۔

یہی وجہ ہے کہ عامۃ المسلمین جمعۃ الوداع کو بڑے اہتمام اور بڑے ذوق و شوق سے ادا کرتے ہیں ۔ملک و قوم کی بھلائی اور ترقی کے لئے خصوصی دعائیں مانگتے ہیں اور اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل خاص اور رحمت سے ماہ رمضان کی عبادات قبول فرمائے اور ان کو اجر و ثواب سے نوازے ۔

آج دنیا کی ہر قوم اپنی پوری قوت اس مقصد کے لئے صرف کر رہی ہے کہ ان کے افراد میں اتحاد عمل پیدا ہو ۔ان کی سوچ میں یگانگت اور ان کی حرکات میں ہم آہنگی پیدا ہو ۔ وہ بیک وقت ایک آواز پر بیٹھ جائیں اور ایک آواز پر سب کے سب کھڑے ہو جائیں ۔اندازہ کریں کہ جس قوم میں یہ سب باتیں ان کے دین کی برکت سے خود بخود موجود ہوں اور وہ ان سے خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہ کر ے ۔وقت آنے پر ان سے ملی فوائد حاصل نہ کر سکے تو اس قوم کو بے روح نہ کہیں تو اور کیا کہیں گے ! مسلمانوں کے اندر ان کی حرکات و سکنات میں یہ ہم آہنگی اور اطاعت امیر کی سپرٹ اسی لئے پیدا کی گئی ہے کہ ان کے قلوب و اذہان مز کی ہوں ،ان کی روح میں بالیدگی پیدا ہو وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے احکام اپنے سامنے رکھیں ۔ان کا جھکنا اسی کے لئے ہو۔ ان کا اُٹھنا اسی کے لئے ہو ۔ان کی قوتیں کمزوروں کی حفاظت کے لئے ہوں اور ان کی توانائیاں ضعیفوں کے حقوق کی نگہداشت میں کام آئیں ۔

آپ اندازہ لگائیں کہ رمضان المبارک کا یہ آخری جمعہ فوائد ملی کے اعتبار سے اپنے اندر کس قدر اہمیت رکھتا ہے ،رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی مسلمانوں میں جسمانی اور روحانی انقلاب پیدا کرنے کی مشق کا آغاز ہو جاتا ہے ۔انہیں خالص مجاہدانہ زندگی کا خوگر بنانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔ان کی نگاہوں کو خیانتوں سے اور ان کے دلوں کو کدورتوں سے پاک کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔دن کے وقت ان سے حلال اور پاکیزہ چیزیں بھی چھڑوادی جاتی ہیں ،تاکہ یہ ماہ مبارک گزرنے کے بعد ان کے نفس حرام چیزوں کی طرف راغب نہ ہوں ۔پھر جمعۃ الوداع کے موقع پر انہیں ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے کہ وہ مہینہ بھر کی مشق کا جائزہ لیں اور پوری دیانتداری کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں ۔اس انقلاب کا جو ان کے اندر پیدا ہوا ہے ۔مرکزیت اتحاد اور اطاعت امیر کے مظاہرے سے تجدید ایمان کریں اور خالق کائنات کے حضور اس کی عملی شہادت پیش کریں ۔تربیت یافتہ ان مقدس انسانوں کی جماعت زندگی کے میدان میں جس مقصد کو بھی لے کر آگے بڑھے گی کامیاب و کامران ہو گی ۔

جمعۃ الوداع کی نماز میں عامۃ المسلمین بڑی کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔ان میں کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو سال بھر باقاعدگی سے نماز نہیں پڑتے رہے ۔لیکن آ ج مسجد میں آئے ہوئے ندامت کی بھاری گٹھڑی اٹھائے ہوئے آئے ہیں ۔وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے کہ اے اللہ !سال گزشتہ میں ہم سے جو غلطیاں ،کوتاہیاں اور تقصیریں سرز دہوئی ہیں ،بالخصوص نمازوں کے سلسلے میں جو سستی ہو ئی ہے ،وہ اپنی رحمت خاص سے معاف فرما دے ۔ان توبہ کرنے والوں میں کئی ایسے ہوتے ہیں جو اس عفو طلبی اور اظہار پشیمانی کے بعد آئندہ سچے اور پکے نمازی بن جاتے ہیں ۔

آج جمعۃ الوداع ہے جو انتہائی عظمت و رحمت کا دن ہے۔ اسی طرح جمعۃ الوداع کے دن پوری دنیا کے مسلمان اس عظیم وبابرکت سال کے سب سے افضل ترین دن قبلہ اول کی آزادی کے لئے جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے طور پر مناتے ہیں اور تجدید عہد کرتے ہیں کہ وہ قبلہ اول بیت المقد س یعنی مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے ہر ممکن جدو جہد کریں گے۔

بیت المقدس ایک مقدس شہر یروشلم میں قائم اس عظیم عمارت کا نام ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام آسمانی مذاہب کے لئے بھی مقدس اور محترم ہے ۔ مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان اسی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے ۔جب محبوب خدا ،شافع روز جزا ،حضور رحمت للعالمینﷺ نے خواہش کا اظہار کیا کہ خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کی جائے تو رب کائنات نے خانہ کعبہ کو قبلہ کا عظیم درجہ عطا فرما دیا اور مسلمان خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے ۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ نبی کریم ﷺ کے چاہنے سے خالق کائنات تبدیلی قبلہ کا حکم صادر فرمادیتا ہے لہٰذا چاہت مصطفےٰ ﷺ اُصول شریعت کا درجہ رکھتی ہے۔

مسجد اقصیٰ کا ذکر قرآن پاک میں 15ویں پارے کے شروع میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور رحمت عالم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو معراج جیسے عظیم معجزے سے سرفراز فرمایا تو پہلے آپﷺ مسجد حرام (بیت اللہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس )تک کا سفر طے کرکے بیت المقدس میں تشریف لائے ۔ مسجد اقصیٰ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور ﷺ نے یہاں حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک تمام انبیاء کرام اور رسولوں کی امامت فرمائی اور کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء اور رسولوں نے آپ ﷺکی امامت میں نماز ادا فرمائی ۔ اسی اعزاز پر آپ کو امام الانبیاء کا شرف حاصل ہوا ۔مسجد اقصیٰ ہی سے آپ ﷺ معراج کے اگلے سفر کے لئے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور لامکاں تک چا پہنچے ۔مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اوروہ نشانیاں جہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے برکتیں نازل ہوتی ہیں انبیاء کرام کے مزارات ہیں ۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش اسی سر زمین پر ہوئی ۔قبل ازیں بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء کرام یہاں تشریف لائے ۔اسی وجہ سے اس کو انبیاء کی سر زمین کہاجاتا ہے ۔ یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں سلیمانؑ نے ہیکل سلیمانی تعمیر کروایا تھا جو مسجد اقصیٰ کے قریبی علاقہ میں واقعہ ہے

بیت المقدس مسجد اقصیٰ قبلہ اول دنیا کی ایک چوتھائی قوم ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے لئے انتہائی متبرک ، محترم اور دینی و روحانی مقام ہے اور ہر مسلمان کا دل مچلتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کرے اور یہاں نماز ادا کرے ۔

جمعۃ الوداع یوم القدس کے موقع پر پوری دنیا کی مسلمان تنظیمیں ،جماعتیں اور افراد بیت المقدس کی آزادی کے لئے احتجاجی جلسے ،جلوس ،مظاہرے اور ’’القدس ‘‘ریلیاں نکالتے ہیں اور اپنے دلی جذبات اور احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ان کو یوم القدس کے طور پر منانے کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ہوا ۔انقلاب ایران کے بانی نے کہا تھا کہ’’ یوم القدس ایک ایسا دن ہے جسے بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے۔اسے صرف سر زمین قدس سے ہی وابستہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ ظالم اورمظلوم کے درمیان مقابلے کا دن ہے ۔ ‘‘کیونکہ نصف صدی کے قریب بیت المقدس پر یہودی قبضہ اور بیت المقدس کے تقدس کی پامالی غیرت مسلم کو کھلا چیلنج ہے ۔غیور مسلمانو! بیت المقدس کی حرمت اور حفاظت در حقیقت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے ۔ملت اسلامیہ کے حکمرانو! بیت المقدس کی آزادی ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور آج مسجد اقصیٰ پکار پکار کر کہہ رہی ہے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور سپہ سالاروں میں کوئی سلطان صلاح الدین ایوبی ،محمد بن قاسم یا محمود غزنوی جیسا سچا ،کھرا ،دلیر اور نڈر و بہادر مسلمان حکمران ،سپہ سالار ہے جو قبلہ اول کو یہودیوں کے نرغہ سے آزاد کر ا سکے ۔یوم القدس عالم اسلام کے مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ آئیے! بیت المقدس کی آزادی کے لئے پوری دنیا کے مسلمان اپنے تمام تر اختلافات یکسر بھلا کر پوری طرح متحد ہو جائیں اور بیت المقدس کی آزادی ہر مسلمان کے دل کی آواز اور نعرہ بن جانا چاہئے

کیونکہ اب ہم ہی صلاح الدین ایوبی کے پیرو کار ہیں ۔ہم اسلاف کی یادوں کو تازہ کر کے اور ملتِ اسلامیہ کو ہر امتحان سے نجات دلا کر ہی حقیقی مسلمان اور فرض شفاس کہلا سکیں گے ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -